جب ہم سے اپنے نوجوانوں کو راہ راست پر لے آتے ہیں تو کبھی نہ کبھی کچھ سادہ اوراق پر اپنے سب تجربات لکھتے ہیں۔ آپ نے آخری چارہ کار کے طور پر کے پروگرام کی طرف رجوع کیا تھا لیکن آپ کو اپنی توقعات سے زیادہ ملا حتیٰ کہ آپ کا طرز حیات بن گیا۔

آپ ایک ایسے مسئلے سے دوچار تھے جو آپ کی سکت سے زیادہ تھا۔ اب آپ کو اعتماد ہے کہ آپ اپنے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کر سکتے ہیں اور اپنی عام سوچوں اور خیالوں کو قابو میں رکھ سکتے ہیں۔ آپ جان گئے ہیں کہ اگر آپ نشے کے مریض کے قول و فعل سے رنجیدہ ہو جائیں گے تو نہ صرف آپ دنیاداری کے قابل نہیں رہیں گے بلکہ آپ مریض کی بھی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے۔

آپ نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ حتی الوسیع رنجیدگی سے بچیں گے!

آپ مریض کی بیماری کو محض بے راہ روی سمجھ کر اسے راہ راست پر لانے کی کوششیں کرتے رہے۔ گو آپ یہ کام پورے خلوص دل سے کرتے رہے لیکن شاید آپ کا طرز عمل مناسب نہ تھا۔

اب آپ کو یہ بتایا گیا ہے کہ مریض پر الزام تراشی اوراس کی بے عزتی سے اس خیال کو ہی تقویت ملتی ہے کہ وہ بیمار نہیں بلکہ گناہ گار اور سیاہ کار ہے، جوابی طور پر وہ دعویٰ کرتا ہے کہ آپ بھی غلط ہیں اور کیا ہی اچھا ہو کہ اس پر لگنے والا الزام محض الزام بن کر رہ جائے۔

اگرآپ کسی پرسکون گوشے میں بیٹھ کر ٹھنڈنے دل و دماغ سے اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو آپ کو بہت حیرت ہو گی۔ آپ کو لگے گا کہ جیسے یہ آپ کی زندگی کے نہیں بلکہ کسی کتاب کے بکھرے ہوئے اوراق ہوں۔ اب آپ کو اپنے گھریلو حالات کا اتنا غم نہیں ہے لیکن ماضی میں آپ ہر روز اپنی توانائیاں اسی غم میں ضائع کر رہے تھے۔
آپ غلطیوں سے سیکھ سکتے ہیں بشرطیکہ آپ انہیں دہرانے کی کوشش نہ کریں، انتہائی تحمل سے جدوجہد کرتے رہیں اور یہ یاد رکھیں کہ یہ سب کچھ آپ مریض کیلئے نہیں خود اپنے لئے کر رہے ہیں کیونکہ آپ کتنا ہی انکار کریں یہ سچ ہے کہ آپ مریض کے نہیں بلکہ اپنے جذبات کے ہاتھوں ٹرپتے ہیں۔ اب آپ نے یہ پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اشتعال کی صورت میں بھی اپنے آپ پر قابو رکھیں گے۔ آپ خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو انتقام کی آگ کو دبانے کی توفیق دے اور آپ کو اپنے خوابوں جیسا انسان بنا دے۔

آپ زندگی کابوجھ اُٹھاتے تھک گئے ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ اسے دنوں میں تقسیم کر دیں۔ آپ کے اعصاب اتنے شل ہیں کہ اسے دنوں کے بجائے گھنٹوں یا منٹوں میں تقسیم کر دیں گے۔ آپ ساری زندگی کے بارے میں یکمشت سوچنا چھوڑ دیں تو اچھا ہے اور ایک بات بار بار آپ اپنے آپ کو یاد دلاتے رہیں گے کہ آپ کو دوسروں کی زندگیوں پر زیادہ اختیار نہیں ہے لیکن جتنا بھی اختیار ہے اسے بہترین نتائج کیلئے استعمال کریں گے۔

آپ میں سے کچھ کی محفل میں اس لئے آئے تھے کہ نشہ بازی کی وجہ معلوم کر سکیں۔

آپ کو یقین تھا کہ مریض آپ سے نہیں بلکہ نشہ سے محبت کرتا ہے یا پھر آپ اپنے آپ کو مریض کے نشے کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ آپ کو یہ جان کر اطمینان ہوا کہ نشہ بازی محض ایک مرض ہے۔ آپ نہ تو یہ مرض مریض میں پیدا کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس پر قادر ہیں کہ خدا اور اچھے ساتھیوں کے تعاون کے بغیر اس مرض پر قابو پا سکیں۔
بیشک آپ کی کچھ خاص کوششیں مریض کی بحالی پر اچھا اثر ڈالتی ہیں!

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5