نوجوانوں کیلئے چرس ایک لنگوٹیے کی طرح ہوتی ہے تاہم جب چرس انہیں مطمئن نہیں کرتی تو وہ زیادہ تیز اور سخت نشے کو گلے لگا لیتے ہیں۔ لیکن چرس کا ساتھ نہیں چھوڑتے اُس کا احترام جاری رکھتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ تمام والدین یہ آخری فقرہ دوبارہ غور سے پڑھیں کیونکہ معاشرہ میں منشیات کی دستیابی کے حوالے سے یہ بہت تلخ حقیقت ہے کہ والدین کو منشیات کا شک پڑھنے پر اپنے بچوں کے کمروں کی تلاشی لینے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح آپ موثر بات چیت کے ذریعے نشے کا استعمال ابتدائی مراحل میں روک سکتے ہیں۔ نوجوان چرس کی گہری عِلت کے بعد ہی ہیروئن کا اندھیرا رگوں میں اتارنا سیکھتے ہیں ۔ اپنے بچے میں چرس کے استعمال کی بے کنی کیجئے ورنہ ہو سکتا ہے چرس اس کی زندگی میں آنے والے نشے کے عذابوں کا نقطہ آغاز بن جائے۔ کے تحت آپ قدم آگے بڑھائیں گے تو اپنے بگڑے ہوئے چرس پینے والے مشکل بنسے سے چرس جیسے مشکل موضوع پر بات کرنے کے لیے آپ کو کچھ ٹرینیگ کی ضرورت پڑے گی۔
کے تحت آپ ضروری اِقدامات کریں گے تو آپ کے پیارے میں بگاڑ یہیں رُک جائے گا اس کی اور اِس کی زندگی ہمیشہ کے لیے صحیح نہج پر چلنا شروع ہو جائے گی۔ یوں آپ اپنے پیارے کو نا صرف چرسی بننے سے بچا لینگے بلکہ سینکڑوں دوسرے نوجوانوں کی زندگی بچ جائے گی۔

ماہرین نفسیات نوجوانوں کے اس قسم کے رویوں اور نشے کی بیماری میں مبتلا ہونے کی بہت سی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ میز کی دوسری طرف بیٹھ کر والدین کو باتیں بتانا اور انہیں اپنے بچوں کے رویوں کا ذمہ دار ٹھہرانا بہت آسان ہے لیکن میز کے اس طرف والدین کی حیثیت سے یہ الزام قبول کرنا کہ اولاد کو بگاڑنے کے ذمہ دار وہ ہیں، آسان نہیں ہے۔ کسی کو بھی وثوق سے یہ معلوم نہیں کہ نوجوان کن وجوہات کی بنا پر ان رویوں اور نشے کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ شواہد بتاتے ہیں کہ آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا جو آپ کے بچوں کے نشہ کرنے اور اس قسم کے رویوں میں مبتلا ہونے کی وجہ بنا ہو لیکن اس الزام سے آپ کی راتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے اور آپ صدمے سے نڈھال ہیں۔ ایسے میں مجرموں کی طرح نظریں چراتے ہوئے آپ اپنے بچوں کی نشہ سے نجات اور صحت مند زندگی کی طرف آنے میں کیا مدد کرسکتے ہیں؟

غیرصحت مندانہ رویوں کا مظاہرہ کرنے والے اور نشے کے مریضوں میں سے زیادہ تر وہ ہوتے ہیں جو موڈ اور مزاج کی خرابی سے نجات کے لیے نشے کا استعمال کرنا شروع کرتے ہیں۔ ایسے مریضوں میں مریض کو موڈ، مزاج، سوچ، توانائی اور رویوں میں شدید اُتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے۔ جو اِنہیں ایک طرح سے آفت زدہ بنا دیتا ہے۔ یہ علامتیں آہستہ آہستہ بڑھتی رہتی ہیں اور کبھی کبھی اچانک ظاہر ہوتی ہیں جس سے تمام اہل خانہ چکرا جاتے ہیں۔ نوجوان %4 سے %6 تک زیادہ شدت سے متاثر ہوتے ہیں کبھی کبھار ان میں باری باری جنون اور ڈپریشن کی علامتیں ظاہر ہوتی ہے۔ جنون کی حالت میں مریض میں تیزی آجاتی ہے، وہ سونے سے کتراتا ہے، مسلسل اور شیخی سے بھرپور گفتگو کرتا ہے، زیادہ دیر تک کسی ایک کام پر توجہ مرکوز نہیں رکھ پاتا، قوت فیصلہ کم ہوجاتی ہے اور وہ خطروں سے کھیلتا نظر آتا ہے،

جب ڈپریشن کا دور آتا ہے تو مسلسل اداسی اور روتے دھوتے رہنے کے علاوہ چڑچڑا پن اور غصہ نمایاں ہوتا ہے۔ ذہن میں موت اور خود کشی کے خیالات آتے رہتے ہیں، جنون اور ڈپریشن کی انتہاؤں کے درمیان مکمل صحت مند نظر آنا بھی اس بیماری کا حیران کن حصہ ہے۔ یہ مریض بائی پولر کی شکل بھی اِختییار کر لیتا ہے۔ ایسا مریض بہت کچھ کرتا نظر آتا ہے لیکن گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نتیجہ صفر سے بہت نیچے نظر آتا ہے۔ یہ بیماری بنیادی طور پر موروثی ہے، ماحول اور بیرونی عوامل بھی اس بیماری کے ظاہر ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس مرض میں مبتلا اکثر نوجوان سحر انگیز اور مسحور کن شخصیت کے مالک ہوتے ہیں اس لیے ان پر آسانی سے کسی ذہنی و اعصابی مرض کا شبہ نہیں پڑتا، افسوس ناک امر یہ ہے کہ اول تو علاج نہیں ہوتا، اگر ہو تو کئی سال بعد اور سرسری نوعیت کا۔ اس دوران بیماری شدید سے شدید تر ہوتی چلی جاتی ہے اور مریض گھر اور گھر سے باہر تباہ کن رویوں کے ساتھ زندگی گزارتا رہتا ہے۔ شروع ہی میں صحیح تشخیص اور بروقت علاج سے مریض کو بہترین مدد ملتی ہے۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3
  • 4
  • 5