علاج کی غیر موجودگی میں حالات بگڑتے چلے جاتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ بیماری کے آغاز اور علاج میں اوسطاً دس سال کا وقفہ ہوتا ہے۔ اس دوران پے در پے حادثات ہوتے رہتے ہیں، خودکشی کرنے اور گھر سے بھاگ جانے کا خطرہ مریض کے سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔

موڈ اور مزاج کی خرابی میں مبتلا تقریباً سبھی نوجوان ذہنی اذیت کم کرنے کیلئے نشہ آور اشیاء اور شراب کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے % 90 کو منشیات کرنے میں مدد دیتی رہتی ہے جبکہ باقی % 10 نشے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور یوں وہ ایک دوسری مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ جیسے کسی کے تن بدن میں آگ لگی ہو اور وہ اسے بجھانے کے لیے سمندر میں کود پڑے اور ڈوب جائے۔ ایسی صورت میں جب نشے کی بیماری اور بگاڑ کے پس منظر میں موڈ اور مزاج کی کوئی بیماری ہو تو ہر دو بیماریوں کا ایک ہی وقت میں علاج ضروری ہے۔ صحیح اور بروقت علاج مریض کی زندگی میں استحکام اور خوشحالی لاتا ہے۔ ماضی کے بہت سے کامیاب اور مشہورلوگو ں میں اس بیماری کی علامات دیکھی گئی ہیں۔

ہر چند کہ بائی پولر ڈس آرڈر میں تشخیص کیلئے کوئی بلڈ ٹیسٹ یا دماغ کا سکین مدد نہیں کرتا لیکن پھر بھی ٹھوس علامتی بنیادوں پر تشخیص کی جاتی ہے۔ دراصل یہ ایک تربیت یافتہ اور تجربہ کار معالج کا تجزیہ ہوتا ہے۔ تشخیص کیلئے ایسے معالج کی تلاش کرنی چاہیے جو تربیت اور تجربے سے لیس ہو، علاج کے تمام معاملات پر بات کر اور سُن سکے اور آسانی سے رابطے میں آسکے۔ خوشخبری یہ ہے کہ موڈ اور مزاج کی بیماریوں کا موئثر علاج کیا جا سکتا ہے۔ اچھے علاج میں ادویہ، آگاہی، کونسلنگ اور نفسیاتی علاج شامل ہے۔ مناسب علاج کے علاوہ گھر اور تعلیمی ادارے میں بھرپور مدد ملے تو بہت سے نوجوان اس بیماریوں کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔

والدین کیلئے اس حقیقت کا مان لینا کہ ان کے پیارے کو موڈ اور مِزاج کی بیماری ہے یقیناً آسان نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ تشخیص میں تاخیر ہوتی ہے۔ تشخیص سے پہلے بہت سے قیمتی سال نوجوان کے غصے، مسلسل گرتی ہوئی کارکردگی اور بگڑے ہوئے رشتوں کی کشمکش میں ضائع ہوجاتے ہیں، ایسے حالات میں کامیاب تشخیص مریض اور اہل خانہ کی زندگی میں خوش آئند موڑ لے کر آتی ہے۔ اگر موڈ اور مزاج کی خرابیوں، اور نشے کی بیماری اور بگڑے ہوئے رویوں میں مبتلا نوجوانوں کے والدین خصوصی ٹریننگ سے گزریں تو وہ بڑی آسانی سے پیشہ ور ماہرین کی طرح اس بیماری کی علامتوں کو اُبھرنے سے روک سکتے ہیں۔

کچھ دیگر دماغی امراض جیسے ڈپریشن ، شیزو فرینیا اور بے چینی بھی نشہ کا نقطہ آغاز بن سکتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ نشہ آور ادویات اول اول طبی ضرورتوں کیلئے تجویز کی جاتی ہے لیکن مریض لاعلمی اور معصومیت میں استعمال جاری رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویہ سے نقصان کیسے ہو سکتا ہے؟ پہلے پہل تو سرور اور مزہ ملتا ہے اور بعد میں یہی دوائیں گلے کا پھندا بن جاتی ہیں اب تک ان گنت خاندان ان ادویات کی ایڈکشن کی وجہ سے تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان دواؤں میں ٹرینکلائزر اور مصنوعی نارکاٹکس بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ پاکستان میں لوگ یہ ادویات بغیر نسخے کے میڈیکل سٹور سے خریدتے رہتے ہیں۔ اس پر کوئی روک ٹھوک نہیں۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • اگلا صفحہ:
  • 4
  • 5