نشے کی بیماری کئی حوالوں سے جانی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں اس بیماری کا تعارف ہیروئن کے حوالے سے ہوا ہے لیکن دنیا کے بیشتر ممالک میں لوگ اسے شراب، کوکین اور دیگر منشیات کے حوالے سے بھی پہنچانتے ہیں۔ مختلف مریضوں میں نشے کی بیماری مختلف مرحلوں پر نظر آتی ہے۔ اس بیماری اور ان رویوں کے نقصانات میں دنگے فساد، ٹریفک کے حادثات، آتشزدگیاں‘ چوریاں‘ ڈکیتیاں‘ لاقانونیت‘ کالے دھندے‘ طلاقیں‘ خودکشی اور قتل کے سانحوں پر نظر ڈالیں تو ڈرا دینے والے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں۔ بیماریوں میں سے یہ بیماری خاصی قاتل واقع ہوئی ہے۔

سب سے پہلے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے مکمل بیماری سمجھا جائے۔ کسی مرض کو صرف مرض کہنا اور بات ہے اور اس سے مرض جیسا سلوک کرنا مختلف بات ہے۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے کیا آپ نشہ کی بیماری اور شوگر کی بیماری کے بارے میں ایک جیسی سوچ اور عمل رکھتے ہیں۔

برسوں پہلے طبی ماہرین نے نشہ کی بیماری کے ضروری اجزاء دریافت کر لئے تھے۔ یہ بیماری آہستہ آہستہ بڑھتی ہے، تادیر برقرار رہتی ہے اور علاج کی عدم موجودگی میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ اس بیماری میں کسی حد تک موروثی عنصر کا بھی ہاتھ نظر آتا ہے تاہم نشہ نہ کیا جائے تو موروثی عنصر دبا رہتا ہے اور اگلی نسل میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اس بیماری میں علامات کی پہچان نہ ہونے سے تشخیص میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس بیماری میں خود مریض مرض کی موجودگی سے انکار کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ مرض کا جادو سر چڑھ کر بولنا شروع کر دیتا ہے۔

بلا شبہ بحالی و خوشحالی کیلئے نشہ چھوڑنا ہی واحد علاج ہے اس مرض میں فی الحال کوئی ایسا علاج موجود ہے جو اِنہیں نقصان اُٹھائے بغیر نشہ کرنے میں مدد دے۔ اگر ایسا علاج ہوتا تو ہم مریض کو ہر قسم کے نشے سے مکمل پرہیز کی ہدایت نہ کرتے بلکہ علاج کی مدد سے اسے پھر سے نارمل طریقے سے نشہ کرنے کے قابل بنا دیتے۔ اگر ہم ایسا کر سکتے تو مریض ہمارا لوہا مانتے اور ہاتھ چومتے۔ دنیا بھر میں نشے کی علاج گاہیں مکمل پرہیز اور نشے کے بغیر خوش و خرم رہنے کی تربیت دیتی ہیں، ساتھ ہی ساتھ کچھ امور میں مہارت بھی مہیا کرتی ہیں، اس لیے مریض علاج پر آمادہ نہیں ہوتے، وہ نشے کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر پاتے اِس لیئے وہ اِن مہارتوں کے جو نشے کے بغیر خوش و خرم زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہیں اس جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتے۔

نشہ کرنے کی وجوہات تلاش کرنے والوں کی بات چیت مختلف مفروضوں کے گرد گھومتی ہے۔ اس میں ماضی کے بکھیڑوں سے لے کر حال کے پیچیدہ مسائل کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ فرض کریں آپ مریض کے نشے کرنے کی اصلی اور وڈی وجہ دور بھی کر دیں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔نشے کی بیماری اب اس وجہ کی محتاج نہیں، یہ مرض اب اپنے تسلسل کے معاملے میں اسی طرح خود کفیل ہے جس طرح ماچس کی تیلی بجھ جانے کے بعد بھی چولہا جلتا رہتا ہے۔ علاوہ ازیں اُلجھنوں کا تدارک کیا ہی نہیں جا سکتا خصوصاََ اگر اُن کا تعلق ماضی بھید سے ہو۔

نشے کے صحیح علاج میں منزل مقصود کو نگاہ سے اوجھل نہیں ہونے دیا جاتا۔ اچھا علاج مختصر اور تیر با ہدف ہو تا ہے۔ تھوڑی سی مدت میں ہی بہت کچھ حاصل کیا جاتاہے اور مریض کو مثبت نتائج کے حصول کیلئے مدتوں انتظار نہیں کرنا پڑتا۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • اگلا صفحہ:
  • 5