ہمارے موڈ اور مزاج کو بنیادی طور پر کچھ کمیکلز کنٹرول کرتے ہیں ان قدرتی کیمکلز کے اثرات ہمارے موڈ اور رویوں میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں، ہمارا مزاج اور رویے جہاں حالات سے متاثر ہوتے ہیں وہاں ان کیمکلز کی دستیابی یا عدم دستیابی سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ جب کوئی نیا اور بیرونی کیمیکل ان قدرتی کیمیکلز میں شامل ہوتا ہے تو یہ ان باقی کیمیکلز کو مختلف انداز میں متاثر کرتا ہے۔

نشے کے مرض میں مبتلا شخص کے دماغ پر ان بیرونی کیمیکلز کے اثرات طویل عرصے تک رہتے ہیں اور اس کے دماغ کی کیمسٹری کو تبدیل کر دینے کا باعث بنتے ہیں۔

نشے سے بحالی کیلئے یہ ضروری ہے کہ نشے کو بنیادی، دائمی، بڑھنے والی اور جان لیوا بیماری سمجھا جائے۔ اس نظریے کو زبانی جمع خرچ کے طور پر نہیں بلکہ تہہ دل سے قبول کیا جائے۔ سوچ کی یہی بنیادی تبدیلی آپ کو نشے کے مرض کی اصل شکل و صورت سے آشنا کرتی ہے۔

1۔ بنیادی بیماری سے مراد وہ بیماری ہے جو کسی دوسری بیماری کے نتیجے میں وجود میں نہیں آتی۔ ایسی بیماری اپنی وجہ آپ ہوتی ہے۔ عام تاثر کے برعکس نشے کی بیماری تشویش، ڈپریشن یا اعصابی تناؤ کی وجہ سے شروع نہیں ہوتی، ہاں نشے کا اِستعمال اِن وجُوہات سے شروع ہو سکتا ہے۔ نشے کی بیماری کِسی نشہ کرنے والے میں تب شروع ہوتی ہے جب اُس کے جسم میں نشے سے نمٹنے کا نظام ناکارہ ہو جاتا ہے۔ اولاً جسم نشے کو تیزی سے ضائع کرتا ہے، مریض کو نشہ نہیں ہوتا اور وہ مزید نشہ کرتا ہے۔ کچھ عرصے بعد نشے کی بیماری ایک اور کروٹ لیتی ہے، جسم میں زہریلے مادے بننے لگتے ہیں اور بالآخر مریض کی مت ماری جاتی ہے۔

2۔ دائمی بیماری سے مراد یہ ہے کہ اب مریض کو کسی بھی علاج سے نارمل اور محفوظ طریقے سے دوبارہ نشہ کرنے کے قابل نہیں بنا سکتے۔ ہاں! اچھے علاج سے اسے نشے کے بغیر خوش و خرم رہنا سکھا سکتے ہیں۔

3۔ بڑھنے والی بیماری گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بد سے بدتر ہوتی جاتی ہے۔ نشے کے مریضوں کی زندگی کا جائزہ لینے سے مرض کا بڑھتا ہوا اثر واضح ہو جاتا ہے۔ بعض مریض یہ سمجھنے میں کوتاہی برتتے ہیں۔ علاج کے بعدوہ کئی سال تک منشیات سے پرہیز کرتے ہیں، پھر اچانک ایک روز انہیں سوٹا ’’لگانے‘‘ یا ’’چسکی‘‘ لینے کا خیال آتا ہے اور وہ دوبارہ مرض کے چنگل میں گرفتار ہو جاتے ہیں یعنی کچھ عرصہ نشہ چھوڑنے کے بعد جب مریض بظاہر بھلا چنگا نظر آتا ہے، حالانکہ وہ اب بھی نشہ کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ پس اگر وہ اپنے آپ کو صحت مند سمجھ کر نشہ کرتا ہے تو پہلے کی طرح ہی سنگین نتائج نکلتے ہیں۔

4۔ جان لیوا بیماری کا مطلب ہے کہ یہ جان سے مارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جان سے مارنے کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ نشے کے کچھ مریض طبعی اور کچھ غیر طبعی وجوہات کی بناء پر جان ہار دیتے ہیں۔ نشے کے مریضوں میں حادثات اور خود کشی عام ہے۔ والدین تو بس سمجھیں کہ زندہ ہی درگور ہو جاتے ہیں۔ تاہم یہ ساری صرتحال بدل سکتی ہے۔ بشرطیکہ آپ حقائق لیں اور اِن پر عمل پیرا ہو جائیں۔ یاد رکھیے! کہ صحیح طریقہ کار کو جان لینا اور اِس پر عمل پیرا نہ ہونا ایسے ہی ہے جیسے کے ٹھنڈی ہوا کہ جھونکوں میں سانس لینے سے اِنکار کر دینا۔