کچھ لوگوں کو یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ ہمارے بچے نادان ہیں، ذمہ داریوں کا بوجھ پڑے گا تو خود ہی ذمہ دار ہو جائیں گے حالانکہ وہ بالغ ہو جانے کے باوجود کچھ خاص وجوہات کی بناء پر بلوغت کو نہیں پہنچتے۔ یہی نہیں بلکہ وہ چرس اور دیگر منشیات کے استعمال،اپنے غیرسنجیدہ، نامناسب، بگڑے ہوئے رویوں کے باعث اور بری صحبت کی وجہ سے اپنے والدین کی جان کا روگ بھی بن جاتے ہیں ۔

بری صحبت کے باعث اور چرس کے متواتر استعمال سے سیکھنے کی صلاحیت تباہ ہوجاتی ہے۔ تعلیمی استعداد اور قابلیت کے درجوں میں بھی تیزی سے کمی آنا اور سمجھ بوجھ دھندلا جاتی ہے۔ چرس کا زیادہ اور متواتر استعمال منطقی سوچ کو متاثر کرتا ہے۔ غور و فکر کا عمل بتدریج بدل جاتا ہے۔ ان رویوں کی سب سے بڑی قیمت اس وقت ادا کرنا پڑتی ہے جب اس دوران کچھ سیکھنے یا مسائل حل کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ نوعمر افراد میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے کیونکہ جو دن وہ غیر اخلاقی کاموں میں گزارتے ہیں وہی دن مہارتیں سیکھنے کے ہوتے ہیں۔ خوشگوار حسیات اور حسوسات قلیل تر اور آدم بیزاری کے وقفے طویل تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مزید علامتوں میں اضطراب، ناگہانی خوف و ڈر، شخصی بگاڑ اور ڈپریشن وغیرہ شامل ہیں۔

چرس میں 421 کیمیلز پائے جاتے ہیں لیکن اصل کیمیکل جس کی خاطر لوگ چرس پیتے ہیں ٹی ایچ سی کہلاتا ہے ۔ 1960 میں چرس کی جو قسم میسر تھی اس میں ٹی ایچ سی کا عنصر %0.5 تھا۔ 80 اور 90 کی دہائیوں میں چرس ایک خطرناک نشے کی شکل اختیار کر گئی اور افسوس کی بات تو ہے کہ عام دستیابی کے علاوہ اس میں ٹی ایچ سی کا عنصر بھی بڑھتا چلا گیا اب جب نئی صدی کروٹ لے چکی ہے تو چرس کی بہت سی اقسام میں ٹی ایچ سی کا عنصر %50 سے بھی زیادہ ہے۔ کچھ لوگوں کے چرس سے اس قدر گھائل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نام تو وہی ہے لیکن یہ پہلے سے 100 گنا زیادہ طاقتور، زود اثر اور نقصان دہ ہو گئی ہے۔ آج کی چرس میں جتنا دم ہے اس کو چرس کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔

پاکستان میں نشے کے مریضوں کی تعداد سرکاری طور پر چالیس لاکھ بتائی جاتی ہے اس کا مطلب ہے کہ نشہ کرنے والوں کی حقیقی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہونی چاہیے کیونکہ نشہ کرنے والوں میں تقریباً %10 نشئی آگے چل کر نشے کے مریض بنتے ہیں۔ منشیات استعمال کرنے والے ان گنت لوگوں میں ایک بڑی تعداد چرس کی رسیاہے۔ لاعلمی کی بنیاد پر چرس کو ایک بے ضرر نشہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ آج کی چرس جسم کے تمام اعضاء کیلئے تباہی لاتی ہے۔ خصوصاً دماغ پر اس کے اثرات انتہائی مضر ہوتے ہیں۔ نوجوان تجسس اور مہم جوئی کی بناء پر چرس کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ حلقہ یاراں اور ماحول کا دباؤ ’ناں‘ کہنے والوں کو ’ہاں‘ کہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ چرس کا سب سے خطرناک اثر اس پر بتدریج بڑھتا ہوا نفسیاتی انحصار ہے۔ چرس پینے کی سب سے بڑی قیمت اس وقت ادا کرنا پڑتی ہے جب اس دوران کچھ سیکھنے یا مسائل حل کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ نوعمر افراد میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے کیونکہ جو دن وہ چرس پیتے ہوئے گزارتے ہیں وہی دن مہارتیں سیکھنے کے ہوتے ہیں۔

نوجوانوں میں والدین، کالج اور دوستوں سے متعلق پریشانیاں عام سی بات ہے۔ ان پریشانیوں سے نمٹنے کا آسان حل بے حسی کے ساتھ چرس کے نشے میں دھت ہو جانا یا آنکھیں بند کر لینا سمجھا جاتا ہے۔ اس عالم مدہوشی میں تمام مسائل کوآسانی سے بھلایا جا سکتا ہے۔ حیرت تب ہوتی ہے جب نشہ اترتا ہے اور آنکھ کھلتی ہے اور حقیقت کا سامنا کر نا پڑتا ہے تو بھی مسائل جوں کے توں موجود ہوتے ہیں۔ اب بندے کے پاس دو ہی راستے رہ جاتے ہیں یا تو وہ یہ مسائل حل کرے یا پھر دوبارہ ٹن ہو جائے یا بے حسی کا مظاہر ہ کرے، اگر خود اسے اختیار دیا جائے تو وہ عموماً دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے کیونکہ یہ آسان ہوتا ہے۔ اگر چرس ان پریشانیوں اور سوچوں کے تضادات اور کشمکش کو ختم کرنے میں ناکام ہو جائے تو پھر زیادہ زود اثر منشیات کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ ہم نے پچھلے 33 سال میں ہزاروں مریضوں کا علاج کیا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ان میں سے 90 فیصد نے نشہ کا آغاز چرس سے کیا تھا۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5