لواحقین کی حیثیت سے مریضوں کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کا بے لاگ تجزیہ بتاتا ہے کہ والدین کی حیثیت سے آپ اپنے مریض پر پے درپے، انتہائی مہلک اور زہریلے حملے کرتے رہے ہیں۔ آپ کے ہتھیاروں میں توہین آمیز لہجہ، کوسنے، الزام تراشی اور گالی گلوچ کے علاوہ مارپیٹ بھی شامل ہے۔

آپ کے روئیے ایسے تھے جیسے خود آپ میں کوئی نقص نہ ہو!

یہ قاتل روئیے ہیں جو خوشحال زندگی کی آرزوؤں کو کچل دیتے ہیں اور رشتوں کو پامال کر دیتے ہیں اور پہلے سے تباہ حال مریضوں کے احساس گناہ کو بڑھا دیتے ہیں۔ یہ روئیے خود آپ کو بھی برباد کر دیتے ہیں لیکن ہمیں امید ہے کہ اب آپ نے تہیہ کیا ہے کہ اپنی زندگی اور اپنی سوچ سے ان رویوں کو کھرچ کھرچ کر نکال باہر کریں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ روئیے آپ کے کسی کام کے نہیں، یہ ہمارا یا مریض کا کچھ نہیں سنوار سکتے۔ اب آپ بہتر طریقے سیکھیں گے یعنی صبر، مہربانی، نظم و ضبط اور نیز آپ نے یہ بھی مصمم ارادہ کیا ہے کہ آپ اپنی زندگی کو بہتر بھی بنائیں گے۔ اللہ جو تمام اچھائیوں کا سرچشمہ اور عقلِ کل ہے، آپ اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کوان اوصاف سے نواز ے جو آپ کی زندگی کو بہتر بنانے میں معاون ہوں۔

اگر آپ سراپا انتظار ہیں تو وہ ضرور اپنا کرم کرے گا!

کے پروگرام میں آنے سے پہلے ہمارا خیال تھا کہ نشے سے نجات کا انحصار صرف قوت ارادی پر ہے۔ اب آپ جانتے ہیں کہ نشے جیسی عفریت کے سامنے مسلسل بند باندھے رکھنا ممکن نہیں ہوتا جس طرح محض قوت ارادی کی مدد سے آپ مسلسل سردی یا گرمی یاسمندر کی لہروں کا مقابلہ نہیں کر پاتے اسی طرح نشے کی طلب کا مقابلہ محض وقت ارادی کے بل بوتے پر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کی کوئی حد نہیں ہوتی جبکہ آپ کی قوت ارادی کی بہرحال ایک حد ہوتی ہے۔ نشے سے نجات کیلئے ایسے طریقوں کی ضرورت ہے جو ٹف لو اوراین اے کے پروگرام مہیا کرتے ہیں۔

قوت ارادی کی مدد سے ان طریقوں کو ضرور اپنایا جا سکتا ہے جو ’’طلب ‘‘ کو بڑھنے نہیں دیتے اور ’’تروڑک‘‘ کے احساس کو بھی کم کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ مریض کا رد عمل ہی بدل جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ کامیابی سے گزرتے ہوئے ابلقِ لمحات پر سوار وہ نشے سے دوری کا سفر طے کرتا چلا جاتا ہے۔ اگر آج وہ نئے رویوں کے ساتھ ایک دن کامیابی سے گزار لے تو اگلے دن یہ کامیابی کا تجربہ اس کیلئے مشعل راہ بنتا ہے اور پھر ہر آنے والا دن اس کیلئے نشے سے پاک دنوں کے خوشگوار سانچوں میں ڈھلتا چلا جاتا ہے۔ وہ قوت ارادی سے یہ مدد لے سکتا ہے کہ اپنے رویوں کو بدلنے کیلئے آمادہ ہو جائے۔

قوت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

اس چشمے سے فیض یابی کا راز آپ کے رویوں کی مثبت تبدیلی میں پنہاں ہے۔
لہذا اب آپ کے رویوں میں تبدیلی بھی بہت اہم ہے۔ اگر آپ روکھے پن سے بات کرتے تھے تو اب آپ ارادتاً خوش مزاجی کا مظاہرہ کریں گے۔ اگر آپ نکتہ چین تھے تودوسروں کی مناسب تعریف و ستائش کو اپنے دماغ میں جگہ دیں گے۔ آپ اپنے بے مقصد شکوک و شبہات کو یقین محکم اور اعتماد میں بدل دیں گے۔ اگر آپ بوریت محسوس کریں گے تو کوئی نیا کام کریں گے اور کچھ نہیں تو آپ پرانے مشاغل کو نئے انداز میں اپنائیں گے کیونکہ غلط رویوں کو کسی بہتر چیز سے بدلنا
ازحد ضروری ہو گیا ہے۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6