ان والدین کی انجمن کا نام ہے جو اپنے بچوں کیلئے کے پروگرام کو اپناتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں یہ انجمنیں بہت مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ یہ انجمنیں کئی طریقوں سے ابھرتی ہیں۔ کچھ والدین جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ نشے کی بیماری میں مبتلا بچوں کے علاج کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے، عام طور پر وہی اس انجمن کی داغ بیل ڈالتے ہیں۔ کسی بھی جگہ وہ ایسے والدین کو بلانا شروع کر دیتے ہیں جو اپنی اولاد کے نشہ کرنے سے دکھی ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار کوئی ماہر بھی اس انجمن کا آغاز کر لیتا ہے اور والدین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنے بگڑے ہوئے بچوں کو سنبھالیں لیکن انجمن کی فلاح و بہبود کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ والدین اس کی باگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ اگر کوئی ماہر زیادہ عرصہ تک راہنما کا کردار ادا کرتا رہے اور والدین کی صلاحیتوں پر اعتماد نہ کرے تو پھر والدین ہمیشہ اسی کے دست نگر ہو کر رہ جاتے ہیں اور خود والدین کی تخلیقی صلاحیتیں زنگ آلود ہو جاتی ہیں۔

کی انجمن کا اجلاس ہفتہ میں ایک مقررہ دن ہوتا ہے۔ اگر اس دن کوئی تہوار یا چھٹی ہو تب بھی یہ اجلاس اسی دن منعقد ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل انجمن کی ترقی اور افادیت کو بڑھاتا ہے۔ چھٹی یا تہوار کے دن انجمن کی میٹنگ میں زیادہ لوگ شامل نہ بھی ہوں لیکن میٹنگ کے انعقاد سے شامل نہ ہونے والے کو یہ احساس ضرور رہتا ہے کہ میٹنگ میں شرکت نہ کر کے انہوں نے کچھ کھویا ہے۔

کی جو انجمنیں باقاعدگی سے اپنے اجلاس منعقد نہ کر پائیں ان میں والدین کی حاضری گرتی چلی جاتی ہے۔ کی ساخت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ باقاعدہ عہدے داروں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کا بنیادی کام ان اقدامات کی منصوبہ بندی ہے جو والدین نے اپنے نشہ کے مریض بچوں کیلئے کرنے ہوتے ہیں اور اس کیلئے اتنا کافی ہے کہ اجلاس کے بعد والدین چھوٹے چھوٹے گروپوں میں بٹ کر باہمی صلاح مشورہ کرلیں۔ انجمن کا اجلاس اس طرح ہوتاہے کہ جو والدین پہلی دفعہ انجمن میں آتے ہیں سب سے ان کا تعارف کرایا جاتا ہے۔ میٹنگ کے آغاز میں والدین سابقہ ہفتہ کی کارکردگی کو زیر بحث لاتے ہیں اور یہ جائزہ لیتے ہیں کہ جن والدین کو کوئی سٹینڈ دیے گئے تھے یا کوئی اقدام کرنے کیلئے کہا گیا تھاوہ کس حد تک اور کس طرح عمل پیرا ہو رہے ہیں۔ اس طرح میٹنگ میں نئے سٹینڈ اور نئے اقدامات بھی تجویز کئے جاتے ہیں میٹنگ کا یہ حصہ تیس منٹ تک جاری رہتا ہے۔ اس عرصہ میں اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ تمام والدین کو کچھ نہ کچھ کہنے کا موقع ضرور ملے۔

کی جو انجمنیں چند والدین پر مشتمل ہوتی ہیں انہیں وقت کی کمی کا مسئلہ درپیش نہیں ہوتا لیکن جن انجمنوں میں نئے والدین کا ہجوم زیادہ ہوتا ہے اس میں یہ طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے کہ باقاعدہ انجمن کی میٹنگ میں شمولیت سے پہلے نئے والدین کو لازمی طور پر کی چند میٹنگوں میں مبصرین کے طور پر شرکت کرنا پڑتی ہے۔ اس کا مقصد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا وہ مدد حاصل کرنے میں سنجیدہ ہیں یا نہیں۔ اس طرح انجمن کا وقت بچتا ہے۔

جب والدین باقاعدہ کی ان محفلوں کے سنجیدہ رکن بن جاتے ہیں تو کوئی تجربہ کار رکن ان کی ’’کہانی‘‘ سنتا ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ وہ کی انجمن سے کیا توقعات وابستہ کر سکتے ہیں۔ جب ان کا عزم پختہ نظر آئے اور وہ کے لٹریچر میں دلچسپی لیتے ہوئے نظر آئیں تو انہیں باقاعدہ میں متحرک ہونے کاموقع دیا جائے۔

کی میٹنگوں میں پرانے ممبران اپنی کامیابی کی کہانیا ں سناتے ہیں اور نئے ممبران مسرت کا اظہار کر کے ان کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں اور خود اپنے لئے ایسی ہی کامیابیوں کے خواب دیکھتے ہیں۔ انجمن کی میٹنگ کا بنیادی خاصا یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے یہ سوال اُٹھایا جائے کہ آپ ایک دوسرے کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ میٹنگ کے آخر میں والدین ایک دوسرے کیلئے اقدامات تجویز کرتے ہیں اور سٹینڈ پر ڈٹے رہنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن تجاویز میں کسی کے ساتھ زور زبردستی سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ یہاں والدین کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ کچھ والدین میٹنگ کے بعد بھی گپ شب جاری رکھتے ہیں اور اپنا اعصابی تناؤ کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر میٹنگ کے مخصوص مقاصد ہوتے ہیں جنہیں مقررہ وقت میں حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وقت کی پابندی سے یہ رجحان پیدا ہوتا ہے کہ انجمن باتوں کی بجائے عمل کی طرف گامزن رہتی ہے جو انجمنیں وقت کی پابندی کا خیال نہیں رکھتیں وہ جلد ہی اپنی افادیت کھو دیتی ہیں۔ انجمنوں میں راہنمائی کے فرائض چھوٹے چھوٹے وقفوں میں سب بانٹ کر ادا کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح جب زیادہ لوگوں کو راہنمائی کا موقع ملتا ہے تو انجمن کے کام میں ان کی دلچسپی بڑھتی ہے اور اس طرح ذمہ داریوں کو مل بانٹ نبھانے کا موقع بھی ملتا ہے۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2