نشے کی بیماری مریض کے حواس خمسہ پر چھا جاتی ہے۔ سب حیران ہوتے ہیں کہ جو کچھ مریض کرتا ہے اس کا سب سے زیادہ نقصان مریض کو ہی پہنچتا ہے، پھر بھی وہ اپنا بچاؤ کیوں نہیں کرتا؟ حد تو یہ ہے کہ وہ مدد کو بھی رد کرتا ہے۔کیا نشے کے مریض کی عقل پر پردہ پڑھ جاتا ہے؟

اس کے ساتھ ہی کچھ مزید سوال بھی ذہن میں ابھرتے ہیں!

* کیا نشہ کی بیماری کا کوئی معقول علاج موجود ہے؟
* یہ تسلیم کرنا کیوں ضروری ہے کہ نشہ ایک بیماری ہے؟
* نشہ کی بیماری میں فوری علاج کیوں ضروری ہے؟
* ایسے مریض کا علاج کیسے ممکن ہے جو آمادہ نہ ہو؟
* اگر مریض فیصلہ نہیں کر سکتا تو کیا انتظار کریں؟
* علاج کا بین الاقوامی معیار کیا ہے؟
* معلومات کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہیں؟

یہ کتاب ان میں سے کچھ سوالوں کا جواب دیتی ہے۔ یہ آپ کیلئے نشہ کی بیماری پر معلومات کا نکتہ آغاز ہے۔ اگر آپ نے نشہ کے ایک مریض کو سنبھالنا ہے اور اگر آپ اپنے پیارے کے ساتھ مخلص ہیں تو آپ کو صداقت کلینک کا نشے کی بیماری پر شائع کردہ تمام لٹریچر ضرور پڑھنا چاہیے۔

نشہ کی بیماری جنہیں گھر لیتی ہے بدنامی کے ڈر سے وہ تنہا ہی ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں۔

اب جبکہ پاکستان میں ہر شخص کا کوئی قریبی عزیز نشہ کی بیماری میں مبتلا ہے، تو آپ کو یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ یہ محض ایک بیماری ہے اور اجتماعی کوششوں اور صحیح مدد سے ہی اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس بات کو باربار دہرانے کی ضرورت ہے کہ بلڈ پریشر اور ذیابیطس کی طرح نشہ بھی ایک بیماری ہے۔ کیونکہ آج تک اس نظرئیے کی روح کو نہیں سمجھا گیا۔ جب آپ یہ جان لیتے ہیں کہ مریض جان بوجھ کر آپ کو پریشان نہیں کرتا بلکہ وہ بیمار ہے تو ہمارا غصہ کسی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں آپ بامقصد اور تعمیری مداخلت کر سکتے ہیں۔

نشہ کی بیماری میں مریض پر الزام تراشی سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ گو نشہ کی ابتداء مریض کی بہت بڑی غلطی تھی لیکن بعد میں یہ ایک بیماری کی شکل اختیار کر گئی۔ اس بیماری سے وہ آپ کی مدد کے بغیر نہیں نکل سکتا۔

جس گھر میں نشہ کی بیماری ہو وہاں مریض نشہ کرتا ہے اور گھر کے کچھ افراد غم اور کچھ غصہ کرتے رہتے ہیں۔ نشہ، غم اور غصے کی تکون پورے گھر کو مفلوج کر دیتی ہے! اگر آپ اس تکون سے باہر آ کر صحیح معلومات حاصل کریں اور بامقصد قدم اُٹھائیں تو مریض کی نشے سے نجات میں مدد کی جا سکتی ہے۔

نشہ کی بیماری کی خاص علامت نشے کا جنون ہے۔ یہ جنون مریض کی آنکھوں پر پٹی باندھے رکھتا ہے جس سے وہ اپنی بربادی کو دیکھ نہیں پاتا۔ نشہ کے مریضوں کی فطرت کی بناوٹ ہی کچھ ایسی ہوتی ہے کہ انہیں تھوڑا رنج ملے تو زیادہ محسوس ہوتا ہے اور زیادہ خوشی ملے تو تھوڑی محسوس ہوتی ہے۔ اس لئے نشے کے مریض پھولوں کی طرح نشے کا استعمال یکساں طور پر رنج اور خوشی دونوں موقعوں پر کرتے ہیں۔ نشہ کی بیماری کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ جو کچھ مریض کرنا چاہتا ہے وہ اس سے ہوتا نہیں اور جو نہیں کرنا چاہتا وہ باقاعدگی سے کرتا رہتا ہے، یوں نشے کے مریض کا رویہ اردگرد کے لوگوں کو الجھن اور پریشانی میں مبتلا کر دیتا ہے۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3