’’‘‘ والدین کو اصلاح کی اہلیت دیتی ہے۔ سچی محبت کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ وہم اور گمان سے باہر نکل کر آج اور ابھی اپنی اولاد کے مسائل ٹھوس انداز میں حل کرنا شروع کر دینگے گے۔ ممکن ہے آپ ماضی میں ان مسائل کو سُلجھانے میں بری طرح ناکام رہے ہوں اور آپ کی عزت نفس مجروح ہو گئی ہو۔ ہو سکتا ہے آپ کافی مایوس ہوں۔ مایوسی کسی بھی منصوبے کے لیے زہرِ قاتِل بن جاتی ہے لہزاء مایوسی کو تو بس کفر ہی جانیے اور اِس سے اپنا دامن آج اور ابھی چُھڑا لیجیے فِلحال تو آپ کو صرف یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ نشے کے مریضوں کے ایسے کون سے روئیے ہیں جن میں فوری دخل کی ضرورت ہے۔ آپ کو مداخلت سے پہلے اپنے اوسان بحال کرنے اور تکنیکی مہارت حاصل کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے کیونکہ غم وغصے اور حواس باختگی میں کوئی کسی کی مدد نہیں کر سکتا۔

جس طرح کھلاڑیوں کو میدان میں اُترنے سے پہلے اعلٰی درجے کی تندرستی اور ذہنی کیفیت کی ضرورت ہوتی ہے اِسی طرح والدین کو بھی اپنے نشٔی بچوں کو سُدھارنے کے لیٔے جسمانی اور ذہنی فٹ نس کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھلاڑی اِس کے لیٔے ”زون“ میں ہونے کا فقرہ اِستعمال کرتے ہیں۔ جب والدیں بھی”زون“ میں ہوتے ہیں تو ایسے بچوں کو سُدھار سکتے ہیں جو انتہائی ذہین ہونے کے باوجود نشے کے پاگل پن میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ نشہ کرنے کے لیے نفسیاتی وجوہ کا ہونا ضروری نہیں، نشے کا آغاز اکثر دیکھا دیکھی ہوتا ہے، پھر چوری چھپے کی جانے والی یہ غلطی عادت کا روپ ڈھال لیتی ہے اور پھر آنکھ تب کُھلتی ہے جب نشے کی بیماری چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے۔ اور مریض کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوٹ جاتا ہے۔ نشے کی بیماری اپنی نوعیت میں ایک بنیادی بیماری ہے ضروری نہیں کہ یہ کسی اور بیماری کی وجہ سے پیدا ہو، یہ بیماری نشہ کرنے والوں میں ازخود پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری آجائے تو پھر نشہ انہیں موافق نہیں آتا اور ان کے جسم میں زہریلے مادے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ دوسروں کو مریض کے موڈ، مزاج اور عقل سلیم پر ان زہریلے مادوں کے اثرات واضح نظر آتے ہیں جبکہ خود مریض ان سب قباحتوں سے ناواقف نظر آتا ہے۔ نشے کے مریض بیمار ہونے کے باوجود علاج میں اس لئے دلچسپی نہیں لیتے کیونکہ اِن کے دِماغ کو نشے کی بیماری نے بر غمال نبا رکھا ہوتا ہے۔ ان کی آنکھوں پر نشے کی پٹی بندھ جاتی ہے۔ وہ غلط طرزِ عمل اس لئے اپنائے رہتے ہیں کہ ان کی نظر میں وہی صحیح ہوتا ہے۔

نشے کی بیماری سے نمٹنے کیلئے آپ کو معالجین، اپنے رشتہ داروں اور ان لوگوں کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے جو ان مسائل اور معاملات میں مہارت اور معقول تجربہ رکھتے ہیں۔ بعض ماہرین والدین کو خراب تربیت کا قصور وار قرار دے کر گہرے احساسِ گناہ میں مبتلا کر دیتے ہیں لیکن اس سوال کا چنداں جواب نہیں دے پاتے کہ ایک ہی ماں باپ کے تربیت یافتہ کچھ بچے کیوں نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ جب کہ باقی بچے اپنے اپنے شعبوں میں کار ہائے نمایاں سر انجام دے رہے ہوتے ہیں اور فرمانبرداری میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتداء میں معالجین اور دوسرے والدین سے مدد لینا ہمیں مشکل لگتا ہے۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ مدد کے اس لین دین کے بعد ہم اِس قدر اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ بار ہا ہماری زبان سے یہی جملہ نکلتا ہے کہ ہم نے پہلے ہی ایسا کیوں نہ کیا ؟

زیادہ تر مدد کی نوعیت محض حوصلہ پر مبنی ہوتی ہے۔ کچھ والدین اپنی اولاد کے ہاتھوں اتنے زِچ ہو جاتے ہیں کہ ان کی قوت فیصلہ ختم ہو جاتی ہے۔ صحیح سوچ ان کے ڈر ٗ خوف اور غصے کی نذر ہو جاتی ہے اور وہ اس بھنور میں تنہا ہی چکراتے رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں کچھ والدین اتنے حواس باختہ اور احساسِ گناہ کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں کہ وہ ہر قیمت پر حقائق سے فرار چاہتے ہیں۔ جب میں ایک درد مند معالج اُمید کی کِرنیں دکھاتا ہے تو وہ اپنے حالات کو سنبھالنے کیلیٔے کمر کس لیتے ہیں پھر چھوٹی چھوٹی کامیابیاں اِنہیں آگے بڑھتے رہنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4