’’‘‘ والدین کو اصلاح کی اہلیت دیتی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ نفسیات کی گتھیوں پر بحث کرنے کی بجائے آج اور ابھی اپنی اولاد کے مسائل کو حل کرنے کی کوئی ٹھوس کوشش شروع کردیں۔ اس نئے طرزِ عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ آپ کی مایوسی ہی ہو سکتی ہے، ممکن ہے کہ ماضی میں ان مسائل کو سُلجھانے میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد آپ کی عزت نفس مجروح ہو گئی ہو۔ آپ کو یہ جاننے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ نشے کے مریضوں کے ایسے کون سے روئیے ہیں جن میں فوری دخل کی ضرورت ہے۔ آپ کو مداخلت سے پہلے اپنے اوسان بحال کرنے اور تکنیکی مہارت حاصل کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے کیونکہ غم وغصے اور حواس باختگی میں کوئی کسی کی مدد نہیں کر سکتا۔

ہاں آپ چاہیں تو مل جل کر ایسے بچوں کو سنبھال سکتے ہیں جو انتہائی ذہین ہونے کے باوجود نشے کے پاگل پن میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ نشہ کرنے کے لیے نفسیاتی وجوہ کا ہونا ضروری نہیں، نشے کا آغاز اکثر دیکھا دیکھی ہوتا ہے، پھر چوری چھپے کی جانے والی یہ غلطی عادت کا روپ ڈھال لیتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ بیماری کی شکل اختیار کر جاتی ہے اور مریض کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوٹ جاتا ہے۔ نشے کی بیماری اپنی نوعیت میں ایک بنیادی بیماری ہے ضروری نہیں کہ یہ کسی اور بیماری کی وجہ سے پیدا ہو، یہ بیماری نشہ کرنے والوں میں ازخود پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری آجائے تو پھر نشہ انہیں موافق نہیں آتا اور ان کے جسم میں زہریلے مادے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ دوسروں کو مریض کے موڈ، مزاج اور عقل سلیم پر ان زہریلے مادوں کے اثرات واضح نظر آتے ہیں جبکہ خود مریض ان سب قباحتوں سے ناواقف نظر آتا ہے۔ نشے کے مریض بیمار ہونے کے باوجود علاج میں اس لئے دلچسپی نہیں لیتے کیونکہ ان کی آنکھوں پر نشے کی پٹی بندھ جاتی ہے۔ وہ غلط طرزِ عمل اس لئے اپنائے رہتے ہیں کہ ان کی نظر میں یہ ہی صحیح ہوتا ہے۔

نشے کی بیماری سے نمٹنے کیلئے آپ کو معالجین، اپنے رشتہ داروں اور ان لوگوں کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے جو ان مسائل اور معاملات میں مہارت اور معقول ذاتی تجربہ رکھتے ہیں۔ بعض ماہرین والدین کو خراب تربیت کا قصور وار قرار دے کر گہرے احساسِ گناہ میں مبتلا کر دیتے ہیں لیکن اس سوال کا چنداں جواب نہیں دے پاتے کہ ایک ہی ماں باپ کے تربیت یافتہ کچھ بچے کیوں نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ جب کہ باقی بچے اپنے اپنے شعبوں میں کار ہائے نمایاں سر انجام دے رہے ہوتے ہیں اور فرمانبرداری میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتداء میں معالجین اور دوسرے والدین سے مدد لینا ہمیں مشکل لگتا ہے۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ مدد کے اس لین دین کے بعد ہم اتنا اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ بار ہا ہماری زبان سے یہی جملہ نکلتا ہے کہ ہم نے پہلے ہی ایسا کیوں نہ کیا ؟

زیادہ تر مدد کی نوعیت محض حوصلہ افزائی کے حصول پر مبنی ہوتی ہے۔ کچھ والدین اپنی اولاد کے ہاتھوں اتنے زِچ ہو جاتے ہیں کہ ان کی قوت فیصلہ ختم ہو جاتی ہے۔ صحیح سوچ ان کے ڈر ٗ خوف اور غصے کی نذر ہو جاتی ہے اور وہ اس بھنور میں تنہا ہی چکراتے رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں کچھ والدین اتنے حواس باختہ اور احساسِ گناہ کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں کہ وہ ہر قیمت پر حقائق سے فرار چاہتے ہیں۔ جب میں اجتماعی کوششیں اُمید کی کرنیں دکھاتی ہیں تو وہ اپنے حالات کو سنبھالنے کی مزید کوششوں میں دقت محسوس نہیں کرتے۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4