کا مطلب ہے کہ محبت اور گرفت کا ملا جُلا رویہ۔ اس رویے کے تحت والدین اپنے بچوں کے نامناسب اور غلط رویوں کو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی ناجائز فرمائشوں کو پورا کرتے ہیں۔ کے انداز کو اپنانے کے بعد والدین اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں رہتے کہ ان کی طرف سے محبت اور شفقت کی انتہا کر دینے سے ان کا بچہ غیر شائستہ رویوں کو تبدیل کر لے گا۔ محبت بھری گرفت کا راز جان لینے کے بعد وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچے کی ذات اور اس کے کردار کے درمیان فرق کو سمجھ لیں۔ اگر انہیں بچے کے کردار اور رویے سے متعلق شکایت ہے تو بھی وہ اس کی عزت کرتے ہیں، اس کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس کے رویے کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی اپناتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کرتے ہیں۔

یا محبت بھری گرفت کے اُصولوں کو اپنا کر آپ نہ صرف اپنے بچے کے ساتھ اپنے رشتے کو پائیدار اور مؤثر بناتے ہیں بلکہ اسے نشے سے نجات دلانے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار اور کامیاب انسان بننے میں بھی اس کی مدد کرتے ہیں۔
کا خیال اُن والدین کے لیے ایک نعمت ہے جو اپنی اولاد کی نشے کی بیماری سے تنگ ہیں۔ جو والدین ہنوز اس مسئلے کو ہلکے پھلکے انداز میں لے رہے ہیں اور پوری طرح دُکھی نہیں ہوئے، شاید ان کو کے نظریات متاثر نہ کر سکیں۔

بہت کم لوگ محبت کے اس انوکھے اور سچے روپ سے آگاہی رکھتے ہیں۔ سے مراد وہ فیصلہ ہے جس کے تحت آپ دوسروں کی بہتری اور فلاح کے لیے کام کرتے ہیں یعنی آپ کے رویے آپ کے الفاظ اور آپ کے افعال میں دوسروں کے لئے بھلائی کا رنگ موجود ہو۔
محبت کا ان معنوں میں ادراک کرنا اور پھر اس کے مطابق عمل کرنے ہی سے آپ اپنے پیاروں کی محبت کا حق ادا کر سکتے ہیں اور یہ عمل ہمارے اندر اکثر تصادم کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے یعنی اکثر اوقات دوسروں کی بھلائی کے لیے کوئی کام کرتے ہوئے خود آپ کے جذبات ہی آپ کی مخالفت کریں گے اور آپ کو مختلف انداز اختیار کرنے پر ابھاریں گے اور آپ اس مشکل کو کس طرح حل کرتے ہیں اور تصادم کی اس کیفیت کو کس طرح دور کرتے ہیں یہی آپ کی سچی محبت کا امتحان ہوتا ہے۔

میں تسلی سے ہر واقعہ کا اس طرح تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے کہ آپ کے لیے خود فریبی کا کوئی امکان نہیں رہتا۔

عام حالات میں جب تک پولیس آپ کے چادر اور چار دیواری کے تصور کو پامال نہیں کرتی آپ اپنے نوجوانوں کے رویوں کو محض گھر کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ بچے ماں باپ میں سے ایک کو اچھا اور ایک کو بُرا قرار دے کر ان میں پھوٹ ڈلواتے ہیں اور پھر گھر میں دندناتے پھرتے ہیں۔ ماضی پر ایک نظر ڈالتے ہی یہ عجیب لگتا ہے کہ ہر واقعہ کس طرح ایک اور واقعہ کو جنم دیتا ہے ایک وقت آتا ہے کہ آپ کو صورت حال کے گھمبیر ہونے کا احساس ہوتا ہے لیکن اگر آپ ایک دم سے تبدیلی کی بات کریں تو یہ بہت خوفناک محسوس ہوتی ہے۔ آپ بچوں پر اپنی محبت نچھاور کرتے ہیں ان کی نگہداشت میں کوئی کمی نہیں رکھتے لیکن پھر بچے جب آپ کی مثبت کوششوں کا جواب منفی رویوں سے دیتے ہیں تو آپ کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا اصل خرابی کہاں اور کس میں ہے؟

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4