کچھ لوگ نشے کے مرض کو ذیابیطس اور دل کی بیماری سے تشبیہ دینے پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کے خیا ل میں نشے کا مریض جان بوجھ کر مرض کو گلے لگاتا ہے جبکہ دوسری بیماریوں کے مریض اپنی مرضی سے ان امراض میں مبتلا نہیں ہوتے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ لاکھوں افراد شراب یا دیگر منشیات کا استعمال شروع کرتے ہیں لیکن ایسے تمام لوگ نشے کے مریض نہیں بنتے۔  نشے سے نپٹنے کےجسمانی نظام میں خرابی نشے کا مرض پیدا کرتی ہے۔ نشے کی ابتدا سب سے ایک جیسی ہوتی ہے لیکن انجام مختلف ہوتا ہے۔ نشہ شروع کرنے کی سب سے عام وجہ یہ ہے کہ کہیں کوئی نشے کی دعوت دیتا ہے۔  یہ دعوت قبول کرنے والوں میں سے %10 آگے چل کر نشے کے مریض بنتے ہیں، نشہ اِنسان اپنی مرضی سے کرتا ہے لیکن نشے کی بیماری مرضی کے بغیر آتی ہے۔ پھر بڑا فساد ہوتا ہے، نشہ کرے تو مصیبت، نشہ نہ کریں تو مصیبت، یہ ہے نشے کی بیماری۔

کا پہلا عقیدہ یہ ہے کہ

نشے کی جڑیں معاشرے میں ہوتی ہیں اور وہیں سے اسے نشوونما ملتی ہے!

نوجوان نشے کی علت میں طوفان بدتمیزی برپا کرتے ہیں اور پھر اپنے مظلوم ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہر کوئی زیادتی کرتا ہے۔ اُن سے چلا نہیں جاتا لیکن وہ اپنے آپ کو ایک کیڈٹ کی طرح چاک و چوبند سمجھتے ہیں، ان سے بات نہیں ہوتی لیکن وہ اپنے آپ کو کسی اناؤنسر سے کم نہیں سمجھتے، ان کے کپڑوں میں چھید اور سلوٹیں ہوتی ہیں اور وہ اسے لباس فاخرہ سمجھتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ قبرستان یا گندے نالے کی گیلی زمین پر صاحب فراش نشے کے مریضوں کو مدد کی پیشکش کی جائے تو وہ اسے دخل اندازی سمجھتے ہیں۔ ان کے خود شکستہ رویوں کی وجوہات گھریلو ماحول میں تلاش کرنا بے سود ہے۔ والدین کو موردِ الزام ٹھہرانا آسان ہے لیکن نا مناسب ہے۔ ماہرین نفسیات کو بھی جب خود اپنے بچوں کے نامناسب رویوں کا سامنا ہوتا ہے تو سارے ہنر دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ کہیں کہ میں ہم والدین کو اپنی اولاد سے ناروا سلوک پر اکسا رہے ہیں ، سچی بات تو یہ ہے کہ ہم ان کی بے قیمت محبت کو انمول بنانے کا درس دے رہے ہیں۔ جب آپ معقول روئیے اختیار کرکے اپنے ان بیمار بچوں کو راستہ دکھائیں گے تو یہ کا مظاہرہ ہو گا۔ جو بچے تباہی کی طرف رواں دواں ہوں انہیں روکنا ممکن ہے مثبت نتائج اس طرح ممکن نہیں کہ آپ بحران کے ڈر سے آج ان ’’غصیلے بیماروں‘‘ کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ لیکن پہلے آپ کو غم و وغصے سے نکلنا ہوگا۔ اگرآج ایسا نہیں کریں گے تو کل کیا ہو گا؟ کیا آپ اس بحران سے بچ جائیں گے جو آپ کی چشم پوشی کے نتیجے میں روز بروز خطرناک شکل اختیار کر رہا ہے؟ فرار کی بجائے مُناسب ہوگا آپ آج ہی اولاد کو سدھارنے کیلئے چھوٹے چھوٹے بحرانوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ جب آپ ایک سٹینڈ پر ڈٹ جاتے ہیں تو نوجوان بحران پیدا کرتے ہیں، جب آپ بحران سمیٹتے ہیں تو اُن میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔

ایک بہت عام غلط عقیدہ یہ ہے کہ گھر میں ہر قیمت پر امن قائم رہنا چاہئے اوراس کوشش میں وہ عموماً چھوٹی بڑی کوتاہیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مریض نشے میں ہر حرکت کو جائز سمجھتا ہے اور کوئی ذمہ داری نہیں اُٹھاتا ہے۔ ہر وقت بد تمیزی کے لیے تیار رہتا ہے۔ اہلِ خانہ اس خوف میں مُبتلا رہتے ہیں کہ اُن کے کسی موضوع پر بات کرنے سے کوئی فساد برپا نہ ہو جائے یا بات کرنے سے بچے کی ججھک بالکل ہی ختم نہ ہو جائے۔ والدین کا جاننا بہت ضروری ہے کہ امن کی خاطر بچوں کو برباد نہیں کرنا چاہئے۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6