والدین اپنے خاص جذباتی رشتے کی وجہ سے مریض سے خصوصی رعایت اور نرمی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مریض ان کے اخلاق سے متاثر ہو کر نشہ چھوڑ دے۔ والدین کی مہربانیوں سے اسے حالات بالکل نارمل نظرآتے ہیں لہذا وہ نشہ جاری رکھتا ہے۔ یہ صورتحال ’’معاونت‘‘ کہلاتی ہے۔ ’’معاونت‘‘ سے مراد وہ برتاؤ ہے جو مریض کے دوست احباب اور اہل خانہ بظاہر اسے نشے کے نتائج سے محفوظ رکھنے کیلئے اختیار کرتے ہیں تاہم اس سے مریض کو زیادہ نشہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ’’معاونت‘‘ کرنے والے نہیں جانتے کہ وہ لاشعوری طور پر مریض کی نشہ کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ والدین بھی محض انسان ہوتے ہیں، اولاد کے رویوں کو بدل سکتی ہے۔ والدین سے جو بن پڑتا ہے۔ اولاد کیلئے ضرور کرتے ہیں، حتیٰ کہ کبھی کبھی حد سے تجاوز بھی کر جاتے ہیں۔ اسی عادت کے پیش نظر جونہی نشے کا مریض کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے والدین اندھا دھند اس کی ’’مدد‘‘ کرنے لگتے ہیں، وہ اس کے کئے ہوئے نقصانوں کے تاوان بھرتے ہیں مثلاً نشے کیلئے جو قرضے لیتا ہے وہ ادا کرتے ہیں، بے قاعدگی کی وجہ سے نوکری کو خطرہ ہو تو اس کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں، وہ نشے میں مدہوش ہو تو پردہ پوشی کیلئے بہانے بناتے ہیں اور اگر وہ قانون ہاتھ میں لے لے تو شفارشیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ انجانے میں وہ ہر ممکن طریقے سے نشے کے مریض کو پریشانیوں سے بچاتے ہیں اور اس کے اردگرد بحران کی نشوونما نہیں ہونے دیتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اس رویے سے مریض متاثر ہو گا اور نشہ ترک کر دے گا۔ اُلٹا جب وہ نشے کی دلدل میں اترتا ہی چلا جاتا ہے تو والدین کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ آخر گڑبڑ کہاں ہے؟

جب ’’معاونت‘‘ سے حالات اور بگڑ جاتے ہیں تو اکثر والدین ’’اشتعال‘‘ میں آ کر ’’سختیاں‘‘ کرنے لگتے ہیں۔ جسے بھی نشے کے مریض کے ساتھ رہنا پڑے اس کا اشتعال میں آنا لازم ہے۔ مریض پر سختیاں کرتے ہوئے نیت یہ ہوتی ہے کہ وہ نشہ چھوڑ دے لیکن وہ اور زیادہ نشہ کرنے لگتا ہے نہ صرف یہ بلکہ خود کو حق بجانب سمجھنے لگتا ہے۔ سختی کے رویوں میں لعن طعن، مارپیٹ، رسیوں سے جکڑنا، کاروبار سے بے دخلی، عاق کرنا یا جیل بھجوانا وغیرہ شامل ہیں یہ وہ طریقے ہیں جن سے معاملہ مزید بگڑ جاتا ہے۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب مریض کے ناجائز رویوں کو اس لئے قبول کیا جاتا ہے کہ وہ دل ہی دل میں شرمسار ہو گا اور اپنے روئیے کو بدل لے گا حالانکہ یہ خام خیالی ہوتی ہے کیونکہ نشے کی چادر میں لپٹے ہوئے مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر ہی رہتا ہے۔ نشے کی مدہوشی میں اس کے اعصاب کو جھنجھوڑے بنا اس کے رویے میں کسی تبدیلی کو توقع عبث ہے۔ ضروری ہے کہ اس ناجائز طرز عمل میں کسی طرح بھی شرکت سے پرہیز کیا جائے اور اپنی مدد کو نشے سے نجات کے معاملے تک محدود رکھا جائے۔

ایسے کئی چھوٹے چھوٹے معاملات اگر آپ نہ سنبھالیں تو نہ صرف مریض کا مزہ کرکرا ہو گا بلکہ نتیجے میں اُبھرنے والے بحران مریض کو مجبور کر دیں گے اور وہ نشے سے نجات کیلئے خود آپ سے مدد چاہنے لگے گا۔ اس صورتحال میں وہی مریض جوآج تک آپ کی مدد کو رد کرتا آیا ہے، جب مدد کیلئے آپ کی طرف دیکھتا ہے تو پھر آپ بخل سے کام نہیں لیتے بلکہ فوری طور پر صحیح مدد کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ اگر آپ کی محبت صرف مریض کے نشے کو فروغ دے تو یہ بیمار محبت ہوگی۔