آپ کا دل چاہتاہے کہ لا محدود صلاحیتوں کے مالک ہوں اور محبت کے نہ خشک ہونے والے چشموں کی طرح اپنے بچوں کی امنگوں اور خواہشات کو پورا کر سکیں۔ آپ شاید ان کے پیدا ہوتے ہی یہ ٹھان لیتے ہیں کہ انہیں راہنمائی مہیا کریں اور اچھی راہوں پر گامزن کر سکیں۔

آپ چاہتے ہیں کہ آپ حیران کر دینے والے والدین بن جائیں !

لیکن ایک دن بدقسمتی سے جب بچے نشیلی راہوں اور الجھوں میں پھنس کر آپ کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں تو دراصل وہ آپ کی ایسی ہی خوش فہمیاں دور کر رہے ہوتے ہیں۔
ٹف لو کا تیسرا عقیدہ یہ ہے کہ
والدین کے
مادی و جذباتی
وسائل محدود ہوتے ہیں!

ٍ زیادہ تر والدین تلخ تجربوں میں سے گزرے بنا اس حقیقت کو نہیں مانتے۔ آپ کے بچے پل پل آپ کو آپ کی خامیوں کا احساس دلاتے رہتے ہیں اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ خود کبھی انہوں نے اپنے نشے اور غلط رویوں پر غور نہیں کیا۔

کیا آپ نے تجربے سے کچھ سیکھا ہے؟
اگرآپ نے تجربہ سے کچھ نہیں سیکھا تو اصل افسوس اس بات کا کیا جاسکتا ہے کہ ایک ہی غلطی بار بار کرنا اور ہر دفعہ یہ توقع رکھنا کہ آپ کو مختلف نتیجہ ملے گا، مایوسی کا نسخہ ہے۔

آپ اپنے بچوں کے حالات سنوارنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ایک خوش و خرم گھرانہ تشکیل دینے کا عزم رکھتے ہیں، آپ اپنے بچوں کو یہ باور کروانے کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ آپ بہترین والدین ہیں۔ آپ اپنے بچوں کیلئے روشن اور سنہرے خواب دیکھتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر حقیقت کاروپ نہیں دھارتے۔آپ کے منصوبے اسی لئے ادھورے رہ جاتے ہیں کہ آپ کے مادی و جذباتی وسائل ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ تمام والدین بہترین بننے کی لگن میں حقیقت سے دور چلے جاتے ہیں اور اوسط درجہ کی کارکردگی کا مظاہرہ بھی نہیں کر پاتے اور پھر وہ از خود یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کوئی کوتاہی برتی ہے اور یوں وہ احساس گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس سارے عمل میں وہ کہیں نہیں سوچتے کہ ان کے بچوں کے روئیے اور کردار کی ذمہ داری خود اس پر عائد ہوتی ہے اور آپ محض اپنے محدود وسائل کی حدود میں رہتے ہوئے ہی اُس کی مدد کر سکتے ہیں۔ایسے ہی کوششوں میں والدین پر یہ الزام بھی لگتا ہے کہ وہ اپنی اولاد پر ضرورت سے زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں اور انہیں اپنی مرضی سے چلانے کیلئے دھکم پیل کر رہے ہیں۔ اگر والدین شدید کوشش نہ کریں تو یہ خیال ظاہر نہیں کیا جاتا ہے کہ انہیں اولاد کی پرواہ نہیں اور وہ تکلیف میں اولاد کا ساتھ نہیں دے رہے۔ جب والدین کا بچوں کے ساتھ تنازعہ ہوتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ محض والدین کے محدود و مادی اور جذباتی وسائل ہوتے ہیں۔ بچہ نشے کی بیماری میں مبتلا ہوا اور خود سری کا مظاہرہ بھی کرے تو والدین بے بسی میں آہستہ آہستہ نڈھال ہونا شروع ہوجاتے ہیں، ان کا کام کاج اور کاروبار پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4