کئی لوگوں کا یہ خیال ہے کہ تمام انسان برابر ہوتے ہیں اس لئے ان میں فرق کرنا مشکل ہے۔ ہم اس دور میں بس رہے ہیں جب دنیا اپنی جوانی میں قدم رکھ رہی ہے جو نوجوان اپنی ضروریات کیلئے والدین کی طرف دیکھتے ہیں انہیں یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ وہ والدین کے برابر نہیں ہو سکتے کیونکہ لینے والے ہاتھ اور دینے والے ہاتھ برابر نہیں ہوتے۔اولاد چاہے تعلیم، مال و دولت، رنگ و روپ ، قد کاٹھ اور عزت و شہرت میں ماں باپ سے آگے نکل جائے لیکن یہ طے ہے کہ وہ عمر اور تجربے میں ہمیشہ والدین سے پیچھے ہی رہے گی۔ یہاں چونکہ ہم اس اولاد کا ذکر کر رہے ہیں جو عام طور پر زندگی کے ہر شعبے میں پسماندہ رہ جاتی ہے اور نشے کی بیماری میں مبتلا ہو کر ماں باپ پر بوجھ بن جاتی ہے، تواس بات سے بھی کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ وہ عقل و دانش ، قوت فیصلہ اور وسائل میں ماں باپ کے برابر نہیں۔ اگر وہ نشہ چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو اور اپنی لگامیں والدین کے ہاتھ میں دینے سے انکاری ہو تو والدین کو پورا حق پہنچتا ہے کہ اس وقت تک ایسی اولاد کی سہولتیں روکے رکھیں۔ جب تک وہ سیدھے راستے پر آنے کیلئے آمادہ نہ ہو۔
کے بارہ عقیدوں میں سے چوتھا نظریہ یہ ہے کہ
والدین
اور بچے
برابر نہیں ہوتے!

ایسی اولاد جو نشہ کی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے پل پل والدین کیلئے دکھوں کا سامنا کرتی ہے، کس طرح اپنے حقوق کی بات کر سکتی ہے؟ وہ تو آپ کے ان احسانوں کا بدلہ بھی نہیں چکا سکتی، جو بچپن میں آپ نے ان پر کئے تھے۔ ان بچوں کو تو شاید پتا بھی نہ ہو کہ جب وہ راتوں کو بستر گیلا کیا کرتے تھے تو آپ انہیں خشک جگہ لٹا کر ان کی جگہ سو جایا کرتے تھے۔ انہیں تو شاید یہ بھی یاد نہ ہو کہ آپ نے انہیں اپنا خون جگر پلایا تھا۔ آج اگر وہ آپ سے شدید نفرت کرتے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کی وجہ سے خود اپنے آپ سے ہی نفرت کرتے ہیں۔
بقول حضرت غالب
غیر کیا، خود مجھے نفرت میرے اوقات سے ہے

چونکہ وہ خود بھی اپنے طور طریقوں کو پسند نہیں کرتے اس لئے وہ اپنے آپ سے رنجیدہ ہی رہتے ہیں۔
ایک رنجیدہ انسان رنج بانٹنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہے!
نشے کے مریض بچے آپ کو کوئی بے جان چیز تصور کر لیتے ہیں۔ اس لئے تو وہ آپ کے ساتھ دھونس دھمکی اور دھول دھپا کرتے ہیں۔ وہ اپنی عیش و عشرت کیلئے آپ کے وسائل کو بے دریغ استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اس کیلئے وہ یہ بے وزن دلیل دیتے ہیں کہ گھر کے ایک فرد ہونے کے ناطے وہ بھی گھر میں والدین کے برابر ہیں اور اپنے لئے آزادانہ فیصلہ کر سکتے ہیں۔اگر انہیں یہ بتانے کی کوشش کی جائے کہ گھر میں رہنے کے طور طریقے کیا ہیں، تو وہ اس موضوع پر بات چیت کرنے سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔ اگر آپ انہیں پوچھیں کہ کہاں جا رہے ہو، یا رات کو جلدی واپس آنا تو وہ اس ’’اینٹ‘‘ کا جواب اس پتھر سے دیتے ہیں ’’اگر ڈیڈی پوچھے بنا گھر سے جا سکتے ہیں اور رات گئے واپس آ سکتے ہیں تو ان کی اولاد ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟‘‘ جب آپ انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور دلائل دیتے ہیں تو وہ آپ کی ایک نہیں سنتے کیونکہ ان کا مقصد سرے سے تبادلہ خیالات ہوتا ہی نہیں بلکہ سراسر من مانی ہوتی ہے۔ پہلے والدین بچوں کو ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا کرتے اور آپے سے باہر ہوتے دیکھ کر کمرے میں جانے کیلئے کہا کرتے تھے، اب بچے کہتے ہیں ’’ماما! آپ اپنے کمرے میں جاؤ اور مجھے ڈسٹرب نہ کرو‘‘۔اب گھروں میں انصاف، اعتماد، ایمانداری، کھلا دل و دماغ اور تبادلہ خیالات والدین کی ناتواں صورتوں کا منہ چڑاتے ہیں۔اگرچہ والدین نے اپنے اور بچوں کے رویوں کیلئے دوہرے معیارات بنارکھیں ہیں، جو کہ مناسب نہیں، لیکن والدین خود اپنی ذمہ داریاں اُٹھاتے ہیں جبکہ نشئی بچے نہ صرف مکمل طور پر بوجھ بن جاتے ہیں بلکہ والدین کو نواجوانوں کا کیا دھرا بھی سمیٹنا اور ان کے رویوں کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4