کیا آپ نے آج اپنے بچے کو گلے لگایا؟ یہ اس سٹیکر کے الفاظ ہیں جو اکثر گاڑیوں کے پچھلے شیشوں پر لگا نظر آتا ہے۔ یہ بیان اس مفروضے پر مبنی ہے کہ والدین آج کل بچوں کو گلے نہیں لگاتے اور ان کے باہمی تعلقات کشیدہ ہیں، یہ انتہائی پیچیدہ معاملے کو بڑی سادگی سے بیان کرنے کی ایک کوشش ہے۔ الزام تراشی جو کہ اب ہمارے ہاں مصروفیت کا واحد ذریعہ رہ گیا ہے ہمیشہ ہی ایک سطحی جائزہ ہوتا ہے۔ یہ عام سی بات ہے کہ بچوں میں نشہ کی بیماری کا الزام ان کے ماں باپ کو ہی دیا جاتا ہے، والدین اور دوسرے لوگ سکولوں کے اساتذہ پر الزام دیتے ہیں کہ وہ نظم و ضبط قائم نہیں رکھ سکتے۔ سکولوں کے اساتذہ اور والدین، معاشرہ اور صحافت کی موجودہ روش پر الزام دھرتے ہیں ۔ صحافی، ڈرگ مافیا، بدعنوان سیاست دانوں اور رشوت خور افسران پر الزام لگاتا ہے کہ وہ معصوم نوجوانوں کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ اسی طرح سب مل کر علماء کو ملزم گردانتے ہیں کہ وہ نوجوانوں میں مذہب کی صحیح روح بیدار نہیں کر سکے اور علماء کہتے ہیں کہ ٹیلی ویژن ان کے کئے کرائے پر پانی پھیر رہا ہے۔

نشے کی بیماری میں الزام تراشی ایک مزیدار کھیل بن جاتا ہے جس میں ہر کوئی اپنی تخلیقی صلاحیتیں آزما سکتا ہے۔ ایک تو اس سے آپ کو مصروفیت کا بہانہ مل جاتا ہے دوسرے آپ کو یہ تسلی مل جاتی ہے کہ آپ بری الذمہ ہیں اور بربادی کی وجہ کوئی اور ہے۔ اس طرح خود بری الذمہ ہو جانا اور دوسروں پر الزام دھرنا کسی مسئلہ کو حل نہ کرنے کا یقینی راستہ ہے۔

اور تواور ماہرین بھی الزام تراشی میں کسی سے پیچھے نہیں، والدین پر الزام تراشی ان کے طریقہ کار کاحصہ ہے۔ بظاہر وہ والدین پر الزام عائد نہیں کرتے لیکن ان کے الفاظ کی تہہ اور حرکات وسکنات میں یہی پیغام چھپا ہوتا ہے کہ سب کئے کرائے کے ذمہ دار آپ ہیں اور یہ پیغام سب ہی والدین سن لیتے ہیں اور احساس گناہ کی کھائی میں اتر جاتے ہیں۔ اس احساس گناہ اور غم و غصہ کی وجہ سے والدین آپس میں الزام تراشی پر اتر آتے ہیں اور تفتیشی رویوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دونوں میاں بیوی میں اصل مجرم کون ہے؟ الزام تراشی، احساس گناہ اور شرم مل جل کر والدین کی توانائیوں کو کھا جاتے ہیں اور جو کچھ وہ اپنے نشہ کے مریض بچوں کیلئے کر سکتے ہیں وہ بھی کرنے کے قابل نہیں رہتے۔

میں سب سے پہلے الزام تراشی ، احساس گناہ اور شرمندگی کی تکون سے نکلنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اوسان بحال ہونے کے بعد ہی والدین صحیح معنوں میں کے تقاضوں کو پورا کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماہرین کے بہت سے تخلیقی خیالات اس بارے میں درست ہوتے ہیں کہ خاندانی نظام کیسے چلتا ہے؟ لیکن خیال تو آخر خیال ہوتا ہے جبکہ والدین کوئی خیال نہیں ہوتے، جیتی جاگتی تصویر یں ہوتے ہیں جنہیں محض خیال کی بنیاد پر رد کر دینا مناسب نہ ہو گا۔ ایسے خیالات کس کام کے جو کسی دکھی انسان کی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح کھا جائیں۔ کے تحت نظریات کی اہمیت کو صرف اس پیمانے پر جانچا جا سکتا ہے کہ جو مسائل ہمیں آج پریشان کر رہے ہیں انہیں مکمل طور پر حل کرنے کیلئے کوئی نظریہ آج کس قدر کارآمد ہے؟ لوگوں کو ہر چیز کا تجربہ نہیں ہوتا لیکن جب بھی انہیں کوئی مصیبت یا بیماری گھیر لیتی ہے ماہرین ان سے ہمیشہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ تجربہ کار اور تربیت یافتہ افراد کی طرح رویہ اختیار کریں۔ کچھ تجربوں سے پہلے تجربہ کاری کی توقع عبث ہے۔ جس گھر میں ایک نشے کا مریض ’’مضروف عمل‘‘ ہو اس گھر میں بسنے والے لوگ جسمانی اور روحانی طور پر بلبلا رہے ہوتے ہیں اور انہیں فوری مدد، راہنمائی اورحمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین کو گھر میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کیلئے ماہرین سے فوری مدد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان کی پکار کے جواب میں بھی ان کو کیا ملتا ہے؟ الزام!

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6