بے آواز چیخیں

dir

ڈاکٹر صداقت علی
کچھ مریض نشہ چھوڑنے کے بعد اذیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اُن کے اندر خالی پن اور مایوسی بھر جاتی ہے۔ انہیں سلگن بہت تنگ کرتی ہے۔ بظاہر وہ بھلے چنگے نظر آتے ہیں پر اندر سے اُن کا برا حال ہوتا ہے۔ ان کی چیخیں نکل رہی ہوتی ہیں لیکن کوئی سن نہیں پاتا کیونکہ یہ چیخیں بے آواز ہوتی ہیں۔ وہ زخموں سے چور ہوتے ہیں تاہم کوئی بھی یہ زخم دیکھ نہیں سکتا کیونکہ ان زخموں کے منہ باہر نہیں، اندر کی طرف ہوتے ہیں۔

ہم سب نشے کی بربادی سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ اپنی فطرت کے لحاظ سے یہ جان لیوا بیماری ہے، تاہم نشہ چھوڑ کر اس بیماری کے آگے بند باندھا جاسکتا ہے اور ساتھ ساتھ اُن تکلیفوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے جو نشہ چھوڑنے کے بعد ہوتی ہیں۔ تین سو سال سے دنیا میں نشے کی بیماری کا علاج ہو رہا ہے تاہم پچھلے 75 سال میں لاکھوں نشے کے مریضوں نے نشے سے نجات کا معجزہ عام کردیا ہے، خصوصاً پچھلے 35 سال میں امراض قلب اور ذیابیطس کی طرح ایڈکشن کے علاج میں بھی انقلاب آ گیا ہے۔ یہ سب کچھ کہنا اچھا لگتا ہے لیکن اپنی جگہ ایک بہت تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ کچھ مریض دوبارہ نشہ شروع کردیتے ہیں۔ بار بار نشہ چھوڑنے اور پھر سے نشہ کرنے کا چکر چلتا رہتا ہے۔اُن کے حالات خراب ہوتے چلے جاتے ہیں، ان میں سے کچھ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اُن کے اہل خانہ تلخ یادوں کے ساتھ دکھ سہتے ہیں۔

نشہ کرتے ہوئے سبھی مریض دکھ اٹھاتے ہیں لیکن کچھ مریض نشہ چھوڑنے کے بعد بھی سکھی نہیں ہوتے، سچ پوچھیں تو وہ اور بھی دکھی ہوجاتے ہیں۔ ان کی بیماری ایک نئی شکل اختیار کرلیتی ہے، وہ دوسری قسم کی تکالیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

وہ تکالیف جو کسی شخص میں منشیات کا استعمال ترک کرنے سے پیدا ہوتی ہیں انہیں علامات پسپائی کہتے ہیں۔ یہ تکلیفیں نشے کے گرد گھومنے والے طرز زندگی سے الگ ہونے پر پیدا ہوتی ہیں۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments