عادتیں اور عِلتیں: کیسے بدلیں؟

2

اگرچہ عادتوں کے سامنے بے بسی زچ کرتی ہے لیکن ان کے بغیر چارہ بھی نہیں، عادتیں نہ ہوتیں تو زندگی اجیرن ہو سکتی تھی۔ ہمیں روٹین کے کام حتی کہ ٹوتھ پیسٹ، شیو، کھانا پکاتے ہوئے اور ڈرائیونگ کرتے ہوئے بھی % 100 توجہ دینی پڑتی، سینکڑوں ایکشنز کا خیال رکھنا پڑتا اور ٹائپنگ کرتے ہوئے تو ہم نڈھال ہی ہو جاتے۔ عادتیں دماغ کو بوجھل نہیں ہونے دیتیں اور اسے ہلکا پھلکا رکھنے میں مدد کرتی ہیں، تاہم جب ہم بری عادتوں یعنی علتوں میں پھنس جائیں تو انہیں بدلنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ورنہ وہ ہماری زندگی کو دوبھر کر دیتی ہیں ۔عادتیں طاقتور ہوتی ہیں، کیونکہ انہیں دو انجن رواں دواں رکھتے ہیں، عادت کے پیچھے خواہش اسے دھکیلتی ہے اور آگے مزہ اسے کھینچتا ہے ۔ عادت کو بدلنے کے لیے وِل پاور کا بے حساب اور اندھا دھند استعمال فائدہ مند نہیں ہوتا۔بلکہ خواہش اور مزے کو برقرار رکھتے ہوئے عادت کو آسانی سے بدلا جا سکتا ہے۔یعنی پچھلے اور اگلے انجن کو برقرار رکھتے ہوئے ریل گاڑی کے ڈبے نہایت عقل مندی سے بدلے جا سکتے ہیں۔ عِلتوں کو قسطوں میں بدلتے ہوئے چھوٹی چھوٹی کامیابیوں سے بڑی کامیابیوں کی راہ ہموارکی جانی چاہیے۔ چھوٹی چھوٹی کامیابیاں آخر کار بڑی کامیابی کیلئے حالات سازگار بناتی ہیں۔ صرف وِل پاور سے کام لینا غلطی ہو گی کیونکہ وِل پاور گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اورجواب دے جاتی ہے ۔ بعض اوقات ایک عادت کئی عادتوں پر اثر انداز ہوتی ہے جیسے ورزش ایک ایسی عادت ہے جو کہ بہت سی عادتوں کو بدلنے میں مددگارثابت ہوتی ہے۔ افراد کی طرح ادارے اور معاشرے بھی عادتوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ عادتیں بہت نتیجہ خیز ہوتی ہیں۔انہیں بھی بدلا جا سکتا ہے ۔

جواء، ورزش اور دانتوں میں برش کرنا اگرچہ کافی مختلف عادتیں ہیں تاہم یہ دماغ میں اعصابی تاروں کے نظام کو ایک ہی طرح استعمال کرتی ہیں۔ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، وہ کیوں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے ایک باقاعدہ طے بے شدہ رویوں کا نظام موجود ہے جسے بروئے کار لاتے ہوئے کمپنیاں بزنس کرتی ہیں، اپنی مصنوعات کو مقبول عام بناتی ہیں اور کروڑوں کماتی ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ کہ اگر چھٹیوں پر چلے جائیں تو عادتیں کچھ کمزور پڑ جاتی ہیں، کیونکہ یاد دہانی اور خواہش جگانے والی چیزیں، جگہیں اور لوگ وہاں نہیں ہوتے۔ مصیبت یابحران میں بھی عادتیں ڈھیلی پڑ جاتی ہیں اور آپ مخصوص حالات میں بدلنے پر آسانی سے آمادہ ہو جاتے ہیں۔سائنس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ زندگی میں کبھی بھی عادتوں کو بدلا جا سکتا ہے، عادتوں کو بدلنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ عادتیں پکتی کیسے ہیں؟ آج ملٹی سٹوری بلڈنگز کو کھڑے کھڑے آسانی سے گرایا جا سکتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ملٹی سٹوری بلڈنگز بنتی کیسے ہیں؟ ہم جب چاہیں وہ اپنے قدموں پر ڈھیر ہو جاتی ہیں ۔

سب سے پہلے عادتوں کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں کچھ جانئیے۔عادتوں کے تین بنیادی اجزاء یعنی خواہش ،روٹین اورمزہ ان کی تعمیر کرتے ہیں اوراگر عادت بدلنا مقصود ہو تو ہمیں خواہش اورمزے کو برقرار رکھتے ہوئے عادت کو بدلنا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں شراب کی بیماری میں مبتلا لوگ ان میٹنگز میں شرکت کرتے ہیں جہاں شراب چھوڑنے والوں کی ایک کثیر تعداد اپنے تجربات اور کامیابیوں کو شئیر کرتے ہیں ۔ دکھ درد بانٹتے ہیں اور راہنما بنتے ہیں۔ان میٹنگز میں شرکت کرنے والے وہاں کوئی نہ کوئی ایسا بندہ ضرور ڈھونڈ لیتے ہیں جواپنی موجودگی سے ان میں خواہش اور عقیدہ پیدا کرتا ہے کہ’’ اگر یہ شراب چھوڑسکتاہے تو میں بھی ایسا ضرور کر سکتا ہوں ‘‘۔ اور عقیدہ بدلنے سے بہت کچھ بدلتا ہے ۔اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ کوئی کام کر سکتے ہیں تو آپ ٹھیک کہتے ہیں اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ کوئی کام نہیں کر سکتے ہیں تو بھی آپ ٹھیک کہتے ہیں ۔ ہم سب بہت لائق فائق ہو سکتے ہیں لیکن ہماری زندگی کا کیا بنے گا؟ یہ سب اس پر منحصر ہے کہ ہماری عادتیں کیسی ہیں ؟ہم عادتوں سے ہی بنتے اور بگڑتے ہیں ، اکا دکا اچھی بری حکمت عملیوں سے واضح نتائج نہیں نکلتے ۔ جو لوگ بھی نامور ہوتے ہیں انہوں نے اتفاقاً یا ارادتاً اپنی عادتوں کو سنوارا ہو تا ہے۔عادتوں سے مراد وہ ذہنی نقشے ہیں جو کسی عقیدے کی پختہ گزر گاہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments