عادتیں و عِلتیں: کیسے بدلیں؟

3

کمپنیاں بھی وہی کامیاب ہوتی ہیں جن کی مصنوعات لوگوں کی عادتیں بن کر ان کی ہڈیوں میں اترجاتی ہیں۔ 100 سال پہلے دنیا میں کسی نے دانتوں کو برش نہیں کیا تھا، آج میں اور آپ برش کئے بغیر سو جانے کا تصور بھی نہیں کرتے۔  محض اس لئے کہ ایک شخص نے اسے ہماری زندگی کا حصہ بنا دیا کیونکہ برش کرتے ہی منہ میں صفائی کا احساس مزے کی شکل اختیار کر لیتا ہے اس مقصد کیلئے ٹوتھ پیسٹ میں خاص اجزا ء ڈالے جاتے ہیں۔ صفائی کے اسی احساس کی وجہ سے خواہش پیدا ہوتی ہے اور رات سوتے وقت خود بخودبرش کرنے کے کئی اسباب کام کرنے لگتے ہیں، جیسے خاص وقت، باتھ روم، ٹوتھ پیسٹ، کسی کا یاد دلانا وغیرہ وغیرہ۔

عادتوں کی مدد سے افراد کے علاوہ کمپنیاں بھی اپنا ماحول اور کام کاج  بہتر بنا سکتی ہیں ۔ اس کیلئے کمپنیوں کو کسی خاص عادت کو رواج دینا پڑے گا جو کہ مزید اچھی عادتوں کی راہ  ہموار کر سکتی ہو۔ یہ سنہری عادت زنگ آلودہ تالے کھول دیتی ہے اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کا سیلاب آ جا تا ہے۔

یہ بڑی خاص کہانی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کی طرح میں نے بھی لا شعوری طور پر بہت سی بری عادتوں کو جمع کر لیا تھا۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ ایسا ماحول اور روایات کی وجہ سے ہوتا ہے اس میں ہمارا قصور نہیں ہوتا۔ میری یہ عادتیں ورائٹی سے بھرپور تھیں ۔کچھ کا تعلق خیالات سے تھا اور کچھ کا جذبات سے، کچھ کا طرز زندگی سے اور کچھ کا تعلق اخلاقیات اور اصولوں سے۔ لیکن 37 سال پہلے قسمت کی دیوی مجھ پر مہربان ہو گئی۔ ایسا اتفاقاً ہو ا، یقین مانئیے میرے ارادے کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ میرا ایک دوست ہیروئن کا عادی ہو گیا اور مجھے بطور ڈاکٹر اس کی مدد کرنا پڑی۔  تب پاکستان میں منشیات سے بحالی کا کوئی بھی ماہر یا ادارہ موجود نہ تھا۔ یہ تھا میری زندگی میں ایک ٹرننگ پوائنٹ اور پھر کئی سال بعد امریکہ میں ٹریننگ سے بہت سی کامیابیوں کی راہ ہموار ہوئی، اب بھی میں ہر سال ٹریننگ کیلئے امریکہ جاتا ہوں۔

اس کیرئیر کے آغاز سے ہی میں نے محسوس کیا کہ منشیات سے بحالی کا کام بہت صبر آزما ہے۔ اس پیشے میں آنے کے بعد جلد ہی مجھے پتہ چل گیا کہ اس بیماری میں مبتلا مریضوں کیلئے کوئی عزت تھی نہ معالج  کیلئے کوئی آبرو۔ لہذا میں نے دو ٹارگٹ مقرر کئے۔ پہلا یہ کہ میں نے عادتوں کے پس پردہ رازوں سے پردہ اٹھانا ہے تاکہ نشے کے مریضوں کی بے بسی کو سمجھا جا سکے اور انہیں اس بیماری سے نجات دلائی جا سکے۔ دوئم یہ ہے کہ ایسی حکمت عملی وضع کی جائے جو بطور معالج مجھے بھی ایسی عزت دلائے جو دیگر معالجوں کے حصے میں آتی ہے۔ الحمدللہ میں نے دونوں اہداف حاصل کئے۔ اس کا اضافی انعام مجھے یہ ملا کہ میں نے اپنی ان گنت بری عادتوں کو سنوارا۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عادتیں بہت لچکدار ہوتی ہیں۔ عادتوں کے بارے میں زیادہ تر پیش رفت پچھلے 25 سال میں ہوئی اور اب عادتوں کو دماغ کی تہوں میں بنتے بگڑتے دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ہم خواہش کے اجزاء اور مزے کو برقرار رکھتے ہوئے ناقابل قبول روئیے کو قابل قبول رویئے سے بدلنے کا اہتمام کر لیں تو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ ایسا ہم زندگی میں کسی بھی مرحلے پر کر سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بڑھاپے میں ہم بدلنا ہی نہیں چاہتے ویسے بدلنے میں کوئی زیادہ مشکل پیش پھر نہیں آتی۔ دراصل عادتیں ہمارے ان فیصلوں پر مبنی ہوتی ہیں جو ہم کر کے بھول جاتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان پر دھول سی جم جاتی ہے۔ بعض اوقات نظر ثانی کی ضرورت بھی پڑتی ہے اور پھر ہم لٹھ لے کر اپنی عادتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں حالانکہ یہ زور آزمائی کا نہیں بلکہ سوچ بچار کا کام ہے۔ یہاں ایک لوہار کی نہیں 100 سنار کی ترکیب کام کرتی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments