عادتیں اور عِلتیں: کیسے بدلیں؟

4

بدقسمتی سے زیادہ تر لوگوں کیلئے عادتوں کو بدلنا وبال جان بن جاتا ہے؟ کیونکہ جب لوگ عادت بدلنے پر آتے ہیں تو صرف عادت کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے سیاق و سباق کو بھول جاتے ہیں اور ’’خواہش‘‘ اور ’’مزے‘‘ کے پہلو نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ لیکن ہم نے یہ سیکھا ہے کہ یہ دراصل خواہش کی یا د دہانی اور مزے کا چسکہ ہی ہیں جن کی ملی بھگت سے پرانا رویہ بار بار لڑھکتا ہوا سامنے آ جاتا ہے۔ عادتیں پکنے کے بعد دماغ کی اتھاہ گہرائیوں میں جا کر چھپ جاتی ہیں اور جس وقت وہ اپنا رنگ دکھاتی ہیں ہمیں یا تو پتا ہی نہیں چلتا یا پھر خفیف سا احساس ہوتا ہے۔ ایک مختصر وقفے کیلئے جیسے ہماری آنکھ لگ جاتی ہے یا پھر ہم سکتے میں آ جاتے ہیں اور ہم وہی کچھ کر بیٹھتے ہیں جو ہم نے نہ کرنے کا تہیہ کیا تھا تو باقی پھر احساس ندامت ہی رہ جاتا ہے۔

سائنسدانوں نے پتا چلایا ہے کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ اس چھان بین کا زیادہ تر سبب ان لوگوں کامشاہدہ تھا جو کہ دماغی بیماری یا چوٹ کی وجہ سے اپنی  یادداشت کھو بیٹھے تھے اور ہماری طرح سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے اور پھر بھی عادتیں سیکھنے پر قادر تھے۔  وہ نئے رویئے سیکھ  سکتے تھے۔ اس طرح پتا چلا کہ دماغ کا یہ حصہ جہاں عادتوں  کا ’’کاروبار‘‘ ہوتا ہے وہاں سوچ بچار کا کوئی خاص عمل دخل نہیں ہوتا، وہاں زیادہ تر کام کاج ایک سافٹ وئیر ہاؤس کے انداز میں ہوتا ہے۔

شاید عادتوں کو بدلنے میں مشکلات اس لیے ہوتی ہیں کہ ان کے مسکن تک رسائی ذرا مشکل سے ہوتی ہے۔ کسی روٹین یا خیال کے بارے میں ایک شعوری فیصلہ ہمارے دماغ کے ا س حصے میں ہوتا ہے جو کہ ذہانت کا مرکز ہے۔ بار بار یہی فیصلے کریں تو ہمارا دماغ اسے اپنے آئین کا حصہ بنا لیتا ہے۔ اگر کوئی فیصلہ ایک دفعہ آئینی ہو جائے تو تبدیلی کیلئے ’’دو تہائی‘‘ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے اور یوں ایوان بالا اور ایوان زیریں کا آپس میں تال میل بھی ضروری ہے۔ اردگرد کے ماحول پر نظررکھنا لازم ہے کیونکہ خواہش کا بٹن یہیں سے آن ہو تا ہے۔ ہماری زندگی میں انواع و اقسام کے مزے موجود ہوں تو کوئی عادت بدلنا آسان ہو جا تا ہے۔ بدمزگی سے وِل پاور کمزور پڑ جاتی ہے۔  لوگ دھونس دھاندلی اور زور زبردستی پر اتر آتے ہیں سزا دینے پر تل جاتے ہیں۔ عادتیں مزے سے بدلی جاتی ہیں بدمزگی سے نہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ ہم تو اپنی بری عادتوں پر خود بھی کافی لعنت ملامت کرتے ہیں۔ کسی صدارتی حکم نامے سے عادت کو براہ راست بدلنے کی بجائے ہمیں خواہش کے پس پردہ عوامل اور علت پوری کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مزے پر فوکس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے رہ گئی بات روئیے کی تو اسے کسی دوسرے روئیے سے بدلا جا سکتا ہے کسی رویئے یا روٹین کو صفحہ ہستی سے نہیں مٹایا جا سکتا۔ کسی ناپسندیدہ رویئے کو کمزور اور نحیف و نزار بنایا جا سکتا ہے۔ جیسے نئی ریکارڈنگ سابقہ ریکارڈنگ کو چھپا دیتی ہے لیکن کسی ریکارڈنگ کو براہ راست نہیں مٹایا جا سکتا۔ حتیٰ کہ کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک پر کوئی بھی یادداشت کمزور کی جا سکتی ہے صفحہ ہستی سے مٹائی نہیں جا سکتی۔ اور اگر کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک میں پس پردہ یادداشت کو بحال کرنا مقصود ہو تو ایسا آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ عادتوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ عادت مدھم بھی ہو جائے تو موقع ملتے ہی سر اٹھا لیتی ہیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کتنی بری ہوتی ہیں یہ عادتیں؟ نہیں! ہر گز نہیں! عادتیں بری نہیں فائدہ مند ہوتی ہیں۔ علتیں بری ہوتی ہیں۔ عادت اور علت میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ عادت نتیجے کے اعتبار سے اچھی ہوتی ہے اور علت بری۔ عادتیں نہ ہوتیں تو ہم کھپ جاتے، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر روزانہ مغز ماری کرتے۔  تاہم سوچے سمجھے بغیر سیکھی ہوئی عادتیں بعض اوقات اندرونی یا بیرونی حالات بدلے جانے سے وبال جان بھی بن جاتی ہیں اور پھر ہم انہیں علتیں کہتے ہیں۔ جب عادتیں بیمار پڑ جاتی ہیں اور پھر ہم مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments