عادتیں اور عِلتیں: کیسے بدلیں؟

5

اچھی عادتیں ہمارے ماسٹر مائینڈ کو آرام کا موقع دیتی ہیں اور کام کو بوجھل نہیں بننے دیتیں کیونکہ ہمارے دماغ کا ماتحت حصہ روبوٹ کی طرح معاملات چلاتا رہتا ہے۔  جیسا کہ میں نے پہلے کہا عادتیں لچکدار ہوتی ہیں اور اگر ہم ان پر کا م کریں تو ہمیں نتائج ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ علتوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بجائے اسے کسی عادت سے بدلا جاسکتا ہے،  مثال کے طور پر ہم وزن کم کرنا چاہتے ہیں اور ہاتھ نہیں رکتا، کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں تو ہمیں اس مزے کو جو کھانے سے ملتا ہے کسی اور مزے سے بدلنا پڑے گا اور کئی دفعہ تو کھانا بنیادی مقصد ہوتا ہی نہیں بلکہ بنیادی مقصد کچھ اورہی ہوتا ہے ۔

کیا لوگ ہوٹلوں میں صرف کھانے کیلئے جاتے ہیں؟ ہرگز نہیں، بلکہ آپس میں میل ملاپ اور ماحول بدلنے کیلئے جاتے ہیں اور کھانا بھی اس کا حصہ ہوتا ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف کھانے کیلئے جاتے ہیں۔ شام ہوتی ہے اور دوستوں کے ساتھ ڈنر کا پروگرام بناتے ہیں۔ اصل میں وہ آپس کی گپ شپ، خوبصورت ماحول اور اہمیت کی خواہش پوری کرنے جاتے ہیں۔ کھانا اس میں خاص اہمیت نہیں رکھتا زیادہ تر لطف دوسری چیزوں سے آتا ہے۔ اگر وہ کھانے کو کسی دوسری سرگرمی سے بدل دیں اور باقی سب کچھ ویسے ہی رہنے دیں تو فالتو کھانے پینے سے بچ جائیں گے۔

اگر کوئی عادت ڈالنا مقصود ہو تو کچھ پلاننگ کرنا ہو گی۔ وقت کوئی طے شدہ نہیں، اگر کوئی روٹین، رویہ یا فعل ایسا ہو جس کے فوراً بعد مزہ، فائدہ یا خوشگوار احساس ملے تو عادت بہت جلد پک جاتی ہے، جیسے سگریٹ، شراب اور چاکلیٹ وغیرہ۔ اور کچھ عادتیں ذرا دیر سے پکتی ہیں کیونکہ ان کا کوئی فوری انعام نہیں ہوتا، جیسے پڑھائی۔ کچھ عادتیں تو اور بھی مشکل سے پکتی ہیں جیسے کہ ورزش وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ ان عادتوں کو اپنا نہیں پاتے اور ’’مایوس‘‘ ہوکر ادھورا چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ ان کے بارے میں بے بسی ہرگز نہیں! جیسے ایجادات کی مدد سے زندگی بدل جاتی ہے ایسے ہی آج عادتوں کے حوالے سے حالیہ انکشافات کی وجہ سے ان عادتوں کو پکایا جا سکتا ہے جن کا انعام یا ریوارڈ بہت دیر سے ملتا ہے اور ابتداء میں بوریت یا تکلیف ہوتی ہے۔ مثلاً ورزش کی عادت کیلئے ورزش کے اختتام پر کوئی مزیدار مشروب جیسے کہ سردائی پینے سے دماغ سمجھتا ہے  کہ یہ مزہ ورزش سے آیا ہے اور اس طرح عادت پختہ ہونے لگتی ہے۔ پہلوانوں کو ہمیشہ سے اس طرح کسرت کرتے رہنے کی عادت ڈالی جاتی ہے۔کھلاڑی بھی یہی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ جن کاموں کے کرنے سے مزہ نہیں آتا لیکن مفید ہوتے ہیں، ان کاموں کے آخر میں مزے کی پیوند کاری کی جانا ضروری ہے یہاں تک کہ ان کے فوائد ظاہر ہونے شروع ہو جائیں، پھر آپ پیوند کاری چھوڑ سکتے ہیں کیونکہ پھر ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بچوں کو تعلیم کی عادت ڈالنے کیلئے بھی یہ طریقہ کارآمد ہو سکتا ہے۔ بچے خود یا ان کے ماں باپ بچے کو پڑھنے کے فوراً بعد شاباش اور مٹھائی وغیرہ دے سکتے ہیں منہ چوم سکتے ہیں اور گلے لگا سکتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اگر آپ اس قسم کا ’’انعام‘‘ ہٹا بھی دیں تو اب ورزش یا پڑھائی اپنا انعام خود بن چکی ہوتی ہے ۔ انعام یا مزہ ضروری ہے چاہے اندر سے ملے چاہے باہر سے۔ جب تک کوئی روٹین مزہ نہیں دیتی دماغ اسے مستقبل میں باقاعدہ استعمال کیلئے منتخب ہی نہیں کرتا۔ دماغ کی یہ احتیاط بھی ضروری ہے اگر ایسا نہ ہو تو ہم فضول اور بے مزہ عادتیں اکٹھی کر لیتے۔ جب ہم کوئی ورزش جیسی اچھی عادت اپنا رہے ہوں تو تھوڑی سی کامیابی پر ہی انعام ضروری ہے۔ مثلاً اگر آپ پہلے جوگر پہن کر گھر پر ہی چکر لگا لیں تو بھی اپنے آپ کو انعام دیں، دماغ کیلئے کامیابی کبھی چھوٹی نہیں ہوتی، یا تو یہ ہوتی ہے یا پھر نہیں ہوتی۔ کامیابی کو چھوٹا یا بڑا ہم قرار دیتے ہیں۔ ایک دفعہ عادت پڑ جائے تو بڑی کامیابیاں ہماری راہ تک رہی ہوتی ہیں لیکن یاد دہانی بھی عادت پکانے میں اہم مقام رکھتی ہے۔ سگریٹ پینے والا دور سے ہی بو سونگھ لیتا ہے۔ لوگوں کو شہرکے ریستوران ازبر ہوتے ہیں۔ سب پتا ہو تا ہے کہ کونسی مزیدار چیز کہاں سے ملتی ہے؟

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments