عادتیں اور عِلتیں: کیسے بدلیں؟

6

کھانے پینے کے ساتھ میری بیمار محبت بھی سر چڑھ کر بولتی تھی، کچھ اور بیمار محبتوں سے بھی چھٹکارا پایا، منشیات کی علت کبھی نہ لگی لیکن کچھ اور علتیں ضرور پریشان کرتی رہیں، اب کیا کچا چٹھہ کھولوں؟ یہ ایک لمبی جدوجہد ہے لیکن ایک بری عادت سے میں اب بھی نبرد آزما ہوں اور وہ ہے زیادہ کام کرنے کی عادت۔ ورکوہلزم۔  میں اس علت سے بھی نکل رہا ہوں۔ کیا آپ مانیں گے کہ 37 سال سے میں نے کوئی چھٹی نہیں کی اور نہ ہی میں بیمار ہو ا ہوں میں نے ہر روز کام کیا ہے۔ بلاناغہ۔ خوشی غمی بھی آئی پر کام کرتا رہا اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں، بلکہ ایک ایڈکشن کا شاخسانہ تھا جو میں نے اپنے والد سے سیکھی۔

زیادہ کھانے پینے کی عادت سے چھٹکارا پایا، وزن کم کیا، ابھی حال ہی کی بات بتاتا ہوں۔ میں روز 3 بجے اٹھ کر کیفے ٹیریا چلا جاتا اور پھر وہاں سموسہ، ٹماٹو ساس اور چائے چلتی۔ کچھ ہی ماہ میں وزن بڑھ گیا۔ بظاہر لگتا تھا کہ مجھے سموسوں کی ایڈکشن ہو گئی ہے لیکن کھوج لگانے سے پتا چلا کہ میں کام کرتے ہوئے فریش ہونے کیلئے چہل قدمی کرتا کرتا  کیفے ٹیریا چلا جاتا تھا اور پھر ماتحتوں سے گپ شپ کی اور بس واپسی۔میں نے اعلان کردیا کہ جس نے مجھ سے بات کرنی ہو، اس کو پھر میرے ساتھ واک بھی کرنی ہوگی۔ میں نے اسے خالی چہل قدمی اور ماتحتوں سے گپ شپ میں بدل دیا اور سموسے بیچ میں سے نکل گئے ۔تاہم کھانے کے ساتھ میری بیمار محبت کی کہانی بہت پرانی ہے۔ ڈاکٹر بننے کے فوراً بعد میں سعودیہ گیا تھا نوکری ڈھونڈنے کیلئے، قیام دوستوں کے ساتھ تھا۔ کسی کے پاس رہنا اور کسی کے ساتھ کھانا، ہر دم احساس رہتا کہ شاید اگلے وقت کھانا نہیں ملے گا اس لیے زیادہ کھا لیتا۔ یہ عقیدہ گھر کر گیا اور واپسی پرکئی سال بلا وجہ کھاتا رہا۔ پھر جب احساس ہوا تو عقیدہ بدلا۔ حالانکہ زیادہ کھائیں یا کم، جو کچھ بھی ہم کھاتے ہیں 4 گھنٹے میں وہ خرچ ہو جاتا ہے یا جسم میں سٹور ہو جاتا ہے۔ عادت کے پیچھے ایک عقیدہ بھی ہو سکتا ہے جو کہ اسے پیچھے سے دھکا دے رہا ہوتا ہے۔ یہ عقیدہ اس بنیادی عقیدے کے علاوہ ہے کہ اس ’’حرکت‘‘ سے مجھے فائدہ حاصل ہوگا یا مزہ یا پھر اچھا احساس یا تحفظ پیدا ہو گا، تاہم ’’عادت‘‘ کو کسی مناسب تگڑی یا قابل قبول عادت سے بدلا جا سکتا ہے۔ اسی طرح نا قابل قبول عادت کو کمزور اور نحیف و نزار کیا جا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے عادتیں مرتی نہیں، مد ہوش ہو سکتی ہیں۔ عادتیں بدلنے کا سنہری اصول یہ ہے کہ عادتیں آپ ایسے بدلتے ہیں جیسے آپ کپڑے بدلتے ہیں تاہم یاد رہے! آپ میلے کپڑے بدلنے کیلئے میلے کپڑے استعمال نہیں کرتے اجلے کپڑے کام میں لاتے ہیں اور عادتیں بدلنے کی راہ میں ایک رکاوٹ اعصابی دباؤ بھی ہے اس پر بھی براہ راست کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور عادتیں بدلنے کیلئے یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ آپ کس عادت کو بدل سکتے ہیں اور یہ عقیدہ منطق کی سطح پر نہیں بلکہ جذبات کی سطح پر حاوی ہونا چاہیے۔ کوچ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر کھلاڑی میں کامیابی کا عقیدہ نہیں اور جذباتی طور پرمستحکم نہیں ہے تو ساری پریکٹس اور محنت دھری کی دھری رہ جائے گی۔ اس قسم کے مضبوط عقیدے تنہائی میں نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی محفل میں پیدا ہوتے ہیں جو کہ دوستانہ رویوں کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمارے ٹوٹتے ہوئے اعتماد کو سہارا دیتے ہیں۔ کسی کے گھورنے، ڈرانے اور بے عزت کرنے سے عادتیں بدلنے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ سہارے اور آسرے انسان کیلئے بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں چاہے وہ خیال ہی کیوں نہ ہو۔ شگفتہ پہرے اور شائستہ رویے بھی بے پناہ مدد کرتے ہیں چاہے یہ مصنوعی ہی ہوں۔

ہم ایک ایسا معاشرہ ہیں جو کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر بری عادتوں کے گرداب میں ہے۔ لوگ منشیات، شراب اور کرپشن کی عادتوں میں مبتلا ہیں۔نوجوان لڑکوں میں بے راہ روی واضح نظر آ رہی ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ لوگوں کی عادتوں کو بدلنے کیلئے آسان طریقے موجود ہیں۔ اسی طرح پورے معاشرے کی علتوں کو بھی بدلا جاسکتا ہے مثلا لوگوں کی بجلی ضائع کرنے کی علت کو بدل کرلوڈشیڈنگ یکسر ختم  کی جا سکتی ہے۔
۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments