عادتیں اور عِلتیں: کیسے بدلیں؟

7

ہم لوگوں کو لعنت ملامت کرکے اور بے عزت کر کے بری عادتیں بدلنے کیلئے کہتے ہیں۔ ہم دقیا نوسی چیزوں سے آج کی دنیا کو بہتر بنانا چاہتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم راتوں رات تبدیلی کے خواب دیکھتے ہیں۔ حقیقت کی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ اگر ہم رات کو کپڑے تیار کر کے ہینگر پر لٹکا دیں تو صبح تیار ہونے میں آسانی ہو گی۔ ایک رات میں بس اتنا ہی ہو سکتا ہے۔ تبدیلی لانے کیلئے اور بھی بہت کچھ  کرنا ضروری ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ بچے پڑھیں تو شروع میں ان کے ساتھ بیٹھ کر پڑھیں۔ پڑھائی کے آخر میں کچھ مزیدار چیز کھلائیں کچھ شاباش دیں اور سینے سے لگائیں۔ آپ اچھا کام کریں تو پھر ٹی وی کے سامنے بیٹھیں اور مزہ کریں۔ ہمیں زندگی کے لطف و سرور اور مزے کو عادتوں کی تعمیر کیلئے استعمال کرنا چاہیے۔ اگر آپ لڑائی جھگڑا کریں گے اور پھر افسردہ ہو کر کیک پیسٹری کھانے بیٹھ جائیں گے تو دماغ یہ سمجھے گا کہ یہ لڑائی جھگڑے کا انعام ہے۔ دماغ کا ایک بڑا حصہ بہت بھولا ہے۔ اس کے بھول پن کو اپنے حق میں استعمال کرنا سیکھیں۔

یہ سادہ اور آسان کام ہے ۔یہ جان لینا کہ عادتوں کو اپنے حق میں کیسے بدل سکتے ہیں صرف معاملات کو آسان دکھاتا ہے، محض جان لینے سے کام نہیں ہوتا، کام کرنے سے ہوتا ہے، کچھ کرتے نظر آنے سے کام نہیں ہوتا ۔ کرنے سے کام ہوتا ہے، اسے ہم جدوجہد کہتے ہیں۔ لیکن روڈ میپ تو ظاہر ہے سب سے پہلے ضروری ہے۔ عادتیں بدلنے کی عادت پڑ جائے تو اسے ہم وِل پاور کہیں گے ۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ول پاور بھی ایک عادت ہوتی ہے ۔ کچھ لوگوں نے قوت ارادی کی عادت کو پکایا ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کچھ کر دکھانے کی بات کرتے ہیں اور بالآخر کچھ کر دکھاتے ہیں اور یہ سب کچھ جادوئی نظر آتا ہے حالانکہ کہ یہ محض عادت کے ڈھانچے کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے ہی ہوتا ہے۔ میں نے اس علم کو حاصل کرتے ہوئے اپنے اندر واضح  تبدیلی محسوس کی ہے،  میں کچھ بھی کرتے ہوئے مستعد رہتا ہوں۔ اپنے پیشہ ورانہ کام کی وجہ سے میں کافی حد تک آگاہی پا چکا ہوں اور جو کچھ میں کر تا ہوں اس پر میری گہری نظر ہوتی ہے ۔میں عادتوں کو بدلتے ہوئے اب جھنجھلاتا نہیں ہوں، ان میں سے زیادہ تر عادتوں کا تعلق کام کاج کی جگہ سے ہے کیونکہ میرا کام میرا جنون بھی ہے ، میں اسے ایک دلچسپ کھیل کی طرح لیتا ہوں جس میں پس پردہ  بے پناہ ریاض بھی شامل ہے۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری وہ عادتیں جن کا تعلق سوچنے کے انداز سے ہے انہیں بدلنے کے بعد میں نے بہت آسانی محسوس کی ، انجانے میں اور مہربانوں کی مہربانی سے میں نے سوچوں کے کچھ ایسے انداز اختیار کر لئے تھے جو تکلیف دہ تھے۔ہماری سوچیں ایک سافٹ وئیر کا درجہ رکھتی ہیں ۔بہت سی پرانی سوچیں اور عقیدے بھی خرابی کی وجہ بنتے ہیں جو نسل در نسل ہمیں ایک ’’تحفے‘‘ کی طرح ملتے ہیں اور پھر دکھوں کا تسلسل چلتا ہے ۔ اب میں غوروفکر کرتا ہوں اپنے ان رویوں کو انعام سے نوازتا ہوں جو تعمیری ہیں اور میں انعام پر غور کرتا ہوں کہ آیا انعام واقعی انعام ہے یا انعام کے روپ میں کوئی گورکھ دھندہ ہے۔ اب میں ان رویوں کو نوازتا ہوں جن کو پروان چڑھانا چاہتا ہوں جو میرے اور دوسرے لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ میں اپنے ادارے میں اجتماعی رویوں پر بھی گہری نظر رکھتا ہوں اور ان رویوں کو نوازنے کی کوشش کرتا ہوں جن میں تال میل اور تعمیر کا پہلو نمایاں ہو۔

مجھے اندازہ ہے کہ ایڈورٹائزنگ اور مارکیٹنگ میں بہت کچھ لوگوں کی عادتوں پر اثر انداز ہونے کیلئے کہا جاتا ہے تاکہ آپ ان کی مصنوعات کی عادت میں مبتلا ہو جائیں لیکن ٹوتھ پیسٹ اور برش کا استعمال سو سال پہلے شروع ہوا تو اس وقت ان کے ہاتھ میں یہ ساری سائنسی معلومات نہ تھیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ازل سے انسان قیافے یا چھٹی حس کی بنیاد پر بہت کچھ پہلے کر گزرتا ہے اور بعد میں اسرار کے پردے اٹھاتا ہے۔ بحری سفر کے دوران بہت سے لوگ مر جایا کرتے تھے۔ پھر ایک کیپٹن نے اپنے شپ میں لیمن جوس کا رواج ڈالا اور لوگ مرنے سے بچ گئے۔ لوگوں نے اس کے ’’نسخے‘‘ کو دو سو سال بعد اپنایا اور اس سے بھی کافی بعد میں پتہ چلا کہ اموات وٹامن سی کی کمی سے ہو رہیں تھیں۔ وجہ سکروی کی بیماری تھی اور وٹامن سی لیموں میں وافر ہو تا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments