عادتیں اور عِلتیں: کیسے بدلیں؟

8

اسی طرح ایک ایڈورٹائزنگ کے ماہر کلاڈی نے پتا چلایا کہ اگرچہ ٹوتھ پیسٹ سے دانت پر جمی نقصان دہ تہہ اترتی ہے اور مسکراہٹ نکھر جاتی ہے لیکن لوگوں کو برش کرنے کے فوراً بعد منہ میں صفائی کا احساس درکار ہو گا اور اس کیلئے کچھ کیمیکلز کار آ مد پائے گئے۔  سچ مچ کی خوبصورت مسکراہٹ کا انتظار کرتے ہوئے لوگ بے صبرے ہو سکتے تھے لہذا اس انتظار کو خوبصورت بنانے اور برشنگ کی عادت پختہ کرنے کیلئے منہ میں صفائی اور تازگی کا مصنوعی احساس پیدا کیا گیا۔ آپ ورزش اور پڑھائی کی عادت ڈالنے کیلئے یا ورکرز کو وقت پر دفتر بلانے کیلئے بھی اس طرح کی ترکیبیں استعمال کر سکتے ہیں۔ اداروں میں بھی اس طرح سامنے کسی چیز کو رکھ کر پس پردہ کچھ اچھی عادتوں کی نشوو نما کی جاسکتی ہے۔ میں ایک بہت بڑے صنعتی ادارے کے حالات سے واقف ہوں جہاں کئی سال پہلے کام بند تھا اور خسارہ آسمان کو چھو رہا تھا۔ ایک صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ آپ اس ادارے کو منافع بخش اور کامیاب بنائیں۔ کمپنی میں ہڑتال تھی۔ ان صاحب نے ذمہ داری قبول کی اور کمپنی میں ورکرز کا تحفظ اور ان کی اچھی صحت کو اپنا پہلا گول بتایا۔ لوگ بہت حیران ہوئے کہ ان صاحب کو تو یہ کام سونپا تھا کہ کمپنی کو منافع بخش بنائیں اور یہ تو ورکرز کے سگے بن رہے ہیں۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے کمپنی منافع بخش ہو گئی۔ بعض عادتیں سنہری ہوتی ہیں اور وہ دوسری بہت سی اچھی عادتوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں ۔

جیسے ہمارے ادارے میں بنیادی گول یہ ہے ہر ایک کیلئے عزت ’نفس‘ اوراسی ایک چیز سے سارا کلچرتشکیل پاتا ہے۔ اس طرح ورزش ہم سب کی زندگی میں ایک سنہری عادت ہو سکتی ہے۔  صحت مندی کے علاوہ اس سے کھانے پینے میں بھی اعتدال آ جاتا ہے ۔چلیں یہ تو سمجھ میں آتاہے لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ ورزش سے فضول خرچی بھی ختم ہو جاتی ہے۔  ہے ناں یہ ایک حیرت انگیز بات؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ احتیاطوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، جو ہونا ہوتا ہے وہ تو ہو جاتا ہے،  ساری احتیاطیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔  میں تو پورے یقین سے کہتا ہوں کہ فرق پڑتا ہے۔ دیکھئے! اندازاً دنیا میں دس لاکھ جہاز دنیا کے مختلف ائیر پورٹوں سے ٹیک آف اور لینڈنگ کرتے ہیں اور یہ احتیاطوں کا ہی ثمر ہے کہ روزانہ خیریت سے یہ کام ہوتا ہے حالانکہ یہ بہت پیچیدہ کام  ہے اسی طرح اگر ہم زندگی میں احتیاطوں کو اپنی عادت بنا لیں تو کامیابی کا امکان بڑھ جا تا ہے۔ آپ کی علتیں چاہے سوچ کی ہوں یا برتاؤ کی یا پھر آپ منشیات کے چنگل میں ہوں، انہیں یقینا بدلا جاسکتا ہے

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments