اس کہانی کا مرکزی کردار ایک نوجوان لڑکا ہے جس کا نام پپو ہے، وہ ایف ایس سی پری میڈیکل کا طالب علم ہے۔ اس کا تعلق فیصل آباد کے ایک امیر گھرانے سے ہے۔ آسائشِ زندگی کی فراوانی کے باوجود پپو کے تعلقات اپنے گھر والوں سے ٹھیک نہیں ہیں۔ وہ پریشان رہتا ہے اور اپنے جیسے نوجوانوں کی طرح بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ ایک دن حالات کے پیشِ نظر وہ گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ بدقسمتی سے اُسے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

ایک رات پپو کی اپنے والد سے جھڑپ ہو جاتی ہے۔ پپو پانی پینے کے لیے کچن کی جانب جاتا ہے اور بوتل کو منہ لگا کر پانی پی رہا ہوتا ہے۔ جیسے ہی وہ بوتل کو منہ لگائے پیچھے کی جانب مڑا تو سامنے ہی اسکے والد شیخ جلال دین ماتھے پر سلوٹیں ڈالے کھڑے تھے۔ پپو انکو دیکھ کر وہاں سے جانے لگتا ہے تو وہ پیچھے سے غصے میں بولنے لگ جاتے ہیں۔

والد: تمہیں تو اتنی بھی تمیز نہیں کہ باپ کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔
پپو: اب میں نے آپ کو کیا کہہ دیا؟ میں تو خاموشی سے کمرے میں جا رہا تھا۔
والد: ہاں تو، کوئی سلام دعا کرنا بھی سیکھا ہے کہ بس باپ کے پیسے پر عیاشی کرنا ہی آتا ہے۔
پپو: (غصے سے باپ کو دیکھتا ہے)۔



Fallback or ‘alternate’ content goes here.
This content will only be visible if the SWF fails to load.



والد: باپ کو آنکھیں دکھا نے سے قبل یہ بھی سوچ لیا کرو کہ تم میرے گھر میں کھڑے ہو، میرے پیسوں پر پل رہے ہو۔ اسکا کوئی احساس بھی ہے کہ میں تم لوگوں کے لیے کتنی محنت سے کماتا ہوں
پپو: ہاں تو، کماتے ہیں تو کیا احسان کرتے ہیں؟
والد: تم جیسی نکمی اولاد جن کو بغیر کسی محنت کے سب کچھ مل جائے ان پر احسان ہی ہوتا ہے۔
پپو: اس گھر میں تو رہنا کیا، پانی پینا تک دوبھر ہو چکا ہے۔
والد: ہاں تو، کوئی تمہیں زبردستی یہاں روکے ہوئے نہیں ہے۔
پپو: ہاں میں ویسے ہی چلا جاتا ہوں ادھر سے اور اس گھر سے ہمیشہ کے لیے۔
والد: اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی؟ تمہارے جانے سے تو ہم واپس دنیا میں آ جائیں گے ، تمہارے جیسی اولاد ہونے سے تو بے اولاد ہونا ہی بہتر ہے۔ جاؤ چلے جاؤ، دفعہ ہو جاؤ اور دوبارہ مجھے کبھی اپنی شکل نہ دکھانا۔
پپو: ہاں! ہاں! میں ابھی دفعہ ہوجا تا ہوں۔
والد: میری نظروں سے دور ہو جاؤ، جاؤ اپنے کمرے میں مرو۔ حرام زادہ، اُلو کا پٹھا، باتیں کس قدر آتی ہیں تمہیں۔ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا۔

رات گئے تک پپو کروٹیں بدلتا رہتا ہے۔ فجر سے کچھ دیر پہلے اسکی آنکھ لگ جاتی ہے۔ رات بھر اسکی ماں بھی نہ سوئی، بار بار کمرے میں جھانک کر اس دیکھتی رہی۔

شیخ جلال دین جو کہ فیصل آباد کے نامی گرامی کاروباری فرد ہیں، اپنی کاروباری مصروفیت کے سلسلے میں انہیں اکژ شہر سے باہر جانا پڑتا ہے۔ سہ پہر کے وقت پپو کی والدہ سو رہی ہیں اور گھر کے باقی افراد گھریلو کاموں میں مصروف ہیں۔ پپو یہ ’’سنہری موقع‘‘ کھونا نہیں چاہتا۔ وہ بیگ اٹھاتا ہے اور اس میں مختلف چیزیں ٹھونسنا شروع کر دیتا ہے، آج وہ اپنے گھر سے بھاگنے کا حتمی فیصلہ کر چکا ہے۔

آپ نے گھر سے بھاگ جانے والے نوجوانوں کے بارے میں سُن رکھا ہو گا۔ آپ یقیناً سمجھ سکتے ہیں کہ وہ لوگ کیسا محسوس کرتے ہوں گے؟ جب وہ کالج کیفے ٹیریا میں بیٹھے یا کسی دوست کے گھر یا اپنے ہی بیڈروم میں کہتے ہیں کہ ’’باتیں تو بہت ہو چکیں اب عمل کرنا چاہیے‘‘ تو اس سے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے۔

پپو کے ذہن میں یہ سوالات اُمڈ رہے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ کیا لے کر جائے؟ اُسے یہ بیگ کتنی دیر تک اٹھانا ہو گا؟ آخر کتنا سامان وہ مسلسل اٹھائے رکھ سکتا ہے؟ اور اگر اُسے تمام دن یہ سامان اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھنا ہوا تو۔۔۔؟ وہ خیال کرتا ہے کہ شاید اُسے اپنی بہت سی پسندیدہ چیزوں کو چھوڑ کر جانا ہو گا۔۔۔ وہ چیزیں جو اس کیلئے بہت قدروقیمت رکھتی ہیں جیسے کہ اُس کی میوزک سی ڈِیز، اُس کے پسندیدہ لوگوں کی تصویروں کے پوسٹر۔۔۔ کیا وہ یہ سب سامان چھوڑ سکتا ہے جس سے جدا ہونے کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔۔؟

پپو اپنی باقی ماندہ پسندیدہ چیزوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اپنے آپ کو تسلی دیتا ہے اور سوچتا ہے کہ جب وہ یہاں سے چلا جائے گا تو اُسے اس سے بھی زیادہ بہتر زندگی اور اشیاء میسر آئیں گی۔ پپو کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ اُسے تو ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے کی عادت ہے تو کیا وہ کچھ کھانا بھی اپنے ساتھ لے سکتا ہے؟ اس خیال سے اس کا ذہن چونک اٹھتا ہے اور وہ کچن میں موجود چاکلیٹ، بسکٹ، چپس، نمکو وغیرہ اُٹھا کر اپنے بیگ میں رکھ لیتا ہے۔

*اگلا صفحہ