پپو ایک چوراہے پر پہنچ کر بند جنرل سٹور کے تھڑے پر بیٹھ جاتا ہے اور پریشانی کے عالم میں سوچ و بچار کرنے لگتا ہے۔ گاڑیاں چیختی چنگھاڑتی ہوئی اس کے پاس سے گزر جاتی ہیں۔ اُس کے تخیل میں عجیب و غریب لوگ آنا شروع ہو جاتے ہیں اور ٹریفک کی سُرخ، پیلی اور سبز بتیاں اُس کے ذہن پر سوار ہو جاتی ہیں۔ پپو اپنے دماغ کی پردہ سکرین پر دیکھتا ہے کہ ایک بلی چوہے کے بچے کو پکڑ کر فخریہ انداز میں باورچی خانہ کے فرش پر چھوڑ دیتی ہے، پھر پکڑتی ہے اور چھوڑ دیتی ہے، وہ ابھی تک زندہ ہے اور پریشان اور ڈر سے کانپتا ہوا نڈھال پڑا ہے۔ بھوک کی وجہ سے پپو کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ پپو سوچتا ہے کہ اُس نے کبھی غذا کو نشے کے طور پر نہیں لیا تھا لیکن اب اس کے ذہن میں ایسے لوگوں کا تصور آرہا تھا جو کھانا چھن جانے کی صورت میں ایک نشے کے عادی شخص کی طرح اُسے واپس حاصل کرنے کیلئے چھینا جھپٹی کرنے لگتے ہیں لیکن میں کیا کرسکتا ہوں؟ پپو پریشان اور مفلوک الحال محسوس کرتا ہے۔ پھرپپو سوچتا ہے کہ گھر سے بھاگ جانا بہت سی قربانیوں کا تقاضا کرتا ہے اور آخر وہ آزادی مل جاتی ہے جو کہ گھر پر میسر نہیں تھی۔ اب مجھ سے کوئی بھی پوچھ گچھ کرنے والا نہیں ہے اور اب مجھے حساب کے مشکل سوالات بھی حل نہیں کرنے پڑیں گے۔

’’کسی چیز کی ضرورت؟ تمہیں بھوک لگی ہوئی ہے؟‘‘ پپو سے تھوڑی سی عمر میں بڑا نوجوان پوچھتا ہے۔
’’نہیں، مہربانی‘‘ پپو اپنی خیالوں کی دُنیا سے باہر آتے ہوئے حیرت بھرے لہجے میں جواب دیتا ہے۔
’’اوہ! کوئی نشہ آور گولیاں؟‘‘ وہ پپو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پھر پوچھتا ہے۔
وہ شخص ہتھیلی کھولتا ہے جس میں نشہ آور گولیوں کاپیکٹ ہوتا ہے۔

پپو گھبرا جاتاہے، ابھی پپو اُس نوجوان کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ دو اور لڑکوں نے پپو کو تنگ کرنا شروع کر دیا لیکن اُس نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور انہیں نظر انداز کر دیا۔ لڑکوں کے چلے جانے کے بعد پپو کو اپنے سکول کے دن یاد آنے لگے جب وہ دوسرے لڑکوں کو ڈرایا دھمکایا کرتا تھا اوراُن سے پیسے لے لیا کرتا تھا۔ اس خیال کے ساتھ ہی اُس نے جیبوں میں ہاتھ ڈالا تو اُسے ایک دردناک حقیقت کا سامنا کرنا پڑا، اُس کی جیبیں خالی تھیں، اس کی جیب بھی کٹ چکی تھی۔

انتہائی بھوک اور مکمل صدمہ کی حالت میں پپو کو اُمید کی کرن نظر آتی ہے جب ایک نئی ہنڈا سوِک میں بیٹھا ایک ادھیڑ عمر شخص اُس کی طرف مسکرا کر دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’اوئے! تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘
پپو محسوس کرتا ہے کہ اُس کی آواز اگرچہ اتنی شائستہ نہیں مگر دوستانہ ضرور تھی۔ ابھی پپو شش و پنج میں ہوتاہے

کہ کیا جواب دے بڑے میاں دوبارہ گفتگو کرتے ہیں ۔
’’اوہ! برا نہ مناؤ، میں نے تمہیں اپنا بچہ خیال کیا، میں ایک ہائی سکول میں انگریزی کا استاد ہوں۔ تم کسی خیال میں کھوئے ہوئے ہو، خیریت تو ہے ؟
’’مجھے بھوک لگی ہے‘‘ پپو نقاہت سے جواب دیتا ہے۔
’’ چلو میں تمہیں برگر کھلاتا ہوں‘‘ بڑے میاں اس کو پیشکش کرتے ہیں۔

*اگلاصفحہ