پپو’نئی زندگی‘ کے نمائندوں سے کارڈ لے کر رکھ لیتا ہے اور ان کی اس مہربانی کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ ’بجلی‘ اور ’پوتنی دا‘ پپو کو ایک نئی جگہ ’گوالمنڈی‘ لے گئے۔ وہاں پر وہ پپو کا تعارف ایک کٹے پھٹے چہرے والے لڑکے ’چن چیتا‘ سے کراتے ہیں جو گوالمنڈی کے ایک چوک میں بھتہ لینے کیلئے کھڑا ہے۔ چن چیتا پپو کو اپنی جگہ پر تھوڑی دیر کے لیے کھڑا ہونے کو کہتا ہے اور خود بجلی اور پوتنی دا کو ساتھ لے کر ایک طرف چل پڑتا ہے۔

گوالمنڈی ایک ایسی جگہ ہے جو ہسپتال روڈ کے نزدیک واقع ہے، جس کے فٹ پاتھ پر بہت سے لوگ سو رہے ہیں، پپو سوچتا ہے کہ شاید یہ سب بھی اُس کی طرح گھر سے بھاگ کر آئے ہوئے ہیں لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ سب لوگ پپو جیسے حالات سے دوچار نہ ہوئے ہوں۔ پپو کے خیالات کا تانا بانا اس وقت منتشر ہوتا ہے جب چن چیتا کا ایک ساتھی لڑکا پپو کو آواز دیتا ہے اور اپنے ساتھ چن چیتا کی رہائش گاہ پر چلنے کیلئے کہتا ہے۔ وہ لڑکا پپو کو ایک بڑے سے مکان میں لے جاتا ہے جہاں روشنی بہت ہی کم ہوتی ہے، پپو دیکھتا ہے کہ بائیں جانب کافی سارے گدے ایک قطار میں بچھے ہوتے ہیں۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر جھلملاتی ہوئی موم بتیوں کے اردگرد نوجوان گروہ بنائے ہیروئن پی رہے ہوتے ہیں۔ ایک لڑکا قینچی سے ایک نوجوان کے بال کاٹ کاٹ کر آگ میں پھینک رہا ہے جس کی بدبو سے پورا ہال نما کمرہ بھرا ہوا ہے۔

’’تم کون ہو؟‘‘ ایک بھاری بھر کم آواز پپو کے کانوں میں گھونجتی ہے۔
’’میرا نام ’پپو‘ ہے، میں ’بجلی‘ اور ’پوتنی دا‘ کا ساتھی ہوں۔‘‘ پپو جواباً کہتا ہے۔
’’میں بِلّاقصائی ہوں اور یہاں کا انچارج ہوں‘‘ وہ شخص بھاری ہاتھ پپو کے کندھے پر رکھتے ہوئے کہتا ہے۔

وہاں پر موجود نوجوان اپنے ہئیر سٹائل سے مختلف کارٹونوں کے کردار لگ رہے ہوتے ہیں۔ پپو اس ماحول میں خوف محسوس کرتا ہے اور دل ہی دل میں خدا کو یاد کر تا ہے۔ اُس کے چہرے پر موجود گھبراہٹ کے آثار رات ہونے کی وجہ سے نمایاں نظرنہیں آتے۔ اسی اثناء میں ایک طرف سے پپو کی عمر کا ایک نوجوان لڑکا نمودار ہوتا ہے۔ جسے دیکھ کر حجامت بنانے والا لڑکا (ہوا میں قینچی لہراتے ہوئے)کہتا ہے کہ اب تمہاری باری ہے۔ وہ لڑکا حجامت بنانے والے لڑکے سے اپنے بالوں کا اچھا سا اسٹائل بنانے کی عاجزانہ درخواست کرتا ہے۔

’’تم کیا کام کرتے ہو؟‘‘ حجام اُس خوبصورت لڑکے کے بال کاٹتے ہوئے سوال کرتا ہے۔
’’بِلاّقصائی اور میں فورٹ روڈ پر لوگوں سے بھتہ وصول کرتے ہیں‘‘ لڑکا جواب دیتا ہے۔
’’بِلاّ قصائی کا نام بہت مشہور ہے، اُس کی بڑی دہشت ہے، اُس کے نام پر لوگ پیسوں کی بارش کردیتے ہیں، بِلاّ نے ایک دفعہ ایک نوجوان کو مار مار کر لہولہان کردیا تھا‘‘ لڑکا حجام کو مزید بتاتا ہے۔

تھوڑی دیر بعد بِلاّ قصائی، پوتنی دا اور بجلی واپس آجاتے ہیں، بِلاّ قصائی ایک گدے پر لیٹ جاتا ہے، پوتنی دا اور بجلی بھی اس کے دونوں اطراف میں آکر لیٹ جاتے ہیں۔ پھر بِلاّ قصائی پپو کو اپنے پاس بُلاتا ہے اور خود چرس بھرا سگریٹ سلگا لیتا ہے۔

*اگلاصفحہ