پپو نے پروفیسر کو من مانی کا موقع دیا۔ وہ اس وقت مزاحمت نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ اُس وقت اُسے بہت ذلالت کا احساس ہو رہا تھا۔ جب پروفیسر مطمئن ہوگیا تو پپو نے اُس سے روپے جھپٹے اور غسل خانے کی طرف لپکا۔ تلاش کرنے پر پپو کو بہت ہی بوسیدہ اور چھوٹا سا غسل خانہ نظر آیا ،خستہ حالی کے باوجود اُس کا دروازہ لاک ہوسکتا تھا۔ پپو نے غسل خانے کا سرسری جائزہ لیا تو صابن دانی کو خالی پایا۔ پپو نے اِسی کو غنیمت جانا اور جلدی سے اپنے آپ کو صاف کرنا شروع کیا۔ تھوڑا سا پانی چھلک کر پینٹ پر گر گیا جسے چھپانے کیلئے پپو نے اپنی شرٹ باہر نکال لی۔

غسل خانے سے باہر جاتے ہوئے اچانک اُس کی نظر اُس گھسے پٹے آئینے پر پڑی جس میں اپنے چہرے پر نظر پڑتے ہی اسے عجیب سا احساس ہوا۔بظاہر اُس کا چہرہ تو باکل پہلے جیسا ہے۔ اُس نے جو کچھ بھی کیا تھا اس کے باوجود وہ بہت زیاد ہ شرمندہ نہ تھا۔
اُس نے سوچا، وہ سینکڑوں لوگوں کے درمیان آرام سے چہل قدمی کرسکتا ہے صرف اُسے ہی معلوم ہے کہ آگے بڑھنے کیلئے وہ کیا کررہاہے۔

غسل خانے سے باہر نکل کر پپو اُس نوجوان کو تلاش کرتا ہے جس نے اسے کمرہ شےئر کرنے کی پیشکش کی تھی۔ پپو سوچنے لگا کہ کہیں وہ لڑکا بھی باقی آدمیوں کی طرح ہم جنس پرست تو نہیں؟ یا پھرخود اُس کی طرح محض گھر سے بھاگا ہواایک نوجوان ہے۔ اِن سب خیالات کو جھٹک کر وہ سوچنے لگا کہ وہ نوجوان خاصا دوستانہ رویہ رکھتا ہے پپو کو ایسے لوگوں سے بات کر کے اچھا لگنے لگا۔ کافی لوگ وہاں موجودہیں اور بہت سے لوگ آ جا رہے ہیں مگر اُن سب میں اُسے وہ نوجوان کہیں نظر نہیں آرہا۔ پپو سوچتا ہے کہ اب کسی ہوٹل کے کمرے کا کرایہ خود ہی دینا پڑے گا۔ یہ سوچتے ہوئے وہ اُس جگہ سے آدھا کلومیٹر دُور ایک ہوٹل کے سامنے پہنچ جاتا ہے۔
انتظامیہ کی کھڑکی کے سامنے وہ ایک بڑی عمر کے شخص کو دیکھتا ہے جو اپنا بل ادا کر رہا ہے۔

اچانک اُس کی نظر ایک راہ داری کے دروازے پر پڑتی ہے، وہاں اُسے ایک خوبصورت اور چنچل لڑکی نظر آتی ہے ۔ اُس کے لمبے سرخ بال اُس کے گالوں کو چھوتے ہوئے بڑی شان سے اُس کے کندھوں تک آتے ہیں۔ اپنی دو انگلیوں کے درمیان ایک نقلی پلک پکڑے ہوئے وہ ٹکٹکی باندھے خاموشی سے پپو کو دیکھ رہی ہے۔ جب وہ پپو کو دوسری دفعہ اپنی طرف متوجہ دیکھتی ہے تو اسے اپنے پاس بلانے کیلئے اشارہ کرتی ہے۔ اتنی دیر میں پپو کی باری آجاتی ہے اور بکنگ کاؤنٹر پر کھڑا شخص ایک نظر اُس پہ ڈالتا ہے اُس سے170 روپے مانگتا ہے۔ پپو اُس شخص کی توجہ ایک چھوٹی سی تختی کی طرف دلاتا ہے جس پر 135 روپے لکھا ہوا ہے۔ وہ شخص پپو کی بات کو نظرانداز کر کے دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو جاتا ہے۔ وہ لڑکی پپو کو اپنی طرف بلاتی ہے اور بتاتی ہے کہ اس جگہ پر سب ہوٹل والے آنے والے نوجوانوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔ وہ پپو کو اپنے کمرے میں آنے کی دعوت دیتی ہے۔ پپواُس کے بوسیدہ کمرے میں جھانکتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کمرہ تو 100 روپے کے قابل بھی نہیں ہے۔

*اگلاصفحہ