پپو دروازے کو جھٹک کر کھولتاہے اور بجلی کی مانند باہر نکل جاتاہے۔ وہ پیچھے مڑے بغیر تیز تیز قدموں کے ساتھ چلنا شروع کر دیتاہے۔ میکڈونلڈز ریسٹورنٹ سے چند قدم آگے ڈیمونٹ مورنسی کی عمارت کے سامنے ایک چھوٹی سی دیوار پر بیٹھ جاتاہے۔ اُس کی آنتیں قل ھو اللہ پڑھنے لگتیں ہیں۔ اُسے وقت کے بھاری پن کا احساس ہونے لگتاہے۔

نیلے رنگ کی ہنڈا سِوک پپو کے قریب آکر رُکتی ہے۔ اُس میں بیٹھا ہوا جوان آدمی کھڑکی کا شیشہ نیچے کرتاہے۔ وہ ایک معتبر شخص معلوم ہوتا ہے۔ وہ پپو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن پپو اُسے نظرانداز کر دیتا ہے۔ وہ پپو کو دوبارہ بلاتا ہے لیکن اس دفعہ پپو دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ مایوسی کے عالم میں وہ رفو چکر ہوجاتا ہے۔

اس دوران کئی گاڑیاں پپو کے پاس سے گزر تی ہیں، گاڑیوں میں اکثر ادھیڑ عمر سوار نظر آتے ہیں۔ جب پپو اُ ن سے بے توجہی برتتا ہے تو وہ ایک لمحے کے لیے انتظار کرتے ہیں اور پھر روانہ ہوجاتے ہیں۔پپو تصور کرتا ہے، بر گر کی دکان پر بچہ نے دس منٹ میں پانچ سو روپے کما لئے تھے۔ پپو دس منٹ کی خستہ حالی کا کسی ہوٹل کے کمرے میں تمام رات سونے سے موازنہ کرتا ہے۔

کسی بھی اُدھیڑ عمر کے شخص کے ساتھ رات گزارنے کا خیال اُسے بیزار کر دیتا ہے لیکن پپو ان لوگوں کو منفی انداز میں جواب دیتا ہے۔ پپو جانتا ہے کہ جب تک وہ یہاں پر بیٹھا رہے گا وہ لوگ آتے رہیں گے اور اس کے کسی بھی گاڑی میں بیٹھنے کے امکانات روشن ہورہے ہیں لیکن وہ ہمیشہ کی طرح انہیں نظرانداز کرتا ہے۔ اگر وہ مسلسل یہاں بیٹھا رہا تو جلد یا دیر سے بھوک، تھکاوٹ اور مایوسی کے عالم میں کسی بھی گاڑی میں سوار ہو سکتا ہے۔ اور پھر۔۔۔

اس سے پہلے کہ پپو کو کوئی پچھتاوا ہو اس نے بہتر سمجھا کہ وہ اس جگہ کو خیر باد کہہ دے۔ اضطراب کے عالم میں پپو ایک چھوٹی سی گلی میں پیدل چلنا شروع کر دیتا ہے۔

پپو ایک بے یار و مددگار شخص کی تصویر بنا ہوا ہے، وہ بھوک سے نڈھال ہوتا ہے اور جیب میں ایک پائی بھی نہیں ہوتی۔ لوگ پپو کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا تے ہیں۔ کیا وہ اُس ٹی وی کمرشل کا تصور کر سکتا ہے جس میں افریقہ میں رہنے والا ایک سولہ سالہ لڑکا بھوک سے نڈھال موت کی آغوش میں ہے اور اس کا چہرہ مکھیوں اور مٹی سے بھرا پڑا ہے۔ تب ایک سفید فام ادھیڑ عمر شادی شدہ شخص جو کہ ریلیف ورکر ہے ایک ہاتھ چاول کی پیالی لیے نظر آتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے اس کو پراگندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

’’ تو تمہیں کھانا چاہئیے !‘‘
’’کیا تم جانتے ہواُس کیلئے تمہیں کیا کرنا ہے؟‘‘
یہ ایک کائناتی اُصول ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ پاکستان ہے اور بھوکا نوجوان پپو فیصل آبادی ہے۔
صبح کے تقریباً تین بج چکے ہیں۔مختلف نوعیت کے جوڑے ایک سٹور کے سامنے سگریٹ لیتے ہوئے پپو کا مذاق اُڑاتے ہیں اور اُسے کوئی کام کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ پپو اُن کو جواباً چِلّا کر کہتا ہے کہ درحقیقت وہ پہلے ہی
’’ کام‘‘ کو مسترد کر چکا ہے۔

*اگلاصفحہ