پپو ڈی وی ڈی پلیئر اُٹھا کے پچھلے دروازے سے باہر نکل جاتا ہے۔ باہر نکلتے ہی پپو کو چاروں طرف اونچی جالی نظر آتی ہے۔
’’کیا یہ لوگ کسی پر یقین نہیں کرتے‘‘ پپو جالی کو دیکھ کر سوچتے ہوئے کہتا ہے۔

اب وہ چھپتا چھپاتا گھر کی سائیڈ سے گیراج کی طرف بڑھتا ہے۔ جیسے ہی وہ گاڑی کی طرف بڑھتا ہے، دروازے میں سے ایک ہاتھ نکلتا ہے اور بہت زور سے پپو کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ پپو اِس نئی مصیبت کیلئے بالکل بھی تیار نہیں تھااور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے مگر بے سود، وہ شخص پپو کو زبردستی اندر دھکیلتا ہے اور قالین پر گرا دیتا ہے اور اُس کے ہاتھ سے ڈی وی ڈی چھین لیتا ہے ۔

’’مجھے معلوم تھا کہ تم چوری ضرور کرو گے، اب اگر تم اپنی جان بخشی چاہتے ہو تو مجھ سے رحم کی اپیل کرو، ورنہ بعد میں تم بہت پچھتاؤ گے‘‘۔وہ شخص دھمکی آمیز لہجے میں کہتا ہے۔

آدھے گھنٹے کے بعد پولیس وہاں پہنچ جاتی ہے اور پپو کو اپنے ساتھ تھانہ ٹبی لے جاتی ہے۔ جہاں اُسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کاؤنسلر کے گھر میں ہے۔کاؤنسلر میاں محمودعرف مودا ہے اور وہ شخص پپو کے خلاف بہت سے مقدمے دائر کرنے کا کہتا ہے۔ اس دوران ایک افسر اس بات کا انکشاف بھی کرتا ہے کہ پپو کے گھر سے بھاگنے کے اگلے دن اس کے گھر والوں نے رپورٹ بھی درج کروائی ہے۔

کاؤنسلر پپو کے گھر والوں سے بات کرتا ہے اور جب اُس کے گھر والے کاؤنسلر کوپپو کا خیال رکھنے کا کہتے ہیں تو وہ اس بات پر حیران رہ جاتا ہے ۔

’’پپو کو ایک رات حوالات میں بند کر دو اور اس کی خوب خاطر تواضع کرو تاکہ اس کو معلوم ہو جائے کہ خوش قسمتی کس کو کہتے ہیں۔‘‘میاں مودا پولیس کو کہتا ہے۔

تھانے میں پپو کو معلوم ہو جاتا ہے کہ میاں مودا تو رشوت لینے میں بہت بدنام ہے۔ پولیس افسر اُسے ساری رات حوالات میں بند رکھتے ہیں اور ڈی وی ڈی چرانے پر اُس کا بہت مذاق اُڑاتے ہیں۔ پپو کے لیے یہ حالات ناقابلِ برداشت ہیں کیونکہ اُس کے ساتھ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔

دوسری طرف پپو کے گھر والے اسے رہا کروانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ پولیس افسر اُن سے ایک لاکھ روپے رشوت لے کر پپو کو چھوڑنے پر آمادہ ہوتا ہے اور بعد میں افسران اور میاں مودا اُس قیمت کو آدھا آدھا اپنے درمیان بانٹ لیتے ہیں۔بلاآخرپپو اپنے والدین کی بھرپور کوششوں کے نتیجے میں گھر پہنچ جاتا ہے۔

* پڑھئے لنک47