پپو شبو کے ساتھ رات کو بھاگ جانے کا پروگرام بناتا ہے اور دونوں رات کے اندھیرے میں اس جگہ سے نکل پڑتے ہیں۔

’’تمہار نام کیا ہے؟‘‘ شبو سڑک پر چلتے چلتے پپو سے سوال کرتی ہے۔
’’میرا نام پپو ہے لیکن مجھے پیار سے ’’پُکھابٹیرا‘‘ کہتے ہیں‘‘ پپو جواب دیتا ہے۔
شبو پپو کے اس نام پر کھل کھلا کر ہنس پڑتی ہے۔

’’تم کیا کام کر تی ہو؟‘‘ پپو شبو سے سوال کرتا ہے۔
’’ابھی بِلاّ قصائی نے مجھے کوئی کام نہیں سونپا‘‘ شبو مسکرا کر جواب دیتی ہے۔
’’یہ دوسرے لڑکے تمہارے ساتھ مخلص نہیں ہیں‘‘ پپو شبو سے کہتا ہے۔
’’ کیا تم جلتے ہو؟‘‘ شبو پوچھتی ہے۔
’’کس چیز سے؟ سنو! میں تو تمہیں پسند بھی نہیں کرتا، جو جی میں آئے تم کرو‘‘ پپو بُرا مناتے ہوئے جواب دیتا ہے۔

’’میں جانتی ہوں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘ شبو پپو کو چھیڑتی ہے۔
’’تم اتنی بھی خوبصورت نہیں ہو، جب تم تیز روشنی میں نمودار ہوگی تو تمہارا اصلی چہرہ سامنے آجائے گا‘‘ پپو کے انداز میں شرارت ہوتی ہے۔
’’تم یہاں کیسے آگئی؟‘‘ پپو سوال کرتا ہے۔

’’میری ماں کو باپو نے چھ سال پہلے چھوڑ دیا تھا۔ میری ماں نے دوسری شادی کرلی اور سوتیلے باپ نے مجھے گھر سے نکال دیا۔‘‘ شبو نے اداس لہجے میں دُکھ بھری داستان بیان کی۔

دونوں چلتے چلتے موہنی روڈ پر پہنچ جاتے ہیں، موہنی روڈ پر موجود ببلو نامی لڑکے سے پپو کی دوستی ہوجاتی ہے جو عمر میں پپو سے کچھ بڑا ہوتا ہے۔

’’ تم کیا کرتے ہو؟‘‘ پپو ببلو سے سوال کرتا ہے۔
’’کسی کو بتانا نہیں میں ہیروئن بیچتا ہوں لیکن بظاہر میں میوزیکل شو کے ٹکٹ بیچتا ہوں‘‘ ببلو پپو کو رازدارانہ لہجے میں بتاتا ہے۔
’’ہم دونوں کہاں رہیں گے، ہمارے پاس تو کوئی ٹھکانہ بھی نہیں ہے؟‘‘ پپو اپنی پریشانی کا اظہار کرتا ہے۔
’’ میرے پاس ایک اچھی جگہ ہے، میں نے اس بارے کسی کو بھی نہیں بتایا ہوا، تم لوگ میرے ساتھ اُس جگہ رہ سکتے ہو۔‘‘

پھر وہ پپو اور شبو دونوں کو ایک چھوٹے سے گھر میں لے جاتا ہے جو ایک حلوہ پوری کی دکان کے نزدیک واقع ہوتا ہے۔ وہ ان دونوں کو بتاتا ہے کہ ساتھ والے کمرے میں رہنے والا شخص میرے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور نہ ہی میں اس گھر میں ہیروئن بیچتا ہوں، پھر وہ پپو سے کہتا ہے کہ تم بھی کسی کو اس بارے نہ بتانا ۔

*اگلا صفحہ