صبح کا سورج جب چمکتا ہے تو اُس کی تپش پپو کو مزید بستر پر لیٹنے نہیں دیتی۔ پپو گرمی زیادہ ہونے کی وجہ سے بارش کی خواہش کرتا اگرچہ اسے معلوم ہے کہ لاہور میں بارش اس کی مرضی سے نہیں ہو سکتی ویسے تو فیصل آباد بھی بارش اُس کی مرضی سے نہیں ہوتی تھی۔ یکایک اُس کے ذہن میں یہ خیال آیا ’’پپو! تو گھر سے بے فضول ہی بھاگا!‘‘ وہ ایک لمبی انگڑائی لیتے ہوئے بستر سے نکلتا ہے۔ وہ بے مقصد ہی گھر سے باہر نکل جاتا ہے اور منہ اٹھا کر سڑک کی ایک جانب چلنے لگتا ہے۔ گاڑیوں کے مسلسل شور نے ایک گونج پیدا کی ہوئی ہے۔

سڑک کے ایک طرف ایک چھوٹی سی دیوار گندگی کے ڈھیر پر ختم ہوتی ہے جس پر کھانے کی بچی کھچی چیزیں، دو پرانے بری طرح استعمال شدہ گدے اور خالی لفافے پڑے ہوئے ہیں۔ دو چوہوں کے بچے اس میں سے اپنی غذا حاصل کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں اور پھر وہ چند ہی منٹوں میں آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ آوارہ گردی کرتے کرتے پپو اچانک بلے قصائی کے اڈے پر پہنچ جاتا ہے۔ وہاں ناشتے کا بچا کچھا ڈھیروں کھانا پڑا ہے۔ پپو کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہی اسے غنودگی ہونے لگتی ہے اور وہ وہیں ایک بستر پر ڈھیر ہو جاتا ہے، شام ہونے والی ہے، سورج ڈھل چکا ہے۔

پپو اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے اور آنکھیں ملنا شروع کر دیتا ہے۔ تھوڑے فاصلے پر بلا قصائی پہلو میں ایک نئی لڑکی لئے بیٹھا ہے۔ اس لڑکی کی قسمت آج پھوٹنے والی ہے۔ ایک تنگ سا گندہ راستہ جو گھاس پر مشتمل ہے سڑک کے کنارے جھاڑیوں میں جا ملتا ہے۔ اتنے میں ایک لڑکی جسے سب ’’شیرنی‘‘ پکارتے ہیں پپو کے پاس آتی ہے، وہ پپو کے ساتھ اگلے دن صبح سویرے موہنی روڈ پر لوگوں سے بھیک مانگنا چاہتی ہے۔ پپو شیرنی کے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے اور بہت خوش ہوتا ہے کہ اس طرح وہ بلے قصائی کے عتاب سے بچ جائے گا۔

شیرنی کا لوگوں سے مانگنے کا انداز پوتنی دا اور بجلی سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ اُن کو ہنساتی بھی ہے اورلوگ اس سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں کو بتاتی ہے کہ پپو کے گردے کا آپریشن ہونے والا ہے اس لیے اسی کو پیسے چاہئیں۔ پپو کے لیے شیرنی کے ساتھ بھیک مانگنا کسی ایڈونچر سے کم نہیں تھا۔

جب لوگ شیرنی سے آپریشن کے بارے تفصیل پوچھتے تو وہ کہتی کہ وہ تو ڈاکٹر اور مریض کا کھیل کھیل رہی ہے، حقیقت میں تو مقصد پپو کا پیٹ بھرنا ہے۔ اس پر کچھ لوگ تو ہنستے ہوئے گزر جاتے اور کچھ بھیک دے دیتے۔ ایک خاتون دس روپے دیتی ہے اور مزاحاً کہتی ہے کہ تم لوگ اچھی طرح نہا بھی لیا کرو کیونکہ تم دونوں سے بدبو کے بھبھکے اُٹھ رہے ہیں۔

تھوڑی دیر بعد دونوں کھانا کھانے لگتے ہیں۔ جب پپو اچھی طرح کھانا کھا لیتا ہے تو وہ شیرنی سے اُس کے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن شیرنی اُس کو ٹال دیتی ہے۔ پھر وہ شیرنی سے نئی آنے والی لڑکی کے بارے میں سوال کرتا ہے کہ وہ کون ہے؟ لیکن شیرنی رُکھائی سے جواب دیتی ہے۔ ’’اُس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، تم ذرا اُس سے دور ہی رہو۔‘‘ تمہاری ٹانگوں میں کوئی تکلیف ہے جو تم پر لڑکی کے پاؤں چاٹنے کیلئے تیار رہتے ہو؟ کل تم شبو کے بستر میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے اور آج تمہیں یہ چنگڑی پاگل کر رہی ہے؟

اگلاصفحہ