کچھ ہی دیر میں وہ اپنے بہت گہرے دوست بنٹی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے، بنٹی ایک بہت مشہورِ زمانہ فزیشن کا بیٹا ہے اور امیر خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ پپو بیگ کے وزن سے تھک چکا ہے ۔ بنٹی دراوزے پر آتا ہے اور پپو کو وہاں دیکھ کر بہت حیران ہوتا ہے۔

’’میں گھر سے بھاگ آیا ہوں، کیا میں یہاں رہ سکتا ہوں؟‘‘ پپوکے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔
’’اوہ! تم گھر سے بھاگ آئے ہو‘‘ وہ متجسس انداز میں کہتا ہے۔
’’اندر آجاؤ۔‘‘ بنٹی کہتا ہے ۔
وہ اُس کو چپکے سے اپنے کمرے میں لے جاتاہے اور ڈیک اونچی آواز میں چلا دیتا ہے تاکہ اس کے والدین اُن کی گفتگو نہ سن سکیں۔

’’میرا بھی دل چاہتا ہے کہ تمہارے ساتھ گھر سے بھاگ جاؤ‘‘ بنٹی کہتا ہے۔
’’ہاں کیوں نہیں ؟ تم کیوں نہیں بھاگ سکتے ، اس میں تو بہت مزہ آئے گا۔ ہم دونوں اکٹھے بھاگیں گے اور بہت انجوائے کریں گے۔ ہمت کرو اور سامان باندھو، میں تمہاری مدد کروں گا۔‘‘ پپو بنٹی کی ہمت بندھاتے ہوئے کہتا ہے۔پپواب پہلے سے بہتر محسوس کر رہا ہے۔

’’ہرگز نہیں آخر ہم سوئیں گے کہاں؟‘‘ بنٹی پریشانی کے عالم میں پوچھتا ہے۔
’’ہم کوئی نہ کوئی جگہ ڈھونڈ ہی لیں گے۔‘‘پپو اُسے تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے۔

’’کیا مطلب؟ ہم کیسے جگہ ڈھونڈ لیں گے، تمہیں جگہ چاہئیے تو تم میری طرف آگئے اور اگر ہم یہاں سے چلے گئے تو پھر کس کے گھر جائیں گے؟ ‘‘بنٹی مزید پوچھتا ہے۔
’’ہمیں کسی گھر کی ضرورت نہیں ہے، ہم باہر کہیں بھی خیمہ لگا کر سو جائیں گے۔۔۔ بہت مزہ آئے گا‘‘پپو انگڑائی
لیتے ہوئے کہتا ہے۔

’’عقل کے اندھے۔۔۔ باہر تو بہت سردی ہے اور پھر کتنے سال ایسا کرو گے؟آخر ہم کھائیں گے کہاں سے؟ ‘‘ بنٹی سوالات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔

’’بھئی ہم اپنے ہی گھر سے جب وہاں کوئی موجود نہ ہو کھانا چوری کرسکتے ہیں۔‘‘پپو بنٹی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہتا ہے۔پپو سوچ رہا ہے کہ وہ بنٹی کو منا رہا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ،اصل میں وہ اپنے آپ کو تیار کر رہا ہے۔
’’سنو !میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں مگر میں تمہارے ساتھ جانے کے لیے تیار نہیں ہوں، چلو چل کر میری امی سے پوچھتے ہیں کہ تم یہاں رات رُک سکتے ہو یا نہیں؟ ہم اُنہیں کہیں گے کالج کے کسی پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں ۔ ‘‘بنٹی کہتا ہے۔

*اگلا صفحہ