پپو چلتا ہوامیکڈونلڈزکے داخلی دروازے تک پہنچتا ہے اور ایک شخص کو اندر جاتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اُس کا چہرہ کشادہ اور دوستانہ ہے، ہلکے نسواری گھنگھریالے بال جو کنپٹیوں پر سے سفیدی مائل اور گھنی کھچڑی بھنویں ہیں۔ وہ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ پپو کیلئے دروازہ تھام لیتا ہے اور کہتا ہے۔’’میرا نام سلطان ہے، کیا تم میرے ساتھ مل کر برگر کھانا پسند کرو گے۔‘‘
’’یقینا‘‘ پپو نے برجستہ کہا۔
کھانے پر وہ شخص کچھ احمقانہ باتیں کرتا ہے۔ پپو آرام سے اپنا برگر کھاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اُس کے کانوں سے باہر کی طرف اُگنے والے بالوں پر غور کرتا ہے۔ پپو کی گردن میں درد ہے ۔ وہ تھوڑا سا پیچھے ہو کر آرا م حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی گردن کو دباتا ہے۔

’’تم تھکے ہوئے لگ رہے ہو‘‘ سلطان نے پوچھا۔
’’ہاں ایسا ہی ہے تھکن سے چور ہوں‘‘ پپو نے جواب دیا۔
’’میں بہت اچھا مساج کرتا ہوں، کیا تم میرے گھر چلنا پسند کرو گے؟‘‘ سلطان نے پُرجوش مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
پپو ہچکچاتا ہے۔
’’بس تھوڑا سا ساتھ اور ایک اچھا اور پُرسکون مساج، کیا خیال ہے؟‘‘ سلطان نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

تھوڑی ہی دیر میں سلطان اور پپو گلبرگ کے ایک بہت بڑے گھر کے سامنے موجود ہیں۔ گھر کی بیرونی اور اندرونی دیوار سبزے سے ڈھکی ہوتی ہے۔ گھر کا ایک دروازہ سلطان کے دفتر میں کھلتا ہے جس میں سے گزر کر وہ دونوں اندرپہنچ جاتے ہیں۔
اُس کمرے میں عجیب و غریب ساخت کی ایک میز پڑی ہے۔ سلطان کے کہنے پر پپو اُس میز پر چڑھ جاتا ہے اور پیٹ کے بل لیٹ جاتا ہے۔ یہ عجیب و غریب میز حقیقت میں بہت آرام دہ ہے، جو کہ خاص طور پر انسانی جسم کے مطابق تیار کی گئی ہے۔

’’چلو ذرا اپنے کپڑے ڈھیلے کرلو‘‘ سلطان پپو سے کہتے ہوئے اُس کے جوتے اُتارتا ہے اور پھر اُس کی جینز کو پکڑتا ہے۔
پپو اپنے کپڑوں کے اترنے پر تھوڑا سا بے چین دکھائی دیتا ہے۔
سلطان اُس کی ٹانگوں پر مساج کرنا شروع کرتا ہے۔
آہستہ آہستہ پپوسکون محسوس کرنا شروع کر تا ہے۔ اب پپو کو واقعی مزہ آنے لگتا ہے اور وہ سکون سے گہرے گہرے سانس لیتا ہے۔
’’کیا یہ صحیح ہے………… اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دو‘‘ سلطان کہتا ہے۔
’’ مجھے تمہارے پٹھوں میں پہلے ہی واضح فرق محسوس ہور ہا ہے‘‘ پھر سلطان پپو کے کندھوں اور گردن کا مساج کرتا ہے۔

’’پلٹ جاؤ‘‘ سلطان کہتا ہے۔

پپو کو سلطان کا اس طرح اپنے سر پر کھڑا ہونا کچھ ناگوار محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ سلطان اُس کے بازوؤں اور کندھوں کا مساج کرتا ہے۔ پپو پر غنودگی طاری ہونے لگتی ہے۔ یکایک پپو کو سلطان کا ہاتھ اپنے انڈرویئر کی طرف بڑھتا محسوس ہوتا ہے اور وہ ایک دم سے الرٹ ہو جاتا ہے۔ سلطان بہت آرام سے پپو کو دوبارہ لٹا دیتا ہے اور آنکھیں بند کرنے کو کہتا ہے۔ آنکھیں بند کرتے ہوئے پپو سلطان کو اپنے کپڑے اتارتے ہوئے بھی دیکھ لیتا ہے۔

*اگلاصفحہ