پپو کی ملاقات جھاجھو سے ہوتی ہے جو اونچا لمبااور مضبوط جسم کا مالک ہے۔پپو اپنے مسائل اُس سے شیئر کرتا ہے ۔
’’ہمیں ایک کلب بنا لینا چاہئیے‘‘ جھاجھو پپو کے مسائل سننے کے بعد مشورہ دیتا ہے۔
ساتھ ہی وہ اپنی قمیض کے بٹن کھول دیتا ہے تاکہ آنے والے لوگوں کو اُس کا کشادہ سینہ نظر آ سکے۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ پپو حیرانگی سے پوچھتا ہے ۔
جھاجھو جوش میں آجاتا ہے اور پپو کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب بھی وہ جوش میں آتا ہے تو اُس کی نظر اپنے سامنے ایک نقطے پر مرکوز ہو جاتی ہے، پھر وہ تیز تیز دائرہ کی صورت میں چلتے ہوئے اور زور زور سے ہاتھ ہلاتے ہوئے بات کرتا ہے۔

’’یہ کلب ایک طرح کا مدد کرنے کا ادارہ ہوگا، ہم نوجوانوں کو خبردار کیا کریں گے کہ کون لوگ خطرناک ہیں اورجن کی گاڑیوں میں نہیں بیٹھنا اور کون لوگ ہیں جو خطرناک نہیں ہیں، اُن کے ساتھ جایا جا سکتا ہے۔ اور پھر ہم ایڈز کے بارے میں بھی معلومات دے سکتے ہیں‘‘۔وہ پپو کو سمجھاتے ہوئے کہتا ہے۔
’’حقیقت کی دنیا میں واپس آجاؤ، جب تک روپوں اور منشیات کا لالچ ہے یہ لڑکے کبھی بھی باز نہیں آئیں گے اور کوئی احتیاط نہیں کریں گے۔‘‘پپو بھی اُسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔
’’لیکن میں نے تو نام بھی سوچ لیا ہے اپنے کلب کا‘‘ جھاجھو اپنی بات پر قائم رہتا ہے۔’’خوردہ فروش‘‘جھاجھو مثال دیتے ہوئے کہتا ہے۔ ’’کیا مطلب؟‘‘ پپو حیرانی سے پوچھتا ہے۔

’’بھئی ہم کچھ اِدھر بیچیں گے اورکچھ اُدھر بیچیں گے‘‘۔جھاجھو تفصیلاً بتاتا ہے۔
’’اچھا۔۔۔ اُلٹی سیدھی مت ہانکو‘‘ یہ کہتے ہوئے پپو نے شراب کا خالی کین جھاجھو کی طرف اُچھالا۔ جھاجھو کے پاس ہر وقت کوئی نہ کوئی کہانی ہوتی ہے۔ وہ اس دھندے میں سالہا سال سے ہے اور اب تو پپو بھی اس کام میں پوری طرح ملوث ہو چکا ہے، اُن کی دوستی کی اصلی وجہ بھی یہی ہے۔ بھی ہوگئی۔ شروع میں جب دونوں ملے تو انہوں نے دوستی کے چند اصول بنائے اور پھر اُن اصولوں کی خلاف ورزی کی، پھر نئے اصول بنائے اور پھر نئے سرے سے خلاف ورزی کی اور آخرکار اصول بنانے چھوڑ دئیے لیکن دوستی نہیں چھوڑی۔ ان دونوں نے حالات کا بھی اچھی طرح تجزیہ کرنا سیکھ لیا۔۔

پپو اور جھاجھو سڑک کے کنارے پڑے ہوئے بنچ پر بیٹھے ہیں۔ پپو کی نظریں سڑک پر آنے والی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کے سمندر میں گم ہیں۔ ان ہیڈ لائٹس کا اثر بہت سحرانگیز ہے۔ دونوں اس وقت گاہک کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ پپو کا نشہ آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر کوئی گاڑی آکر جھاجھو کو لے جائے تو کم از کم کچھ دیر کیلئے وہ کہیں اور مصروف ہو جائے گا اور اگر کوئی شخص پپو کو لینے آئے تو اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ان لوگوں کا کمرے کاکرایہ نکل آئے گا اور پھر پپو کو نرم نرم بستر پر سونے کاموقع مل سکے گا کیونکہ پچھلے دو ہفتوں سے پپو اور جھاجھو کمرے کا کرایہ مل کے ادا کرتے تھے۔

جھاجھو پپو سے زیادہ پیسے کماتا ہے مگر سارے کے سارے نشے میں اُڑا دیتا ہے۔ جھاجھو کے گاہکوں میں بڑے بڑے ڈاکٹر، وکیل اور امیر زادے شامل ہیں۔ جھاجھو کے پاس بہت زیادہ قسموں کے کارڈز ہیں جنہیں وہ ’’بزنس کارڈز‘‘ کہتا ہے اور اس جگہ کو وہ اپنا آفس کہتا ہے۔ جھاجھو کے سب گاہکوں کو معلوم ہے کہ رات کے اس پہر جھاجھو اسی جگہ پر ملتا ہے۔

*اگلاصفحہ