ایدھی سنٹر کی خاتون انچارج پپو کو اس کا کمرہ دکھاتی ہے، پپو بڑے عرصے بعد گہری نیند سوتا ہے۔صبح جب سورج کی کرنیں پپو کے چہرے کو چھوتی ہیں تو وہ اُٹھ کر اپنی آنکھیں ملنا شروع کر دیتا ہے۔ کمرے کی دیواروں پر شاید ابھی حال ہی میں پینٹ کیا گیا ہے اور دروازوں پر گرے ململ کے پردے لٹک رہے ہیں۔ پپو نہانے کیلئے باتھ روم میں جاتا ہے اور اپنے بدن پر موجود کافی دنوں کی میل کچیل اُتارتا ہے۔ جب وہ نہا کر نکلتا ہے تو قالین پر سبز رنگ کے جوتے دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے۔تھوڑی دیر بعد ایک ملازم اسے ناشتہ لگنے کی اطلاع دیتا ہے اور پپو اس کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ کمرے میں پپو کو اپنی ہی عمر کے دو لڑکے اور ایک لڑکی ناشتہ کی میز پر براجمان نظر آتے ہیں۔ لڑکی پپو سے اپنا کمرہ استعمال کرنے پر ناراضی کا اظہار کرتی ہے۔ ناشتے کے بعد پپو کے علاوہ سب اپنے بیگ اٹھائے سکول روانہ ہو جاتے ہیں اور پپو’’ اپنے‘‘ کمرے میں چلا جاتا ہے۔

تھوڑی دیر بعد ایک ملازمہ پپو کو انچارج کے دفتر میں لے جاتی ہے جو پپو کے ساتھ بڑی سردمہری کا مظاہرہ کرتی ہے اور پپو سے اس کے والدین کا پتا اور فون نمبر پوچھتی ہے۔ پپو کے اندر اس وقت ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے اور وہ جسمانی لحاظ سے بھی تھک کر چور ہوچکا ہے، اُس نے بغیر کسی حیل و حجت کے گھر کا پتہ اور ٹیلیفون نمبر دے دیا۔ ایدھی سنٹر کی انچارج خاتون نے پپو کے والدین سے رابطہ کیا اور بتایا کہ پپو اس وقت ان کے پاس ہے۔

پپو کے و الدین دوپہر تک وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ایدھی سنٹر کی انچارج پپو کے والدین کے سامنے پولیس والوں کو بُرا بھلا کہتی ہے اور پپو کے والدین کو بتاتی ہے کہ جو بچے گھروں سے بھاگ جاتے ہیں ان کے مسائل حل کرنے کیلئے والدین کو ماہرین کی مدد، مشاورت اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جس سے ان میں بچوں کے ساتھ معاملات احسن طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔

پپو کے والدین خاتون سے مزید راہنمائی طلب کرتے ہیں۔
’’وِلنگ ویز لاہور، کراچی اور اسلام آباد والدین کو راہنمائی دینے والا بین الاقوامی شہرت کا حامل ادارہ ہے جو ایک تفصیلی پروگرام کے ذریعے والدین کو مدد فراہم کرتا ہے۔ آپ کے مسئلے میں بھی یقیناًوہ بہت ہی ممدو معاون ثابت ہوگا کیونکہ اس ادارے کی اپنی ہی ایک پہچان ہے اور پورے پاکستان میں یہ واحد ادارہ ہے جو اس سلسلے میں اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔‘‘ وہ عورت تفصیلاً بتاتی ہے۔

* لنک47 پرجائیے۔