’’ میں وقت پر آیا کروں گا اور دیگر حالات بھی خود ہی ٹھیک کرلوں گا‘‘ پپو صادق پہلوان کویقین دلاتا ہے۔
صادق پہلوان اس کی باتوں پر یقین نہیں کرتا اور وہ غصے میں کچن سے باہر جانے کیلئے مڑجاتا ہے۔

ریسٹورانٹ میں اوباش نوجوانوں کی ایک ٹولی کھانا کھانے آتی ہے۔ صادق پہلوان اُن سے باتیں کرتے ہوئے پپو کو آواز دیتا ہے تاکہ وہ کھانے کا آرڈر لے سکے۔ کھانے کے بعد صادق پہلوان پپو کو ایک ہزارروپے کا بل دیتا ہے تاکہ وہ ان گاہکوں سے بل کی ادائیگی کرواسکے۔ اس کے بعد وہ ایک اور گاہک کی طرف مڑتا ہے جو اُس کو 430 روپے کا بل دیتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد صادق پپو کوجلدی سے تین عدد صاف پلیٹس لانے کو کہتا ہے۔ پپو پلیٹیں لانے کیلئے بھاگم بھاگ باورچی خانے کی طرف جاتا ہے اور بل کی رقم صادق پہلوان کو دینا بھول جاتا ہے۔ فوری بعد پپو سوچتا ہے کہ اگر یہ پیسے وہ اپنے پاس رکھ لے تو صادق پہلوان کو پتا نہیں چلے گا اور میں اسے اپنی ’ٹِپ‘ تصور کروں گا۔ وہ سمجھتا ہے کہ ہوٹل پر لوگوں کے رش کی وجہ سے صادق کی نظر پپو کی اس حرکت پر نہیں پڑی۔ جب تمام گاہک چلے جاتے ہیں تو صادق پپو کو بلاتا ہے اور اُسے اس کی دیہاڑی دیتا ہے۔ پپو دیہاڑی لے کر کہتا ہے ، ’’پہلوان جی ! کل ملیں گے‘‘۔

’’تم سے ایک بات کرنی ہے‘‘ صادق پپو کو مسکراتے ہوئے واپس بلاتا ہے۔
’’اُسے پہلے ہی بہت دیر ہوگئی ہے‘‘ پپو جواباً کہتا ہے۔
’’ایک منٹ سے زیادہ نہیں لوں گا‘‘ صادق یقین دلاتاہے اور اسے بیٹھنے کو کہتا ہے۔
’’تم وہ پیسے اپنے پاس رکھ سکتے ہو‘‘ صادق پہلوان پراسرار لہجے میں کہتا ہے۔
’’کونسے پیسے؟‘‘ پپو کی پیشانی پسینے سے شرابور ہو جاتی ہے۔
’’میں جھوٹ پسند نہیں کرتا‘‘ ’’صادق نرم لہجے میں سمجھاتا ہے۔ آج رات میں نے تمہیں ایک موقع دیا تھا جس میں تم اپنی فطرت کا اظہار مثبت اور منفی دونوں طریقوں سے کر سکتے تھے۔ یہ محض 430 روپے کی بات ہے، تمہارا کیا خیال ہے یہ بال میں نے دھوپ میں سفید کئے ہیں، میں بہت پرانا کاروباری بندہ ہوں اور اگر میں چاہوں تو تم کو پولیس کے حوالے کردوں لیکن میں صرف تم کو سمجھانا چاہتا ہوں‘‘۔

’’مجھے صرف اس بات سے محبت ہے کہ جب انسان کو کوئی بڑا موقع ملے تو وہ ضرور اُن سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور اپنی صلاحیتوں کو منوائے۔ یہ تمام موقعے جو ہمیں زندگی میں ملتے ہیں اُن کے ذریعے ہم اپنی پہچان کروا سکتے ہیں۔ کبھی کبھار ہم غلط راستے پر بھٹک جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا جبکہ لوگ خاموشی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں، اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم انہیں تماشانہ دکھائیںیا نا!۔ مثال کے طور پر اگر میں لوگوں کی عزت نہ کروں، اُن سے پیسے بٹورلوں اور انہیں اچھا کھانا نہ دوں، انہیں الم غلم کھلا دوں تو ضروری نہیں کہ وہ بولیں، ضروری نہیں کہ وہ لعنت ملامت کریں، ہوسکتا ہے کہ لوگ کچھ کہنے کی بجائے پھرکبھی واپس میرے ہوٹل میں نہ آئیں اور اس سے میں گم سم اور پریشان ہی ہوں گا۔‘‘ صادق پپو کو سمجھانے کیلئے پورے درد دل سے بات کرتارہا۔

’’اک ذرا سی بات سے پتا چل جاتا ہے کہ کوئی کس قسم کا انسان ہے؟ اِس قسم کا انسان ہے یا اُس قسم کا انسان ہے۔ اب مجھے تمہارے بارے اس راز کا پتا چل گیا ہے اور یہ جاننے کیلئے میں سمجھتا ہوں کہ 430 روپے کی قیمت بھی کم ہے یہ تم ہی رکھ لو، بس اب تم اپنی راہ لو اوریہاں واپس آنے کی ہرگزتکلیف نہ کرنا!

*اگلا صفحہ