’’اچھا تو تم اب بے گھر ہو؟‘‘ صادق پپو کو طنزیہ لہجے میں کہتا ہے۔
پپو صادق کو پوتنی دا کے سارے کرتوت بتا دیتا ہے اور اسے موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی وجہ سے پولیس نے پپو کے کمرے پر چھاپہ مارا ہے اور پپو بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگا ہے۔
’’اچھا! تو تم بے گھر ہو؟‘‘ صادق پپو کی بات سن کر پریشانی کا اظہار کرتا ہے۔

صادق چونکہ پپو کے کام سے مطمئن ہوتا ہے اس لیے وہ پپو کو بھاٹی میں موجود اپنی ایک حویلی کے چھوٹے سے کمرے میں رہنے کی جگہ دے دیتا ہے اور اس سے بغیر سیکورٹی کے -/500 روپے ماہانہ کرایہ طے کر لیتا ہے۔ اس حویلی کی دیکھ بھال صادق پہلوان کے بھائی اچھو پہلوان کے سپرد ہوتی ہے۔

کچھ دن یونہی گزر جاتے ہیں، پپو کا ذہن مختلف خیالات کی آما جگاہ بنا رہتا ہے۔ وہ اس ریسٹورینٹ سے بھی بھاگ جانا چاہتا ہے پھر وہ سوچتا ہے کہ یہ جگہ پھر بھی ان جگہوں سے تو بہتر ہی ہے جہاں منشیات فروشوں اور طوائفوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔

کسی ایک خیال کے ساتھ بھی پپو زیادہ دیر مطمئن نہیں رہتا۔ باری باری اپنے کمرے کی دو کھڑکیوں کے سامنے جا بیٹھتا ہے اور خیالوں کے تانے بانے بنتا رہتا ہے۔ دو میں سے ایک کھڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا ہے۔ یہ کھڑکی پپو کو خاص طور پر پسند ہے کیونکہ اس کھڑکی سے اس کی نظر سامنے والی کھڑکی پر پڑتی ہے جہاں گڈو نامی لڑکی اچھلتی کودتی نظر آتی ہے۔ اب بھی وہ اسی کھڑکی کے سامنے بیٹھا خیالوں میں مگن ہے ۔ پپو اپنی زندگی کے بارے بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ پتہ نہیں آنے والا کل اس کیلئے کیا فیصلہ کرے گا؟ ایک یہی خیال اسے چین نہیں لینے دیتا۔ بے یقینی کی کیفیت اسے ہمیشہ تنگ کرتی تھی۔ اُسے ہر چیز کافوری جواب چاہئے تھا، جب بھی اس کے ابا کسی بات پر کہتے کہ ’’اچھا! سوچ کر بتاؤں گا‘‘۔ تواسے ہمیشہ بہت غصہ آتا تھا۔

صادق کی بیوی عالیہ، پپو کو ضروریات زندگی کا تمام سامان فراہم کرتی ہے۔ عالیہ پپو اور شبو کی کہانی سے بہت متاثر ہوتی ہے۔ عالیہ، صادق سے شبو کو بھی نوکری دینے کی سفارش کرتی ہے۔ وہ پپو سے کہتی ہے کہ وہ اس کی کہانی پر مبنی ایک فلم بنائے گی جس میں پپو کا کردار فواد خاں اور شبو کا کرداروینا ملک ادا کرے گی۔

پپو ہیومن رائٹس کے دفتر میں جاتا ہے اور شبو کا پوچھتا ہے۔ وہاں کا نمائندہ اس کو کسی بھی قسم کی معلومات دینے سے انکار کر دیتا ہے ۔پپو اصرار کرتا ہے اور ڈھٹائی سے وہیں بیٹھا رہتا ہے۔ کچھ دیر بعد پپو کو شبو کی آواز سنائی دیتی ہے۔

’’تم کدھر سے آن ٹپکے ہو؟‘‘ وہ دوسری منزل سے جھانکتے ہوئے کہتی ہے۔ وہ ایک شہزادی کی طرح لگ رہی ہوتی ہے۔
’’میں تمہیں لینے آیا ہوں‘‘ پپو اُسے بتاتا ہے۔
’’کیا مذاق سمجھ رکھا ہے؟ یہ مرکز ہے ، تمہاری خالہ جی کا گھر نہیں، میں یہاں خوش ہوں اور تمہارے بغیر رہ سکتی ہوں۔‘‘
’’لیکن میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا! میں تمہیں ساتھ لے کر ہی جاؤں گا‘‘۔ ’’کیا لُٹ پڑی ہوئی ہے؟ کیسے لے کر جاؤ گے؟ میں تم پر ہر گز بھروسہ نہیں کر سکتی۔‘‘

*اگلاصفحہ