چہرے کو مفلر سے چھپا کر، تھوڑا سا جھک کر، پپو نہاری ہاؤس سے باہر نکلتا ہے اور ’نئی زندگی‘ کی سفید ویگن کی طرف بڑھتا ہے ایک سینڈوچ کیلئے اسے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا باکل اچھا نہیں لگتا۔ اس کے ذہن میں چاروں لڑکوں کا خوف بدستور بڑھ رہا ہے۔ احتیاطً پپو نے اپنا چہرہ دوسری طرف کر رکھا ہے۔ جیسے ہی پپو اوباش نوجوانوں کے قریب سے گزرتا ہے تو یکدم وہ مڑ کر اُن کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں یا نہیں؟ بظاہر وہ لڑکے مستی کر رہے تھے اور پپو سے بے خبر تھے۔ اُن سے مطمئن ہو کر پپو ویگن کی طرف بڑھتا ہے اور ڈرائیور وسیم کو متوجہ کرنے کیلئے شیشے پر ٹک ٹک کرتا ہے ۔ اچانک پپو کو سر پر زور کا اِک مکہ لگتا ہے اور اس کے سر سے لہو کی دھار نکلتی ہے۔ یہ فولادی مکہ تھا جو اُن چاروں لڑکوں میں سے ایک خالد نامی لڑے کا تھا۔ وہ لڑکا پپو کے بازو جکڑ لیتا ہے اور غصے سے گالی بکتا ہے: ’’بہن۔۔۔؟‘‘

’’یہی ہے وہ بہن۔۔۔! جس نے تین دن پہلے میرا پرس چھینا تھا۔ مارو اس کمینے کو…..‘‘ وہ اوباش لڑکا اپنے ساتھیوں کی طرف مڑتا ہوا پپو پر الزام لگاتا ہے۔ باقی تین لڑکے پلک جھپکتے ہی پپو کے سر پرآن پہنچتے ہیں۔ دو لڑکے پپو کی تلاشی لیتے ہیں اور پپو کی ہپ پاکٹ میں سے پرس برآمد کرتے ہیں، پرس میں کوئی پیسہ نہیں لیکن خالد کا شناختی کارڈ اور دو کریڈٹ کارڈ اسے مل جاتے ہیں۔
’’بہن….چور …..کون ہو تم؟‘‘ پپو کے چہرے پر زور کا تھپڑ پڑتا ہے۔
’’تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ پپو پوچھتا ہے اور بہت پریشان لگتا ہے۔

اچانک بادل گرجتے ہیں اور بارش شروع ہو جاتی ہے۔ بارش اتنی تیز ہے کہ چاروں اطراف اکٹھے ہوئے لوگ بارش سے بچنے کیلئے دوڑ لگا دیتے ہیں، اتنی دیر میں وہ چاروں لڑکے پپو کو زمین پر لٹا کر اُس پر گھونسوں اور مکوں کی بارش شروع کر دیتے ہیں جس سے پپو کے بھیگے بدن کا کوئی بھی حصہ بچ نہیں پاتا اور آخر کار وہ ضربوں کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہو جاتا ہے لیکن چاروں لڑکے بے ساکت شکار پر بھیڑیوں کی مانند اپنے حملے جاری رکھتے ہیں۔ شیرنی نہاری ہاؤس کی کھڑکی سے یہ درد ناک منظر دیکھ رہی ہوتی ہے لیکن باہر نہیں آتی۔ نئی زندگی کی ویگن میں سے شبو باہر آنے کی شدید کوشش کر رہی ہے لیکن ڈرائیور وسیم اسے بازو میں جکڑ کر ایک پنتھ دو کاج کے فارمولے پر عمل کر رہا ہے، پپو کو ادھ موا چھوڑ کر چاروں لڑکے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہیں۔ دوسری گاڑی کی اوٹ میں چھپا ایک ’’فرض شناس‘‘ پولیس والا ’’جرت دکھاتا ہے!‘‘ اور خالد کی گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیتا ہی پھر اپنے ساتھی پولیس والے کو گاڑی کے نیچے سے باہر نکالتا ہے اور کہتا ہے۔ ’’بزدل آدمی باہر نکل آؤ، وہ لڑکے اب جا چکے ہیں‘‘۔

بادل ایک بار پھر زور سے گرجتے ہیں لیکن اب کی بار آسمان کی آنکھ سے کوئی آنسو نہیں ٹپکتا۔ بادل خشک ہو چکے ہیں۔ لوگ پھر سے جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اب دونوں پولیس والے موقع واردات پر پہنچ چکے ہیں۔ ڈرائیور وسیم بھی پہنچ چکا ہے۔ شبو اس سے شدت سے لپٹ کر رو رہی ہے اور دھائی دے رہی ہے کہ ہر انسان دوست دل دوست کے بچھڑنے کا غم محسوس کر سکتا ہے۔ جیو نیوز کی کیمرہ ٹیم سارا منظر فلما رہی ہے۔ ہر کوئی بڑھ چڑھ کر کچھ کرنا چاہتا ہے۔

ادھر فیصل آباد میں پپو کی ماں ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی ہے۔ اس کے سینے میں شدید درد اُٹھتا ہے، یکدم وہ ایک بڑی قے کرتی ہے۔ سب اہل خانہ اس کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد پپو کی ماں ہسپتال کی طرف رواں دواں ہے اور پپو نئی زندگی کی ویگن میں پولیس اسٹیشن کی طرف: کیونکہ وہ اس دنیا کی علاج گاہوں سے بے نیاز ہو چکا ہے۔ شبو بلک بلک کر رو رہی ہے ابھی وہ اس حقیقت سے واقف نہیں کہ پپو اس دنیا فانی سے کوچ کر گیا ہے۔

خالد ٹیلی فون پر اپنے والد کو ساری کہانی بتاتا ہے کیونکہ گاڑی تیزی سے بھگاتے ہوئے اس کی نظر مختار پولیس والے پر پڑ چکی تھی جو اسے پہچانتا تھا۔ خالد کے باپ نے اسے تسلی دی، ’’او! خیر ہے، تم بس گلبرگ والے گھر جاؤ، میں سب سنبھال لوں گا، ابھی چیف منسٹر سے ملتا ہوں۔‘‘

* آگے پڑھنے کیلئے لنک47 پر جائیے۔