اُس رات شیرنی پپو کو ہیروئن کا ٹیکہ لگانے کو کہتی ہے۔
’’ اگر تم مسلسل ہیروئن کا ٹیکہ لگاتی رہو گی تو کیا تم ایڈز کا شکار نہیں ہو جاؤ گی؟‘‘ پپو شیرنی سے پوچھتا ہے۔

’’ایڈز صرف کسی دوسرے شخص کی استعمال شدہ سوئی سے ہوتی ہے، کل کلینک سے نئ سوئیاں منگوا لیں گے‘‘ شیرنی جواب دیتی ہے۔
’’کیا سوئی مسلسل بازو میں رہنے سے تمہیں تکلیف نہیں ہوتی‘‘ پپو پھر اس سے سوال کرتا ہے۔

’’کیوں؟ کیا تم مجھے روزانہ نشہ کرتے ہوئے نہیں دیکھتے؟۔۔۔ اب تو میں عادی ہو چکی ہوں۔‘‘ شیرنی مسکراتے ہوئے جواب دیتی ہے۔دونوں باتیں کرتے کرتے سو جاتے ہیں۔ صبح اُٹھ کر دونوں ناشتے کیلئے جیلے کی دوکان پر جاتے ہیں اور نان چنے کا ناشتہ کرتے ہیں۔ اسی دوران وہ دونوں بہت سی علاقائی خبریں سنتے ہیں۔

اُنہیں پتا چلتا ہے کہ بلا قصائی جیل سے باہر آ چکا ہے اور دوبارہ گوالمنڈی پہنچ چکا ہے۔ آدھے سے زیادہ نوجوان لڑکے نئے ہوتے ہیں اور بلا قصائی کو نہیں جانتے۔ پرانے ساتھی بلا قصائی کو دیکھ کر خوش نہیں ہوتے اور پریشان ہو جاتے ہیں۔ بلا قصائی اپنے ساتھیوں سے گلہ کرتا ہے کہ تم لوگوں کی آنکھیں بدل گئی ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت چاچا کے ساتھ گزارنے لگا۔

ایک نئے لڑکے کو اس خاندان کا ممبر بنانے کیلئے چاچا کے سامنے لایا جاتا ہے۔ اسی طرح شیرنی بھی ایک نئی لڑکی کو ممبر بنانے کیلئے لاتی ہے جس کو دیکھ کر تمام لڑکے آپس میں لڑنے لگتے ہیں ۔ بلا قصائی ان کو ڈانٹ کر کہتا ہے کہ یہ لڑکی چاچا کی سرپرستی میں رہے گی۔

چاچا اس چودہ سالہ نئی لڑکی کے ساتھ ہر رات گزارتا ہے اور کوئی بھی شخص اس بارے میں بات نہیں کرتا۔ پپو بھی اس معاملے پر خاموشی کا اظہار کرتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کیلئے کوئی مسئلہ بنے۔وہ لڑکی بھی کسی قسم کااحتجاج نہیں کرتی اور حاملہ ہونے کے بعد ’نئی زندگی‘ چلی جاتی ہے۔ دو راتوں کے بعد ایک اور گھر سے فرار ہونے والی سولہ سالہ لڑکی چاچا کے بستر پر ہوتی ہے اور وہ بھی کچھ نہیں کہہ پاتی اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔

اس فٹ پاتھی خاندان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور اب پپو سینئر ممبر بن چکا ہوتا ہے، اس کی اہمیت بھی اب پہلے کی نسبت زیادہ ہو جاتی ہے۔ چاچا نہیں چاہتا کہ ’نئی زندگی‘ کے لوگ اُن کے پاس آئیں اس لیے وہ پپو اور پوتنی دا کو کہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ لوگ ادھر آئیں تم دونوں جا کر اُن سے کھانا لے آؤ۔ عمران جو نئی زندگی کا نمائندہ ہے اور جس نے سیاہ رنگ کی لیدر جیکٹ پہنی ہوئی ہے، وہ ان دونوں کو کھانا دینے سے انکار کر دیتا ہے، وہ دونوں مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے واپس آ جاتے ہیں۔

*اگلاصفحہ