پپو بوریت کو دور کرنے کیلئے شراب کی الماری کی طرف بڑھتا ہے مگر پھر اُس کے پاس سے گزر کر فریج میں سے ایک اور شراب کی بوتل نکال لیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ امیر لوگوں کی ایک اچھی عادت یہ ہے کہ وہ ہر چیز ڈھیروں ڈھیر خریدتے ہیں۔ فریج میں ہر قسم کی شراب موجود تھی۔ یہ فریج صرف اسی مقصد کیلئے استعمال ہوتا ہے اور کچن سے ملحقہ کمرے میں رکھا گیا ہے۔ اتنی بوتلیں دیکھ کر پپو مطمئن ہو جاتا ہے۔ شراب اب اس کا اوڑھنا بچھونا بن چکا ہے وہ اپنے ہر احساس کو شراب سے پورا کرنے کا عادی ہو چکا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اتنی زیادہ شراب موجود ہے کہ اُسے فکر کرنے کی ضرورت نہیں!

پپو لِونگ روم میں نہیں بیٹھتا کیونکہ وہ کچھ دیر کیلئے پرانی یادوں سے پیچھا چھڑوانا چاہتا ہے، اس لیے وہ سوئمنگ پول کے پاس ایک میز پر بیٹھ جاتا ہے۔ پپو چاہتا ہے کہ اُسے بار بار اُٹھ کر اندر نہ جانا پڑے اس لیے وہ پلاسٹک کے ایک برتن میں برف کے کافی ٹکرے بھی رکھ لیتا ہے۔ اُس کا مقصد صرف وقت گزاری ہے۔ جلد ہی وہ مدہوش ہو جاتا ہے۔ تقریباً صبح کے دس بجے اُس کی آنکھ کھلتی ہے۔اس کا منہ خشک ہوتا ہے اور سر درد سے پھٹ رہا ہوتا ہے کرسی پر ٹیک لگائے وہ کافی تھکن محسوس کرنے لگتا ہے۔ اب اُسے سلطان پر بھی غصہ آتا ہے۔ پپو سوچتا ہے کہ سلطان بہت ہی مطلبی شخص ہے جو اس سے وقت گزاری کر رہا ہے۔ یکایک اسے سر میں ٹیسیں اُٹھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ سوچتا ہے رات کو تو شراب بہت مزہ دیتی ہے لیکن صبح اٹھتے ہی بُرا حال کیوں ہوتا ہے۔ ناشتے کے خیال سے اسے متلی ہونے لگتی ہے۔ وہ بہت سا پانی پیتا ہے۔ گرم پانی سے نہانے کے بعد اُس کی طبیعت بحال ہونے لگتی ہے۔ کافی کا ایک کپ پینے کے بعد وہ بہتر محسوس کرنے لگتا ہے۔

’’اس زندگی کا کیا بنے گا؟‘‘ یہی سوچتے ہوئے وہ ویڈیو گیم میں سے کیسٹ نکال کر باہر لے جاتا ہے اور ایک پتھر مار کر اُسے توڑ دیتا ہے۔ وہ کیسٹ کے ٹکڑوں کو کچن کے کوڑے کے ڈبے میں ڈال کر، کچن میں ناشتے کیلئے چلا جاتا ہے اور پھر خاموشی سے اپنے کمرے میں آ کر لیٹ جاتا ہے۔

’’ارے یار، پپو ذرا بات سنو‘‘ ٹھیک پانچ منٹ کے بعد پپو کو سلطان کی آواز سنائی دیتی ہے۔
پپو سلطان کے پاس جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ چیزیں سنبھال رہا ہے۔
’’ہمیں گھر کی صفائی کو صرف ملازمہ پر ہی نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘پپو پر نظر پڑتے ہی سلطان کہتا ہے۔
’’ہاں، ضرور‘‘ یہ کہتے ہوئے پپو بھی سلطان کے ساتھ ہاتھ بٹانے لگتا ہے۔
’’ارے یار، کیا تم نے ویڈیو گیم کی کیسٹ کہیں دیکھی ہے؟‘‘ سلطان پوچھتا ہے۔

’’ہاں میں بھی اُسے تلاش کر رہا تھا‘‘ پپو جھوٹ بولتے ہوئے کہتا ہے۔
’’میرا خیال ہے، جمی اپنے ساتھ لے گیا ہو گا۔ انسان کسی کا بھی اعتبار نہیں کر سکتا خصوصاً فورٹ روڈ سے آنے والوں پر‘‘ پپو صفائی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے ’’تمہیں معلوم ہے میں اُن لڑکوں کی طرح نہیں ہوں، خیر ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، کہیں وہ اُس کے علاوہ تو کچھ نہیں لے کر گیا، شاید اُسے گھر میں لانا میری غلطی تھی۔ میں نے اُسے ایک اچھا لڑکا سمجھا تھا۔۔۔خیر کیسٹ چوری کرنے کی کوئی نہ کوئی خاص وجہ تو ہو گی اُس کے دل میں!‘‘، پپو اپنی بات جاری رکھتا ہے۔

*اگلا صفحہ