پپو گھر سے چرائی ہوئی کافی رقم ساتھ لاتا ہے اور کسی ہوٹل میں قیام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ چنیوٹ بازار فیصل آباد کے اُن سات بڑے بازاروں میں سے ایک ہے جو گھنٹہ گھر کے پاس ہیں وہ چنیوٹ بازار کے ’نور ہوٹل‘ میں جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔

پپو چنیوٹ بازار سے کئی دفعہ گزرا تھا لیکن نور ہوٹل میں رہائش کرنے کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں اور اب اس کی ضرورت اُس کو یہاں کھینچ لائی تھی۔ نور ہوٹل پہنچنے پر پپو دیکھتا ہے کہ اُس کی دیواروں سے جگہ جگہ پینٹ اُکھڑا ہوا ہے، ٹیوب لائٹس ٹوٹی ہوئی ہیں اور ہوا میں جھُول رہی ہیں۔ استقبالیہ کے شیشے والے کیبن میں ایک چھوٹی سی کھڑکی ہے اور استقبالیہ کے بائیں جانب سیڑھیاں اوپر دوسری منزل کی طرف جارہی ہیں۔

پپو سوچتا ہے کہ وہ چند دن کے لیے کوئی کمرہ کرائے پر لے لے اور پھر اُس میں بند ہو کر بیٹھ جائے۔ پپو دل ہی دل میں ڈر رہاہے۔ اُس کی یہ پریشانی عروج پرہے کہ کہیں کسی کو شبہ نہ ہو جائے کہ وہ گھر سے بھاگا ہوا ہے۔ وہ ہمت کر کے استقبالیہ کلرک کی طرف بڑھتا ہے۔پپوشیشے کے کیبن میں موجود ادھیڑ عمر شخص کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ شخص اخبار پڑھنے میں مگن ہے اور پپو کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔ پپو زور سے شیشہ کھٹکھٹاتا ہے جس پر وہ شخص ناگواری سے پپو کی طرف دیکھتا ہے۔

’’مجھے ایک کمرہ چاہئیے‘‘ پپو سہمے ہوئے انداز میں اپنا مدعا بیان کرتا ہے۔

’’کیا تم فیصل آباد کے رہنے والے ہو؟ میں فیصل آباد کے رہائشی کو کمرہ کرائے پر نہیں دیتا‘‘ اُس شخص نے ناپسندیدہ انداز میں پپو کو گھورتے ہوئے بتایا۔

’’لاؤ اپنا شناختی کارڈ دکھاؤ‘‘ وہ شخص اپنا ہاتھ شیشے کے کیبن سے باہر نکالتا ہے۔

’’میں شیخوپورہ سے آیا ہوں‘‘ پپو جھوٹ بولتا ہے۔

یہ سن کر وہ شخص کہتا ہے کہ صدرِ پاکستان کی آمد متوقع ہے اس لیے کوئی بھی کمرہ کرائے پر نہیں دیا جا رہا۔ یہ سن کر پپو اُس سے بحث کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آخر تنگ آکر وہ شخص پپو کی بے عزتی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اسی وقت ہوٹل سے نکل جائے۔ پپو کو بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ گھر ہی صرف ایسی جگہ ہے جہاں مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے اور گھر سے بھاگنے والے اسی طرح ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔
’’یہ دیکھو، میں یہ ساری رقم تم کو دے دوں گا، بس مجھے ایک کمرہ دے دو۔۔۔‘‘ پپو اپنی جیب میں سے ایک بڑی رقم نکال کر اُس شخص کودکھاتاہے۔

اتنی بڑی رقم دیکھ کر بھی وہ شخص پپو کو کمرہ دینے پر رضامند نہیں ہوتا اور اسے بتاتا ہے کہ اس سے پہلے بھی اسی طرح ایک لڑکا اُس کا ٹی وی اور دو کرسیاں چُرا کر بھاگ گیا تھا۔ پپو کو اس کے اس رویے پر بہت غصہ آتا ہے مگر وہ بے بس ہوتا ہے اس لیے ہوٹل سے باہر کی طرف چل پڑتا ہے۔

*اگلا صفحہ