جمی اور پپو ایک ٹیکسی پر سوار ہوتے ہیں۔ فورٹ روڈ پر پہنچ کر ٹیکسی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں ٹیکسی مشہور ریسٹورنٹ کُکوزڈین کے سامنے رُک جاتی ہے۔ یہ ریسٹورنٹ آج کل لاہور کی اشرافیہ میں بہت مقبول ہے۔
’’میرا ریسٹورنٹ میں جانے کا واقعی کوئی موڈ نہیں ہے‘‘ پپو دلبرداشتہ انداز میں جمی کو بتاتا ہے۔
’’ہمیں راوی کے پُل پر اُتار دو‘‘جمی ڈرائیور سے کہتا ہے۔

ڈرائیور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط سائیڈ سے کٹ مار کے مین روڈ کی طرف آ جاتا ہے۔ راوی پُل پر پہنچ کر جمی ٹیکسی ڈرائیور کو رکنے کیلئے کہتا ہے اور سلطان کے دئیے ہوئے پیسوں میں سے ٹیکسی کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ پپو ٹیکسی سے اُتر کر کھلے آسمان تلے آ جاتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا اُس کے دماغ سے سارا نشہ کافور کر دیتی ہے۔ نشہ اترتے ہی پپو کو سلطان کی حرکتیں یاد آنے لگتی ہیں اور وہ دل ہی دل میں اسے برا بھلا کہنے لگتا ہے۔

تھوڑی دیر پیدل چلنے کے بعد وہ دونوں ایک بہت خوبصورت عمارت کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ پپو نے یہ جگہ پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ایک خوبصورت باغ کے سامنے کھڑا پپو وقتی طور پر اپنا رنج بھول گیا ہے۔ جمی بتاتا ہے کہ یہ مشہورِ زمانہ مغل بادشاہ جہانگیر کا مقبرہ ہے۔ دونوں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اُس عمارت کے پاس آ جاتے ہیں جو کہ سرخ پتھر اور سفید سنگِ مر مر کے امتزاج سے تعمیر کی گئی ہے۔

’’ ایک شوگر ڈیڈی پہلی دفعہ مجھے یہاں لے کر آیا’’جمی نے پپو کو بتایا‘‘اور یہاں اُس نے مجھے کپڑے اتارنے پر مجبور کیا تھا۔ جب میرے ساتھ یہ سب ہوا تو میں نے سوچا کہ یہ دنیا اتنی خوبصورت نہیں ہے جتنی کہ نظر آتی ہے۔‘‘ جمی جھاڑیوں کی طرف اشارہ کر کے بتاتا ہے۔

’’کیا میں اپنی زندگی کی گندی حقیقت سے نکل کر پانچ منٹ کیلئے بھی اس خوبصورتی سے محظوظ نہیں ہو سکتا؟‘‘ پپو گہری سوچ میں پڑ جاتا ہے۔

’’خیر جانے دو پرانی باتوں کو، یہ بندہ سلطان جس کے ساتھ تم آج کل رہتے ہو، اسے میں نے بھی برگر والی جگہ پر دیکھا ہے۔ کوئی بھی اس کے پاس تین مہینے سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتا۔ جب اس کا دل بھر جاتا ہے تو ہر چوزے کا دانہ پانی اُٹھ جاتا ہے۔ تمہیں بھی بہت سمجھداری کے ساتھ سب حالات کو سمجھنا ہے‘‘ جمی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے۔

وہ دونوں باتیں کرتے کرتے مینار کے بلند ترین حصے پر آ جاتے ہیں۔ اتنی اونچائی سے آس پاس کی آبادی کس قدر صاف و شفاف دکھائی دیتی ہیں، ’’پپو کہتا ہے‘‘، ’’انسانوں کے اجلے اور میلے پن کا پتا بھی صرف قریب آنے سے ہی چلتا ہے۔ اُن کی خوشبو اور بدبو بھی قربت میں ہی پہچانی جا سکتی ہے، دور کے ڈھول تو سہانے ہی ہوتے ہیں۔‘‘

*اگلا صفحہ