’’یار جمال! ایک کوک تو پلاؤ ‘‘پپو ریسٹورنٹ کے پرآسائش صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہتا ہے۔
ویٹر جمال کیلئے ٹھنڈی کوک لے کر آتا ہے۔ کوک پینے کے بعد پپو اپنی جیبوں کو ٹٹولتا ہے۔
’’کوئی بات نہیں، بل میں دوں گا۔‘‘ پپو کو جیبیں ٹٹولتے ہوئے دیکھ کر کہتا ہے۔
’’تھینک یو!، جمال‘‘ اور پپو بار میں گھومنا پھرنا شروع کر دیتا ہے۔
اب تک پپو چھ کوک پی چکا ہے، پہلی پانچ بوتلیں وہ کسی اور بار سے پی کر آیا ہے۔ کُم کُم سنیک بار میں گاہک ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ پُر اسرار ریسٹورنٹ جہاں شراب بھی دستیاب ہو، پپو کو بہت پسند ہیں اور ککوزڈین سے تو اُسے دلی لگاؤ ہے۔ پپو یہاں پر اپنی قسمت آزمانے آتا ہے۔

اچانک اسے ڈانس پارٹی والی چاروں لڑکیاں نظر آتی ہیں انہیں دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے۔ پپو اُن سے فری ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ اسے لفٹ نہیں کراتیں۔ پپو لمبی آہیں بھرتا ہے اور اپنے صوفے پر بیٹھے بیٹھے اپنے پیروں کو زور زور سے زمین پر مارتا ہے۔ وہ سخت بے چین اور شرمندہ نظر آتا ہے۔ آج ہفتے کی شام ہے لیکن ریسٹورینٹ میں وہی باسی چہرے نظر آتے ہیں جو روز یہاں پڑے رہتے ہیں۔

ابتداء میں جب کرینہ نے پپو کو نوکری نہ ہونے پر اپنے اپارٹمنٹ سے نکال دیا تھا تو وہ اِس جگہ وقت گزارنے اور شکار پھانسنے کیلئے آتا رہتا تھا۔ ہفتے کی شام کو یہ جگہ نوجوان لڑکیوں سے بھری ہوتی ہے لیکن آج پپو کو کوئی بھی لفٹ کرانے پر آمادہ نہ تھی۔ زیادہ تر لڑکیاں پپو کی زیرِ لب مسکراہٹ سے باخبر ہیں اور اس کی اوقات جانتی ہیں۔ لوگ نیون سائن بورڈز کی رنگ برنگی روشنیوں کے عادی ہو چکے ہیں۔ ریسٹورنٹ میں اکثر تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی۔ پپو اس چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں لوگوں سے ٹکراتا رہا۔ کبھی کبھار تو اُسے اپنا شکار مل جاتا لیکن کبھی وہ چکمہ بھی کھا جاتا۔ اب وہ وقت گزر چکا تھا جب لڑکیاں پپو کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیتی تھیں اور اسے ساتھ لے جانے کیلئے پوچھتی تھیں۔

تھوڑی ہی دیر میں اس نے اپنی بے قدری کی پرواہ کرنا چھوڑ دی اسے ایسا لگنے لگا کہ جیسے سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔ اسے احساس ہو گیا کہ وہ یہاں اس لیے آتا ہے کیونکہ اس ریسٹورنٹ کا ڈرگ ڈیلر اور کم کم سنیک بار سے گہرا ربط ہے۔
پپو کی آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ چکے ہیں اور وہ عمر میں بھی بڑا لگ رہا ہے۔ گزرے ہوئے دنوں میں وہ شراب کے نشے میں دھت چنچل لڑکیوں کے چنگل میں پھنسا رہتا تھا۔ پر وہ سب کچھ ماضی کا قصہ تھا۔ وہ کچھ دیر کیلئے سکھ کا سانس لیتا ہے اور پھر سے پرانی تلخ یادوں کو ٹٹولنے لگتا ہے۔

’’بہتر ہے کہ تم چلے جاؤ، میں تمہیں ریسٹورنٹ سے باہر کہیں ملوں گی۔‘‘ایک لڑکی پپو کو ماضی کے جھروکوں سے نکالتے ہوئے کہتی ہے، ’’اپنا سیل فون آن رکھنا۔‘‘ پپو اب بہت گِر چکا ہے۔ پپو خیال کرتا ہے کہ اگر اُسے بہت سارے پیسے مل جائیں تو وہ اُس کے عوض کچھ بھی کر سکتا ہے، اس مقصد کیلئے پپو ہر قسم کے لوگوں کیلئے اپنی خدمات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ پیسے میں کھیل سکے۔ وہ کئی راتیں جمال کے ساتھ ہی گزارتا ہے۔

*اگلا صفحہ