رات ڈھل چکی ہے۔ پپو دوبارہ فورٹ روڈ پر چلا جاتا ہے۔ وہ کسی کار سوارکو الو بنانے کا سوچتا ہے۔ وہ اس کے نتائج سے بخوبی واقف ہے تاہم وہ ایسے کاموں کا عادی ہو چکا ہے اور اُسے اب نتائج کی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ شدید غصے اور بھوک کی حالت میں ہے، اگرچہ وہ نہیں جانتا کہ اسے غصہ زیادہ ہے یا بھوک، تاہم وہ بھوک مٹانے کیلئے کسی کو چونا لگانے کا کام فوری کرنا چاہتا ہے۔
چند لمحوں بعد میرون رنگ کی کرولا پپو کے پاس آکر رُکتی ہے۔ ایک تیس سالہ دُبلا پتلا شخص اُس کو گاڑی میں بیٹھنے کو کہتا ہے۔

’’سلیم داد کیا حال ہے، میرے پیٹ میں چوہے دوڑرہے ہیں، چلو میکڈونلڈز چلیں۔‘‘پپو ہاتھ ملاتے ہوئے کہتا ہے۔
’’ہاں ہاں، کیوں نہیں‘‘ سلیم داد پپو کی ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر جواب دیتا ہے۔
’’ میکڈونلڈز میں تو میری جان ہے‘‘ پپو باہر بینچ پر بیٹھی ڈمی دیکھتے ہوئے کہتا ہے۔
’’تم جو کھانا چاہتے ہو منگوا لو، تکلف کی ضرورت نہیں‘‘ سلیم داد فیاضی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

پپو چار چکن برگر اور بڑی کوک منگواتا ہے۔ آرڈر کرنے کے بعد وہ خاموشی سے کھانے کا انتظار کرتا ہے۔ سلیم داد کاؤنٹرپر بل ادا کرتا ہے اور پپو کو بیگ پکڑا دیتا ہے۔ وہاں پر ہر قسم کے لوگ آ جا رہے ہیں۔ پپو کو کوئی اور آسان شکار نہیں ملتا، اسی لیے وہ برگر کھاتا رہتا ہے۔

’’میری بیوی اچھی عورت نہیں ہے۔ ہر کوئی مجھے وہی تین سالہ پرانا فلم ڈائریکٹر سمجھتا ہے‘‘۔ وہ پپو سے کہتا ہے، ’’ جب تم کھانا کھا لو تو بیئر کاایک کریٹ لا دینا۔‘‘

سلیم داد کھانا کھاتے ہوئے پپو سے اپنی پریشانی کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ اپنی بیوی کے ساتھ اس کا رشتہ روگ بن چکا ہے۔ وہ اسے چھوڑنا چاہتا ہے کیونکہ اُس نے ازدواجی زندگی عذاب بنا رکھی ہے لیکن چھوڑ بھی نہیں سکتا کیونکہ ماضی میں بہت سی خوشگوار یادیں دامن پکڑ لیتی ہیں، پھر پانچ بچوں کا مستقبل خراب ہونے کا ڈر بھی جو اسے ارادے سے باز رکھتا ہے۔

پپو دیکھتے ہی دیکھتے سب برگر چٹ کر جاتا ہے۔ سلیم داد اسے بیئر کی یاد دلاتا ہے۔ پپو فرنچ فرائز کا صفایا کرتے ہی اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور آواری ہوٹل جانے کا پروگرام بناتا ہے۔ آواری پہنچتے ہی دونوں بار کا رُخ کرتے ہیں۔
’’کیوں نہ ہم آج سکاچ وہسکی سے شغل کریں‘‘آواری بار کے ایک کونے میں پہنچ کر سلیم داد پپو سے کہتا ہے۔
وہ اپنی پسند کی خریداری کرنے کے بعد آواری ہوٹل کی پارکنگ میں آ جاتے ہیں اور گاڑی میں بیٹھ کر شراب کے کئی جام لنڈھانے لگتے ہیں۔ پپو کو موقع ملے تو جانے نہیں دیتا، کیونکہ اُس نے سُن رکھا ہے کہ مفت کی شراب تو قاضی کو بھی حلال ہوتی ہے۔ سلیم داد گاڑی سٹارٹ کرتا ہے اور گاڑی خراماں خراماں آواری کے گیٹ سے باہر نکل جاتی ہے۔ سلیم داد پپو کو 500 روپے کا نوٹ پکڑاتا ہے اور گاڑی سے اتر جانے کو کہتا ہے۔ پپو اُس سے شملہ پہاڑی تک چھوڑنے کیلئے کہتا ہے۔ سلیم داد کو چڑھ چکی ہے اور وہ تلخ ہو چکا ہے۔ وہ پپو کو جھڑک دیتا ہے۔

پپو نشے میں دھت ہو چکا ہے، یہاں تک کہ اُس سے بولا بھی نہیں جاتا لیکن وہ زور لگا کر بولتا ہے اور سلیم داد کو گالی دیتا ہے اور ہاتھ سے اُسے پرے دھکیلتا ہے۔ گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے رہ جاتا ہے۔ سلیم داد اُسے طیش میں پرے دھکیلتا ہے اور ہاتھ بڑھا کر دورازہ کھول دیتا ہے۔ پپو چلتی گاڑی سے باہر جا گرتا ہے۔ شدید سردی میں یکدم اُسے خونی اُلٹیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں اور جسم ٹھنڈا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ کسی کی توجہ اُس پر پڑتی، سانسوں کی ڈور ٹوٹ گئی اور وہ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گیا۔

صبح کا سورج سست روی سے اپنی اڑان بھر رہا تھا، کچھ بھوک کے مارے بچے کھانے کی تلاش میں شملہ پہاڑی کے نزدیک میکڈونلڈز کے عقب میں کوڑے کے ڈھیر سے پپو کی لاوارث لاش کو دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔

* لنک47 پر جائیے۔