بلڈنگ کی آڑ میں پاؤڈر سونگھنے کے بعد پپو ہوش کھو بیٹھتا ہے۔
’’تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ وہ نوجوان اپنی جینز کی زپ بند کرتے ہوئے کہتا ہے۔ وہ لمبے بالوں والا نوجوان قریباً چالیس کے لگ بھگ ہو گا۔

’’کسی کام کو اچھے طریقے سے کرنا ہی سب سے بڑی بات ہے۔‘‘وہ نوجوان پپو کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔’’جلدی سے مجھے یہاں سے نکالو اور میرا سودا بھی مجھے دو‘‘ وہ پپو سے الجھنے کے انداز میں بات کرتا ہے۔

’’تمہاری چیزیں گیس ٹینک میں ہیں اور وہ تمہاری سائیڈ پہ ہے اُتر کے لے لو، اس جگہ میں تمہیں نہیں دے سکتا۔۔۔‘‘پپو جواب دیتا ہے۔ وہ نوجوان اپنا سامان نکال کر رفو چکر ہو جاتا ہے۔

جھاجھو کے یوں غائب ہونے سے پپو بہت اکیلا پن محسوس کرتا ہے۔ پپو کی چال بے ڈھنگی، جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔ منشیات فروشی، جسم فروشی، چار پیسے ملنے چاہئیں، اسے کسی چیز پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ آج بھی وہ اسی مشن پر تھا، بادشاہی مسجد کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر وہ سوچوں میں گم ہے کہ ایک سفید رنگ کی ہونڈا کار اُس کے پاس آ کر رُکتی ہے۔ بھاؤ تاؤ ہونے لگتا ہے۔

تھوڑی دیر کے بعد فورٹ روڈ سے وہ دونوں شاہدرہ کی طرف جاتے ہیں۔ راوی کے پُل پر ٹول پلازہ کراس کرنے کے بعد پپو اُس شخص کو گاڑی روکنے کیلئے کہتا ہے۔ وہ گاڑی سے باہر نکلتا ہے تو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بہت بھلا لگتا ہے۔ اس جگہ سے اُسے تقریباً آدھے لاہور کا منظر نظر آ رہا ہے۔ تھوڑی دیر میں سورج بھی نکل آئے گا۔

پپو گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ لاک ہے۔ گاڑی زناٹے سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ ایک دم پپو کو سمجھ نہیں آتا کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ جلد ہی دُھول اور مٹی بیٹھ جاتی ہے پھر چاروں طرف خاموشی چھا جاتی ہے۔’’ اب غصہ کرنے سے کیا فائدہ؟ اُسے پہلے ہی محتاط ہونا چاہئیے‘‘، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ سوچتا ہے،’’ اُسے پیسے لئے بغیر گاڑی سے اترنا ہی نہیں چاہئے تھا‘‘۔ وہیں ریسٹورنٹ کے آس پاس ہی رہتا تو اچھا تھا۔ جو جھک مارنی تھی وہیں مار لیتا۔ چلتے چلتے پپو کو عجیب و غریب خیالات آتے ہیں۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ کسی کو مار دے، کبھی دل چاہتا ہے اپنا ہی سر دیوار میں پھوڑ لے۔۔۔
ایک گھنٹے بعد وہ نیازی چوک کراس کر رہا ہے۔ صبح صبح کا وقت ہے، بہت زیادہ رش ابھی نہیں ہے۔ کچھ لوگ سواریوں کے انتظار میں بس سٹاپ پہ کھڑے ہیں۔ کچھ لوگ ٹمبر مارکیٹ کی طرف سے آ رہے ہیں، انہی کے درمیان پپو کو جھاجھو نظر آتا ہے۔

پپو تیزی سے بھاگ کر جھاجھو کی طرف لپکتا ہے، گلے ملتا ہے اور پوچھتا ہے کہ وہ جیل سے کب رہا ہوا۔
’’تقریباً ایک ماہ پہلے۔‘‘ جھاجھو جواب دیتا ہے ۔

پپو یہ جواب سن کر حیران ہوتا ہے، وہ سمجھتا تھا کہ جھاجھو اُس کا بہت اچھا دوست ہے مگر اب اُسے لگتا ہے کہ وہ کسی پہ یقین نہیں کر سکتا۔ پپو جھاجھو کو اپنی کہانی سناتا ہے اور پھر اُس کی کہانی سنتا ہے۔ جھاجھو بتاتا ہے کہ اُسے ایک لڑکا جیل میں ملا تھا جس کا نام لَکی ہے وہ اُسے اپنے ساتھ ہی لے گیاتھا۔ لَکی کے دوست کا کال سینٹر ہے جس میں لَکی کام کرتا ہے۔ کال سینٹر لبرٹی کے قریب پاک ٹاور میں ہے۔ وہ پیسے اچھے دے رہے ہیں اس لیے جھاجھو نے بھی وہاں کام کرنا شروع کر دیا اور رہنے کیلئے جھاجھو لَکی کا فلیٹ استعمال کرتا ہے۔

*اگلا صفحہ