’’ارے دیکھ کے‘‘ ایک جھاڑی سے لڑکی کی آواز آتی ہے۔
پپو رفع حاجت کیلئے جھاڑی کی طرف بڑھتا ہے، آواز سن کے چونک جاتا ہے اور اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھنے لگتا ہے۔ اُسے ایک خوبصورت لڑکی دکھائی دی جو غصے سے اُس کی طرف دیکھ رہی ہے۔ وہ لڑکی دیکھنے میں خوبصورت ہے مگر اس وقت تو وہ پپو ہی کی طرح گند ی مندی سی لگ رہی ہے۔

’’ اس طرح جھاڑی میں سونا ٹھیک نہیں ہے ویسے بھی یہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔‘‘پپو اُسے کہتا ہے۔
’’ میں کسی کے گھر سے بھاگ کر آئی ہوں جو مجھے یرغمال بنا کر رکھنا چاہتا تھا۔‘‘ جواب میں وہ لڑکی کہتی ہے،’’ میں اپنی مرض کے خلاف کسی کو کچھ نہیں کرنے دیتی!‘‘
’’لڑکیوں کیلئے سڑک پہ رہنا بہت تکلیف دہ ہو سکتا ہے، یہاں وہ بار بار اذیت سے دوچار ہو سکتی ہے۔ خیر اگر میں کچھ مدد کر سکوں تو ضرور بتاؤ‘‘۔پپوکو لڑکی کی بہت فکر ہو رہی تھی ۔

’’یہ تم کہہ رہے ہو؟ جاؤ اور اپنے آپ کو بیچ کر کچھ پیسے اکٹھے کرو‘‘۔ لڑکی ترکی بہ ترکی جواب دیتی ہے،’’ تم جیسے چکنے لڑکے کسی کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔‘‘

پپو دل ہی دل میں غرق ہو گیا۔ ہیرو بننے کا اسے ہمیشہ سے ہی شوق تھا لیکن اس کی یہ تمنا کبھی نہ پوری ہو سکی۔’’ معلوم نہیں تم اپنے آپ کو کیا سمجھتی ہو؟‘‘پپو نے بھڑک کر جواب دیا۔
’’تم کیوں نہیں یہ دھندہ کرتی؟‘‘۔ پپو نے پوچھا۔
’’کیونکہ مجھے آج ایک ٹرک میں اغواء کیا گیا اور آٹھ لوگوں نے اجتماعی زیادتی کی جس سے میں چلنے کے قابل بھی نہیں رہی‘‘ لڑکی صفائی پیش کرتی ہے ۔

پپو دل ہی دل میں بہت شرمندہ ہوتا ہے اور اُسے ہسپتال جانے کا مشورہ دیتا ہے مگر وہ لڑکی مشورہ ماننے سے انکار کر دیتی ہے۔
’’تمہیں پھر بھی پولیس کی مدد لے لینی چاہئیے۔‘‘ پپو اپنے مفت کے مخلصانہ مشورے جاری رکھتا ہے۔
لڑکی پھر بھی راضی نہیں ہوتی۔ پپو اُس کے لیے افسردہ ہو جاتا ہے، وہ ہر قیمت پر اُس کی مدد کرنا چاہتا ہے مگر کوشش کے باوجود وہ اُس کی بات نہیں مانتی۔ پپو جانے کے ارادے سے واپس پلٹ جاتا ہے۔ پپو کو احساس ندامت ہونے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کسی بے سہارا لڑکی کو اس حالت میں چھوڑکر چلے جان کتنی بڑی زیادتی ہے۔ یہ سوچ پپو کو ایک نئی توانائی بخشتی ہے ۔
’’میں ابھی آتا ہوں۔‘‘وہ اُس لڑکی کو مخاطب ہو کر کہتا ہے ۔

پہلے وہ سوچتا ہے کہ خود ہی ایمبولیس منگوا لے لیکن پھر خود ہی اپنی اس سوچ کو پسِ پشت ڈال کر خود ہی میو ہسپتال لے جاتا ہے۔
پپو اُس لڑکی سے میو ہسپتال لے جانے کو کہتا ہے۔
’’یہ تو تبھی ہو سکتا ہے، اگر تم تھوڑے سے پیسے جمع کر لو کیونکہ میں بس پہ نہیں جانا چاہتی۔ ‘‘وہ کہتی ہے۔
دونوں ٹیکسی میں میو ہسپتال کی طرف جا رہے ہیں۔

ہسپتال کے پاس پہنچ کر وہ ڈرائیور کو سیدھے ہاتھ مُڑنے کا کہتی ہے اور اُسے گوالمنڈی کا راستہ بتاتی ہے۔
’’میں ہسپتال نہیں جانا چاہتی‘‘ گوالمنڈی پہنچ کر ایک سائیڈ پہ وہ ٹیکسی رکوا دیتی ہے اور پپو کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے۔

*اگلا صفحہ