پپو سوچتا ہے کہ دو منٹ پہلے وہ اس لڑکے کو مارنے کے درپے تھا لیکن اب وہ شرمندگی اور ندامت محسوس کر رہا ہے۔ اسے اپنے موڈ اور مزاج کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ کبھی شعلہ کبھی شبنم، یہ ہمیشہ سے اس کا مسئلہ ہے اور اسی سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ادارے کا نمائندہ موڈ اور مزاج کے اعتبار سے بہت متوازن تھا۔ وہ سامنے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پس منظر سے غافل نہ ہوتا تھا۔ عمران پپو کو لے کر اندر ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ جاتا ہے اور اسے سمجھاتا ہے کہ وہ بُرے کام چھوڑ دے اور عبادت کیا کرے۔ پپو کو دُنیا بہت پراسرار لگتی ہے۔ وہ انتہائی تذبذب کا شکار ہے اور پراگفتہ خیالات اس کے اردگرد منڈلا رہے ہوتے ہیں۔
’’مجھے عبادت نہیں کرنی ‘‘ پپو کہتا ہے۔

’’کیا کوئی اور تمہیں نماز پڑھنے کیلئے نہیں کہتا؟‘‘عمران ہنستے ہوئے پوچھتا ہے۔
’’نہیں، قطعاً نہیں‘‘ پپو کندھوں کو سکیڑتے ہوئے کہتا ہے۔
’’اچھا تو تم کتنے برس کے ہو؟‘‘وہ پپو کی طرف دیکھتا ہے، ’’اس سے پہلے کہ تم مجھے اپنی عمر کے بارے بتاؤ، میں بتانا چاہوں گا کہ پتہ نہیں کیوں ہر کوئی مجھ سے جھوٹ بولتا ہے۔ کچھ بچے جو عمر میں بڑے ہوتے ہیں، اپنی عمر سترہ برس بتاتے ہیں تاکہ اُن کو آسانی سے پناہ مل جائے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ہم اکیس سال تک کی عمر کے نوجوانوں کو داخل کرتے ہیں۔ پھر کچھ بچے جو عمر میں چھوٹے ہوتے ہیں اپنی عمر اٹھارہ سال بتاتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید چھوٹے بچوں کو واپس گھر والدین کے پاس بھیج دیا جاتا ہے، جو کہ سچ نہیں ہے۔‘‘ عمران بتاتا ہے۔

’’میں تو۔۔۔‘‘ پپو بات کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔
’’ایک منٹ۔۔۔ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی‘‘ عمران پپو کو ٹوکتے ہوئے کہتا ہے۔
’’تو میں تمہیں یہ بتا رہا تھا کہ ہر شخص کی کوئی نہ کوئی جگہ ہوتی ہے اور ہر مشکل کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے۔ ہم اسی منصوبے کے تحت ہر سال چار ہزار بچوں کو داخل کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ تمام مختلف مسائل کا شکار ہوتے ہیں لیکن اُن کا مناسب حل بھی ہمارے پاس موجود ہے۔‘‘ بالکل ایسے ہی جیسے ڈاکٹر کے پاس لوگ اپنی شکایات لے کر جاتے ہیں اور وہ اُن کیلئے مختلف دوائیں تجویز کرتا ہے۔ جیسے ہر مرض کی دوا ہوتی ہے اسی طرح گھر سے بھاگنے کے مرض کی دوا بھی ہوتی ہے جو سب کو تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ فائدہ پہنچاتی ہے۔ یہاں دوا سے مراد دوا بھی ہے اور کوئی دوسرا ممکنہ حل بھی۔

’’اچھا۔۔۔!‘‘ پپو ہنکارا بھرتا ہے۔
’’اوہ! میں تھوڑا سا وقت اور لوں گا، اس سے پہلے کہ تمہارے ساتھ کچھ معاملات طے ہوں، میں تمہیں سب کچھ بتا دینا چاہتا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ تم کسی بھی قسم کا الزام ہمیں دو۔ ہمیں یہاں جو کچھ بھی کرنا پڑتا ہے وہ اتنا آسان نہیں ہے چاہے ہم کتنی بھی نیک نیتی سے کام کریں اور کبھی کبھی ہماری کوششوں کے منفی نتائج بھی نکلتے ہیں۔‘‘ عمران ایک لمبی آہ بھر کر کہتا ہے۔

’’ابھی ایک بہت بڑا فرق باقی ہے، وہ بچے جو سترہ سال سے کم عمر کے ہوتے ہیں وہ کسی اور کی ذمہ داری ہوتے ہیں اُن میں والدین، سرپرست، حکومت یا سوشل ورکر یا کوئی بھی ادارہ ہو سکتا ہے۔ یہ بچے جب تک اٹھارہ سال کے نہیں ہو جاتے ان کو کوئی نوکری پر بھی نہیں رکھ سکتا اور قانونی طور پر یہ بچے کوئی کمرہ یا فلیٹ کرائے پر نہیں لے سکتے۔ اگر کوئی اُن کو نوکری پر رکھ لے یا کرایہ پر فلیٹ دے بھی دے تو کرایہ زیادہ ہوتا ہے اور تنخواہ کم۔ یہ سوائے مصیبت پالنے کے اور کچھ بھی نہیں ہے‘‘ عمران اپنی بات جاری رکھتا ہے۔

’’ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ کوئی سترہ سالہ لڑکا وہ آزادی حاصل کرے جو ایک بالغ کو حاصل ہوتی ہے لہٰذا تم ایسا کبھی سوچنا بھی نہیں، ورنہ تمہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر تم سترہ سال سے کم عمر کے ہو تو تمہیں ہمیشہ مدد ملے گی۔ اگر تم گھر سے بھاگے ہوئے ہو اور پولیس سٹیشن جاتے ہو تو وہ تمہاری مدد ضرور کریں گے۔ اگر تم اٹھارہ برس کے ہو جاتے ہو تو بلوغت کی وجہ سے بہت سے مسائل کا حل نکل آتا ہے۔ اٹھارہویں برتھ ڈے کے بعد پریشانی اور ذہنی انتشار کم بھی ہونا شروع ہو جاتا ہے‘‘ عمران بات کرتے ہوئے سانس لینے کیلئے رُکتا ہے۔

*اگلا صفحہ