پپو کا غصہ کسی صورت ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔ عمران نے اسے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس دینا چاہا لیکن اسے نے صاف انکار کر دیا۔ عمران نے دوبارہ کوشش کی تو پپو نے ہاتھ مار کر گلاس زمین پر گِرا دیا۔ شیشے کا گلاس کرچی کرچی ہو کر بکھر گیا۔

’’میں تمہیں سبق سکھا دوں گاا ور تمہیں یہاں سے نکال دوں گا کیونکہ تم کسی کیلئے کچھ بھی نہیں کرتے، تم ہو سب سے بڑے حرامی، میں تمہیں دیکھ لوں گا!‘‘ پپو مسلسل غصے میں آپے سے باہر ہو رہا تھا۔ عمران نے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا جس نے 15 پر پولیس کو کال کر دی اور پپو کی باتوں کا جواب دینا چھوڑ دیا۔ پپو مسلسل دھمکیاں دیتا رہا۔ یہ دیکھ کر کہ اب کوئی مزاحمت نہیں کر رہا، پپو نے اندر جانے والے دروازے کو ٹھڈے مارنے شروع کر دئیے۔ دروازہ بند تھا۔ پپو کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے؟ اُس کا پارہ چڑھتا جا رہا تھا۔ پپو اچانک اٹھا، آگے بڑھا اور عمران کو گریبان سے پکڑ لیا، عین اسی وقت پولیس کا ایک سب انسپکٹر دو سپاہیوں کے ہمراہ ہال میں داخل ہوتا ہے اور پپو پر جھپٹتا ہے ۔ تینوں مل کر پپو کی دھنائی کرتے ہیں اور گھسیٹتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

وقت گزرتا رہتا ہے۔اچانک ایک دن ڈاکیا عمران کے ہاتھ میں ایک خط دیتا ہے۔
پیاری شبو!

مجھے اُمید ہے کہ تم مجھے معاف کر دو گی۔ میں نے جو کچھ بھی کیا اُس پر میں کھلے دل کے ساتھ معذرت چاہتا ہوں میرے بارے میں سوچتے ہوئے ترشی اور کڑواہٹ کے علاوہ تمہیں کچھ اور محسوس نہیں ہوتا ہو گا۔ میں نے زندگی میں بہت برے کام کئے اور بے حساب ٹھوکریں بھی کھائیں۔ غلط فیصلے کئے اور غلاظت سے لتھڑ گیا، لیکن میں قطعاً حقیقت میں ایسا آدمی نہیں ہوں جیسا کہ تم سوچتی ہو گی۔ اپنی تمام تر قباحتوں اور بے راہ روی کے باوجود میرا دل محبت سے خالی نہیں ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ میں تم سے اور اپنے بچے سے محبت کرتا ہوں اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔ چاہے تم مجھے اس خط کا جواب دو یا نہ دو میں کوئی گلہ و شکوہ نہیں کروں گا۔ دراصل میں نے اکثر موقعوں پر اپنے گریبان میں جھانکنا سیکھ لیا ہے۔ قید خانہ میں رہ کر میں اتنا بدل چکا ہوں کہ مجھے اب یاد بھی نہیں پڑتا کہ اصل میں میری حقیقت کیا ہے؟ عجیب بات یہ ہے کہ مجھے اُن تمام لوگوں سے نفرت ہے جو مجھ سے مختلف ہیں، تاہم میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ مجھے زیادہ دیر تک اُن کے خلاف نہیں رہنا اگر میں ایسا نہیں کروں گا تو یقیناً پھر سے مشکل میں پھنس جاؤں گا۔مجھے اپنی بہت فکر ہے، بہرحال تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

میرے ذہن پر صرف تم اور میرا بچہ سوار ہے۔ مجھے تمہارے اور بچے کے بارے میں سوچتے رہنا اچھا لگتا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ میرا بچہ لڑکا ہے یا کہ لڑکی اور مجھے اس سے کچھ فرق بھی نہیں پڑتا، میں تو بس اپنے ’’خاندان ‘‘کو حقیقی معنوں میں زندگی کے خوبصورت رنگوں میں رنگ دینا چاہتا ہوں۔

میرے پاس پیسے نہیں ہیں کہ میں تمہیں بھجوا سکوں، جیسے ہی کوئی انتظام ہو گا میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہیں ضرور پیسے بھجواؤں گا۔ رات زیادہ ہو چکی ہے، میں تمہیں ہمیشہ چاہتا رہوں گا۔ اچھا شب بخیر!

نوٹ : میرے ساتھی کہتے ہیں کہ بچہ اب باتیں کرتا ہو گا سکول جانے کی تیاری کر رہا ہو گا۔ تمہیں یقین ہو یا نہ ہو بچے کو ہر رات یہ بات ضرور بتایا کرو کہ اس کا باپ اس سے بہت پیار کرتا ہے۔

* لنک47 پر جائیے۔