شبو دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی ہے تو دیکھتی ہے کہ پپو اپنے بازو پر ہیروئن کا ٹیکہ لگارہا ہے۔ شبو شدید ناراضگی کا اظہار کرتی ہے اور پپو کو کمرے سے نکال دیتی ہے، پپو اس کے اس روئیے پر پریشان ہو جاتا ہے، اسے شبو کا یہ رویہ کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ باہر کافی اندھیرا اور سردی ہے، پپو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا ہے اور جیب میں سے سرنج نکال کر سوئی بازو میں گھسیڑ دیتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں اس کا موڈ بدل جاتا ہے، وہ گُنگنانے لگتا ہے۔

دوسری طرف پوتنی دا اور اس کی نئی گرل فرینڈ ’گلابو‘ پپو کے کمرے میں موجود چپس، سینڈوچ، پیزا وغیرہ کھا رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ٹی وی دیکھ رہے ہیں۔ ’گلابو‘ بجلی کی طرح بدصورت نہیں ہے۔ شبو پوتنی دا اور گلابو کی طرف دیکھتی ہے جو اِردگرد کے ماحول سے بے خبر انجوائے کر رہے ہیں۔ شبو اُن کو چھوڑ کر باہر آ جاتی ہے۔ پپواب بھی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے نشے میں دھت بیٹھا ہے، اس کے بازو میں سرنج لگنے کی جگہ ایک سرخ لکیر سی نظر آرہی ہے۔ خون بہہ رہا ہے لیکن پپو کواس بات کی ہر گز کوئی پرواہ نہیں۔ شبو خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ جاتی ہے اور ٹک ٹک اس کی شکل دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد پوتنی دا اور گلابو کمرے سے نکلتے ہیں اور شبو کومخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’ ہم ذرا باہر گھوم پھر کر آتے ہیں‘‘۔ شبو اُن کی بات سنی ان سنی کر دیتی ہے اور وہ باہر نکل جاتے ہیں۔ شبو پپو کو سہارا دے کر اندر کمرے میں لے آتی ہے اور گدے پر لٹا دیتی ہے۔ یہ سب کچھ اسے اچھا نہیں لگتا، وہ یہاں سے چلی جانا چاہتی ہے لیکن یہ بات زبان پر لانے کی ہمت نہیں پڑتی۔ اپنی توجہ ہٹانے کیلئے ٹی وی دیکھنے لگتی ہے۔

صبح کے چار بجے دروازہ زور زور سے کھٹکتا ہے، پوتنی دا اور گلابو زور زور سے چلا رہے ہوتے ہیں کہ اُن کو اندر آنے دیا جائے۔ پپو سوچتا ہے کہ اسے جواب نہیں دینا چاہیے، وہ لوگ تنگ آ کر خود ہی چلے جائیں گے۔ پپو کے اندازے کے برعکس دروازہ پیٹنے کا شور مسلسل جاری رہتا ہے۔ شور شرابے سے بیزار ہو کر ہمسائے باہر نکل آتے ہیں اور لعنت ملامت کرنے لگتے ہیں۔ ہمسائیوں کا ہلہ گلہ بڑھتے دیکھ کر پپو سوچتا ہے کہ اس سے مشکل پیش آ سکتی ہے۔ پپو مجبور ہو کر پوتنی دا اور گلابو کو اندر آنے کیلئے کہتا ہے۔ تھوڑی دیر کی کچ کچ کے بعد سب سو جاتے ہیں اور خاموشی چھا جاتی ہے۔

دوپہر کو پپو کی آنکھ کھلتی ہے تو شبوغائب ہے۔ وہ الصبح پپو کے نام رقعہ لکھ کر جا چکی ہوتی ہے۔ رقعہ جس میں لکھا ہوتا ہے ۔

’’پپو! تم مجھے تلاش کرنے کی کوشش نہ کرنا، میں تمہیں کہیں نہیں ملوں گی۔ میں اپنے قدموں کے سارے نشان مٹا کر جا رہی ہوں۔ میں نے تمہیں کہا تھا کہ تمہیں نشہ چننا ہو گا یا پھر شبو کو، تم بظاہر کہتے رہے کہ تمہیں مجھ سے بہت پیار ہے، جبکہ کڑوا سچ یہ ہے کہ تم نشے کو ہی اپنا سب کچھ سمجھتے ہو۔ تمہارا رخ سورج مکھی کے پھول کی طرح ہمیشہ نشے کی طرف ہی رہتا ہے۔ نشہ ہی تمہارا خدا ہے۔ میں ایسے بندے کے پیچھے نہیں چل سکتی جو نشے کے پیچھے چلتا ہے۔ میں ایسی جگہ جا رہی ہوں جہاں سے تم چاہو یا میں چاہوں، میری واپسی ممکن نہیں ہو سکتی۔ تم غلط سوچ رہے ہو، میں مرنے نہیں جا رہی، مجھے جینے کی خواہش ہی دربدر لئے پھر رہی ہے۔ ایک دن میں وہ زندگی ضرور گزاروں گی جسے جینا کہتے ہیں۔ میرا دل چاہتا رہے گا کہ جب وہ دن آئے، صبح سورج کی کرنوں سے میری آنکھیں کھلیں تو تم میرے سامنے کھڑے ہو۔ خدا تمہیں غلط ارادوں سے باز رکھے۔
تمہاری شبو‘‘

*اگلا صفحہ